علی احمد حان بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
 | | | تمام باتوں کے باوجود میں جناب صدر کے وردی اتارنے کے فیصلے کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہوں لیکن بڑی دیر کردی مہرباں یہ فیصلہ کرتے کرتے۔ |
صدر جنرل پرویز مشرف بالآخر وردی اتارنے پر تیار ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ کی نو رکنی بنچ کے سامنے انکے وکیل جناب شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اگر انکے موکل یعنی صدر اگر دوبارہ صدر منتخب ہوگئے تو وہ اپنے عہدے کا حلف لینے سے پہلے فوج کے سربراہ کہ عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ وزیر اطلاعت جناب درانی نے ایک بیان میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ جنرل صاحب کا یہ فیصلہ حتمی(اٹل) ہے۔ جنرل پرویز مشرف کا یہ فیصلہ بہت صائب ہے لیکن اس فیصلے پر پہنچنے میں انہوں نے بہت دیر کردی، اتنی کہ ممکن ہے اب یہ فیصلہ بھی انکے خلاف جائے۔  | مشرف جب آئے اور پھِر اب  پرویز مشرف صاحب بھی جب اقتدار میں آئے توانہوں نے جو دعوے کئے تھے اس کے بعد تو یہ محسوس ہونے لگا تھا ان کی کابینہ میں تمام وزیر ایسے پاک صاف لوگ ہونگے کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوع کریں والی کیفیت ہوگی لیکن معلوم ہوا کےانہوں نے بھی آزمائے ہووں کو ہی آزمایا۔ کچھ لوگ جو شروع میں انکے ’جذبۂ خدمت‘ سے متاثر ہوکر انکے ساتھ ہو لیے تھے وہ بھی دامن چھڑا کر بھاگے اور جو رہ گئے تھے وہ وردی کی مخالفت کے گرم میں نکالے گئے۔  |
یہ میرا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں حکمراں اچھے کام بھی اتنی تاخیر سے کرتے ہیں کہ انکی افادیت ختم ہوجاتی ہے۔ آج سب اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ سابق مشرقی پاکستان میں بنگلہ زبان کو اردو کے ساتھ ایک قومی زبان بنانے کا مطالبہ ایک انتہائی جائز اور حقائق پر مبنی مطالبہ تھا، لیکن حکام نے اسے کچلنے کے لیے کیا کیا مظالم نہیں ڈھائے اور قبول اس وقت کیا جب یہ قومی زبان کی حدود سے بڑھ کرصوبائی خود مختاری کے مطالبے کی شکل اختیار کرچکا تھا اور صوبائی خود مختاری کا مطالبہ تسلیم کرنے پر اس وقت آمادہ ہوئے جب اس نے بنگلہ دیش کے مطالبے کی شکل اختیار کرلی اور بنگلہ دیش اس وقت تسلیم کیا جب نوے ہزار سے زیادہ فوجی قیدی بنوا لیے۔ایوب خان صاحب جب اقتدار میں آئے تو لوگ موقع پرست سیاستدانوں اور انکی محلاتی سازشوں سے اتنے تنگ آچکے تھے کہ انہوں نے مارشل لاء جیسی لعنت کو بھی وقتی طور پر قبول کرلیا۔ لیکن جب عوام کو یہ احساس ہوگیا کہ محترم نے تمام برائیوں اور بدعنوانیوں کو بنیادی جمہوریت کی شکل میں ایک ادارے کی حیثیت دیدی ہے۔ تو پھر انہوں نے انکے خلاف تحریک چلائی اور جب 1968 میں یہ تحریک اپنے عروج پر تھی تو ایوب حکومت پورے ملک میں بڑی دھوم دھام سے عشرۃ ترقی منارہی تھی اس پر طرا یہ کہ انکے حواریوں نے، جو انہیں فیلڈ مارشل پہلے ہی بنا چکے تھے اب ملک کا تا حیات صدر بنانے کی بات کرنے لگے۔  | منتخب حکمراں اور جمہوریت  محترمہ بینظیر اقتدار میں آئیں تو وہ اپنے ایم آر ڈی کے ساتھیوں کو بھول گئیں جنکے ساتھ انہوں نے جمہوریت کی بحالی کی تحریک چلائی تھی۔ نواز شریف اقتدار میں آئے تو جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے جوش میں سپریم کورٹ کے اختیارات سلب کرنے پر تل گئے اور جب انہیں ہوش آیا تو عوام میں اتنے غیرمقبول ہوچکے تھے کہ جب ہٹائے گئے تو یقین مانئے کوئی پرسان حال نہیں تھا۔  |
نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے خلاف تحریک نے ایسا زور پکڑا کہ سڑک پر انکے نام پر کتے دوڑائے جانے لگے، بالآخر انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ صدر کا انتخاب نہیں لڑیں گے، اپنے مخالفین سے مذاکرات پر تیار ہوگئے۔ پارلیمانی نظام اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخاب کرانے کی حامی بھرلی لیکن اب بات اس سے آگے بڑھ چکی تھی۔ اب پورا ملک ایک آواز ہوکر انکے استعفِے کا مطالبہ کررہا تھا جو انہیں 25 فروری 1969 کو دینا پڑا اگر وہ پانچ سال پہلے یہ مطالبے مان لیتے تو وہ کچھ نہیں ہوتا جو ان کے ساتھ ہوا۔جناب بھٹو بھی اگر 1977 کے انتخابات میں اپنے دشمن نما دوستوں کو قابو میں رکھتے اور انتخابات کے فوراً بعد انتخابی دھاندلیوں کا ازالہ کرنے کی سعی کرتے تو شائد ضیاءالحق کو انہیں اقتدار سے ہٹانے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ضیاءالحق مرحوم نجی زندگی میں پتہ نہیں کیسے آدمی تھے لیکن انکے دور میں اسلام اورپاکستان کے نام پر جو کھیل کھیلے گئے اور جو مظالم ڈھائے گئے اس کے بعد تو یقین مانئے ان کے حق میں دعا کرنے والے بہت کم لوگ رہ گئے تھے۔
 | ایوب خان نے بھی دیر کر دی تھی  ایوب خان نے جب اعلان کیا کہ وہ آئندہ صدر کا انتخاب نہیں لڑیں گے، اپنے مخالفین سے مذاکرات پر تیار ہوگئے۔ پارلیمانی نظام اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخاب کرانے کی حامی بھرلی لیکن اب بات اس سے آگے بڑھ چکی تھی۔ اب پورا ملک ایک آواز ہوکر انکے استعفِے کا مطالبہ کررہا تھا جو انہیں 25 فروری 1969 کو دینا پڑا اگر وہ پانچ سال پہلے یہ مطالبے مان لیتے تو وہ کچھ نہیں ہوتا جو ان کے ساتھ ہوا۔  |
یہی کچھ ہمارے ’جمہوریت پسند‘ حکمرانوں نے کیا، محترمہ بینظیر اقتدار میں آئیں تو وہ اپنے ایم آر ڈی کے ساتھیوں کو بھول گئیں جنکے ساتھ انہوں نے جمہوریت کی بحالی کی تحریک چلائی تھی۔ نواز شریف اقتدار میں آئے تو جمہوری اقدار کو فروغ دینے کے جوش میں سپریم کورٹ کے اختیارات سلب کرنے پر تل گئے اور جب انہیں ہوش آیا تو عوام میں اتنے غیرمقبول ہوچکے تھے کہ جب ہٹائے گئے تو یقین مانئے کوئی پرسان حال نہیں تھا۔پرویز مشرف صاحب بھی جب اقتدار میں آئے توانہوں نے جو دعوے کئے تھے اس کے بعد تو یہ محسوس ہونے لگا تھا ان کی کابینہ میں تمام وزیر ایسے پاک صاف لوگ ہونگے کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضوع کریں والی کیفیت ہوگی لیکن معلوم ہوا کےانہوں نے بھی آزمائے ہووں کو ہی آزمایا۔ کچھ لوگ جو شروع میں انکے ’جذبۂ خدمت‘ سے متاثر ہوکر انکے ساتھ ہو لیے تھے وہ بھی دامن چھڑا کر بھاگے اور جو رہ گئے تھے وہ وردی کی مخالفت کے گرم میں نکالے گئے۔ ان تمام باتوں کے باوجود میں جناب صدر کے وردی اتارنے کے فیصلے کا تہہ دل سے خیرمقدم کرتا ہوں لیکن بڑی دیر کردی مہرباں یہ فیصلہ کرتے کرتے۔خاکم بدہن، اب تو بات وردی سے آگے بڑھتی نظر آرہی ہے۔ |