فوجی حکمرانوں کی سیاسی برہنگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہت دیر سے شنید ہے کہ صدر مشرف اگر دوبارہ صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو وہ وردی اتار دیں گے۔ اب لگ رہا ہے کہ اس ’اگر‘ پر حتمی فیصلہ ہونے والا ہے۔ یہ ہفتہ کچھ شروع ہی ایسا ہوا۔ پہلے سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ صدر مشرف کے دو عہدوں کے خلاف آئینی پیٹیشن روزانہ سنے گی اور شاید اس کا فیصلہ اسی ہفتے کر دے۔ پھر حکومتی جماعت کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین اس اعلان کے ساتھ میدان میں کودے کہ صدر دوبارہ منتخب ہونے کے بعد وردی اتار دیں گے لیکن انہوں نے ساتھ میں انشااللہ بھی کہا یعنی اگر اللہ نے چاہا تو۔ پاکستانی ’ایسی انشااللہ‘ کے ایسے عادی ہو چکے ہیں کہ ان کے اس بیان پر کسی نے کان نہ دھرے۔ لیکن منگل کو صدر مشرف کا شریف الدین پیرزادہ کے ذریعے سپریم کورٹ کو یہ پیغام پہنچانا کہ وہ وردی اتارنے کو تیار ہیں بشرطیکہ انہیں دوبارہ صدر منتخب کیا جائے ایک ایسا قدم تھا جس نے فوجی حکمرانوں کی سیاست کو برہنہ کر کے رکھ دیا۔ پچھلے کچھ ہفتوں سے ملک بھر میں ڈیل کا بڑا ذکر ہے۔ لیکن ڈیل کے معاملے پر ہونے والی تمام تر سیاسی بحث کا محور صرف دو نکات رہے۔ ایک نواز شریف اور دوسرا بینظیر بھٹو۔ کسی نے ڈیل کرنے پر نواز شریف کا تمسخر اڑایا اور کسی نے ڈیل کی خواہش رکھنے پر بینظیر بھٹو پر طعنے کسے۔ لیکن کسی نے بھی ڈیل کے کھیل کے تیسرے اور کلیدی کھلاڑی کو حدف تنقید نہ بنایا جو نہ صرف اس کھیل کا بانی ہے بلکہ اس کے تمام قواعد و ضوابط کا واحد لکھاری بھی۔
کیا اب بھی صورتحال یہی رہے گی؟ منگل کو سپریم کورٹ میں داخل کیا جانے والا صدارتی بیان سیاسی ڈیلز میں فوجی حکمرانوں کے جابرانہ کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ گو شریف برادران تو بڑی دیر سے مانے کہ انہوں نے صدر مشرف سے کئی سال سیاست نہ کرنے کی قسم کھائی تھی لیکن مسلم لیگ نون کے رہنما پچھلے سات سال سے صحافیوں سے یہ منوانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے کہ جب کوئی کنپٹی پر بندوق رکھ دے تو ڈیل کرنے کے سوا کیا چارہ۔ لیکن یا تو کسی نے یہ دلیل سرے سے سنی ہی نہیں یا پھر ایک کان سے سنی اور دوسرے سے اڑا دی۔ بینظیر بھٹو کی باری آئی تو ایک بار پھر ہاہاکار مچی کہ سیاستدان تو ہوتے ہی بے اصول ہیں۔ بھٹو کا کہنا تھا کہ فوجی حکمران سے اقتدار چھیننا اتنا ہی مشکل اور پر خطر ہوتا ہے جتنا کہ ایک بھوکے ماس خور سے ہڈی اور اس کا واحد طریقہ یہی ہے کہ ہڈی کے مختلف حصوں کو ایک ایک کر کے ماس خور کے دانتوں سے چھڑایا جائے۔ اس دلیل کو بھی موقع پرستی کا ٹھپا لگا کر رد کر دیا گیا۔ لیکن اب شاید یہ واضع ہونے لگا ہے کہ ایک فوجی حکمران اپنے اقتدار کے طول کے لیے کیا کیا حدیں پھلانگ سکتا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کو کی گئی سیاسی پیشکشیں تو ہماری تاریخ کا انمٹ حصہ ہیں ہی، لیکن کیا ایسا بھی کبھی سنا گیا کہ ملک کی سپریم کورٹ کو بھی ایک نہایت اہم مقدمے کے عین دوران ایک فریق کی جانب سے کھلم کھلا سیاسی ڈیل کی پیشکش ہو؟ ایسا یقیناً پہلی دفعہ ہوا ہے۔ منگل کو صدر مشرف کی جانب سے سپریم کورٹ کو کی گئی پیشکش میں یہ شرط بھی شامل ہے کہ صدارتی انتخابات میں ریٹرننگ افسر کو صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال سے نہ روکا جائے۔ اس پیشکش کا دوسرا اور ان کہا رخ اور بھی زیادہ معنی خیز ہے۔ کیا ہو اگر سپریم کورٹ یہ پیشکش ٹھکرا دے؟ کیا ایسی صورت میں صدر مشرف وردی نہیں اتاریں گے؟ اور اگر وہ وردی میں ہی رہتے ہیں تو پھر صدر کا عہدہ رکھنے کے لیے تو وہ پورا قانونی ڈھانچہ ہی بدلنا ہو گا جس کے تحت وہ دوبارہ انتخاب کی شرط پر وردی اتارنے کو تیار ہوئے ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان کی سیاسی سمت کیا ہو گی؟
سیاسی مقدمات میں سپریم کورٹ کو قانونی نکات ہی نہیں بلکہ سیاسی حالات بھی دیکھنے ہوتے ہیں۔ کیا سپریم کورٹ چاہے گی کہ اس کے کسی فیصلے کی وجہ سے قانون کی حکمرانی کا بول بالا ہونے کی بجائے پورے قانونی ڈھانچے کی بساط ہی لپیٹ دی جائے؟ یہ وہ ڈیل یا کڑوی گولی ہے جو پہلے پاکستان کی فوجی قیادت کی جانب سے سیاستدانوں کو کھلائی گئی اور اب سپریم کورٹ کو پیش کر دی گئی ہے۔ اگر سپریم کورٹ کھا لے تو خود مرے اور نہ کھائے تو جمہوریت کے قل پڑھے۔ سیاسی جبر کے اس کھیل میں کون زندہ رہتا ہے اور کون مرتا ہے اس کا فیصلہ بھی زیادہ دور نہیں۔ اگر یہ حقیقت کی بجائے کوئی رومانوی ناول ہوتا تو شاید منگل کو جاری کیے جانے والے صدارتی بیان کے بعد قاضی حسین احمد اور عمران خان سپریم کورٹ میں پیش ہوتے، ندامت سے تسلیم کرتے کہ ان کی پیٹیشن قانونی نہیں سیاسی پیچیدگیوں پر مبنی ہے اور یہ مانتے ہوئے کہ اتنی خطرناک سیاسی لڑائیاں عدالتی میدانوں میں نہیں لڑنی چاہیں اپنی پیٹیشن واپس لے لیتے۔ اگر یہ کوئی اردو ہندی فلم ہوتی تو شاید سپریم کورٹ کی مدد کے لیے عوامی جذبات کا ایک سیلاب امڈ آتا جس سے متاثر ایک نوجوان جرنیل موجودہ سیاسی دنگل لپیٹ کر آزادانہ انتخابات کراتا اور اقتدار منتخب نمائندوں کے حوالے کر کے پوری فوج سمیت واپس بیرکوں میں جا بیٹھتا۔ لیکن سپریم کورٹ میں جاری سیاسی جنگ افسانہ نہیں حقیقت ہے۔ اور حقیقی جنگوں کی پیاس کسی نہ کسی کے خون سے ہی بجھتی ہے۔ |
اسی بارے میں صدارتی انتخاب کے قواعد تبدیل16 September, 2007 | پاکستان قوانین میں ترمیم: ماہرین میں اختلاف16 September, 2007 | پاکستان اسمبلی سے استعفے: APDM کا اعلان16 September, 2007 | پاکستان مشرف کے عہدے، سماعت پیر سے14 September, 2007 | پاکستان ایل ایف او: اپیل بڑے بنچ کےحوالے28 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||