’بھولا اور پولا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھولا دل کا برا نہیں لیکن شروع سے اس کی عادت ہے کہ کرتا پہلے ہے سوچتا بعد میں ہے اور سوچنے کے بعد بھی وہی کرتا ہے جو پہلے کرکے پچھتا چکا ہے لیکن کیا کیا جائے کہ قسمت کی دیوی بھولے پر بری طرح عاشق ہے۔ مثلاً اب سے اٹھائیس برس قبل جب شہر کے لوگ بھولے کو محض ایک خوشحال کاروباری کے طور پر جانتے تھے۔ بھولے کو سیاست میں آنے کا شوق چرایا اور اس نے بلدیاتی انتخاب سے اپنی طویل اننگز کا آغاز کیا۔ بھولے نے خود کو ایک سیاسی شخصیت کے طور پر پہچنوانے کے لیے اخبارات میں اپنے بارے میں رنگین سپلیمنٹ شائع کروائے۔ بھولے کی خوش قسمتی کہ آمرِ وقت کو خود کو اخلاقی سیاسی جواز دینے کے لیے تازہ نئے چہرے درکار تھے اس لیے بھولے کے مقدر کے ساتوں دروازے یکے بعد دیگرے کھلتے چلے گئے اور پھر کونسلر بھولے نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ بھولے کے جہاندیدہ ابا نے اپنے بچوں کے لیے مستقبل کا جو نقشہ تیار کیا تھا وہ اتنا بڑا تھا کہ بھولا تنِ تنہا اس میں رنگ نہ بھر سکتا تھا۔ چنانچہ ابا نے بھولے کے برادرِ خورد پولے کو بھی بڑے بھائی کی ہمہ وقت مدد پر مامور کردیا۔ کچھ ہی عرصے میں بھولے اور پولے کی جوڑی ہٹ ہوگئی۔ اسٹیبلشمنٹ کو اس جوڑی کی صورت میں دو تازہ دم نئے گھوڑے اور بھولے اور پولے کو دوڑنے اور چرنے کے لیے ایک نیا، وسیع اور سر سبز میدان مل گیا۔ دونوں نے بہت کم عرصے میں خود کو جغادری کھلاڑیوں سے نہ صرف منوا لیا بلکہ بہتوں کو پیچھے چھوڑ گئے۔ بس یہی وہ گھڑی تھی جب بھولے اور پولے کو یقین ہونا شروع ہوا کہ میدان میں اب ان کے سوا کوئی نہیں ہے اور وہ جہاں تک اور جب تک چاہیں دوڑ سکتے ہیں۔ پھر وہی ہوا جو ضرور ہوتا ہے۔ بھولے اور پولے نے اپنا دربار بنا لیا جو درباری نہ بنا اسے جوتے پڑنے لگے اور تو اور ! انہوں نے ایسے لوگوں سے بھی پنگا لینا شروع کردیا جو بھولے اور پولے کی جڑوں سے پوری طرح واقف تھے۔ بھولے کو یہ بتایا گیا کہ خدا نے دراصل اسے قوم کی رہنمائی کے لیے اکبرِ اعظم یا شاہجہاں کے روپ میں پھر سے اتارا ہے۔
چنانچہ جب بھولے کا نشہ ٹوٹا تو اس نے خود کو پولے کے ہمراہ ایک ننگے ٹھنڈے فرش والے کمرے میں پایا جس کا ایک ہی دروازہ تھا اور وہ بھی لوہے کی موٹی موٹی سلاخوں والا۔ بھولا اور پولا گھبرا گئے اور اس کمرے سے چھٹکارا پانے کے لیے انہوں نے اپنے تعلقات کو آخری سطح تک استعمال کرلیا۔ چند روز بعد بھولے اور پولے کو جب تازہ ہوا لگی اور ان کے اوسان بحال ہوئے تو انہیں پھر سے پرانے سنہری دنوں کی یاد گدگدانے لگی۔ ان کا جی چاہنے لگا کہ جمہوری جدوجہد وہیں سے شروع کی جائے جہاں سے وہ یہ جدوجہد ٹھنڈے فرش والے کمرے میں چھوڑ آئے تھے۔ لیکن بھولے اور پولے کو یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ اس دوران پل کے نیچے سے بہت سا سیاسی اور بین الاقوامی پانی گزر چکا ہے۔ جو اپنے تھے وہ پرائے ہوچکے ہیں۔ اب کوئی کسی کے منہ میں نوالہ بنا کر نہیں ڈالتا۔اب تو اپنی روٹی اپنے ہی توے پر پکانی پڑے گی۔ سیاست کی تیز دھوپ میں میثاقِ جمہوریت کی نقل سے سر کو ڈھانپ کر، مفادات کے چپل پہنے بغیر غیر یقینی مستقبل کے صحرا میں جانے کب تک چلنا پڑے گا۔ منڈیلا کو منڈیلا بننے کے لیے ستائیس برس طویل قید خانہ پار کرنا پڑا تھا۔ |
اسی بارے میں ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں25 September, 2005 | قلم اور کالم ’بات ترجیحات کی ہے‘06 November, 2005 | قلم اور کالم اگر وہ ہوجاتا تو یہ نہ ہوتا18 December, 2005 | قلم اور کالم خاندان والوں سے کیا پردہ14 May, 2006 | قلم اور کالم دو رخا ہونے کے فوائد09 April, 2006 | قلم اور کالم سب جمہوریت ہے21 May, 2006 | قلم اور کالم لبنان: ایک مملکتِ بے وجود13 August, 2006 | قلم اور کالم آٹھ اکتوبر فیسٹیول01 October, 2006 | قلم اور کالم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||