’مشرف کا اداروں کا غیرقانونی استعمال‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگر صدر جنرل پرویز مشرف رینجرز، پولیس اور خفیہ اداروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے تو ملک انارکی کا شکار ہوجائے گا اور اس پر کوئی قابو نہیں پا سکے گا۔ یہ بات آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے مرکزی رہنماء اور جماعتِ اسلامی کے مرکزی نائب امیر پروفیسر غفور احمد نے پیر کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی جہاں اے پی ڈی ایم کے دیگر رہنماؤں میں مسلم لیگ (ن) سندھ کے قائم مقام صدر سلیم احمد ضیاء اور ایم ایم اے کراچی کے صدر صدیق راٹھور بھی موجود تھے۔ پروفیسر غفور احمد نے الزام لگایا کہ اس وقت صدر مشرف اپنی ذات کے گرد سیاستی اداروں کو گھما رہے ہیں، ان کی اپنی ذات محور ہے اور وہ غیر اخلاقی، غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر مملکت کے اداروں کو استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں مسلم لیگ کے حالیہ اجلاس میں صدر کو باوردی منتخب کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس کے بعد الیکشن کمیشن نے بغیر کسی وجہ کے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ جنرل مشرف دونوں عہدے رکھنے کا استحقاق رکھتے ہیں حالانکہ یہ ان کا کام سرے سے نہیں تھا۔ ان کے بقول اگر جنرل مشرف اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرتے اور کوئی اس پر اعتراض کرتا تو الیکشن کمیشن اس بارے میں اپنا حکم جاری کرسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضوابط میں ترمیم یہ جانتے ہوئے کی گئی ہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِبحث ہے۔
انہوں نے کراچی میں بدامنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورے ملک میں بدامنی کی فضا ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر کراچی میں ہے۔ کراچی میں رواں ماہ میں دو وکلاء اور ایک منی بس میں فائرنگ کے نتیجے میں اسلامی جمیعت طلبہ کے تین ارکان سمیت سات افراد کے قتل پر انہوں نے الزام لگایا کہ ’یہاں ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دی ہوئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے قتلِ عام کرے۔ پولیس، رینجرز اور فوج سب واقف ہیں لیکن سب تماشائی ہوتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’دفعہ 144 توڑنے کے جھوٹے مقدمات میں لوگوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے لیکن قتل کی وارداتیں ہوتی ہیں تو رینجرز، فوج، خفیہ ادارے اور حکومت، سب جانتے ہوئے بھی ان کے خلاف ایکشن نہیں لیتے کیونکہ جنرل مشرف کو اپنے آپ کو صدر بنانے کے لئے ایم کیو ایم کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اپنے عروج پر ہے روز مرہ کی اشیاء مہنگی سے مہنگی ہوتی جا رہی ہیں، غریب کا گزارا مشکل ہو چکا ہے لیکن حکومت کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔’ حکومتی حلقوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ صدر مشرف دوبارہ کس طرح باوردی صدر منتخب کرلیے جائیں۔‘ پروفیسر غفور احمد نے صدر جنرل پرویز مشرف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں مشرف صاحب سے کہتا ہوں کہ وہ رحم کریں اپنے اوپر بھی اور ملک کے اوپر بھی، آٹھ سال پوری قوم نے انہیں بھگت لیا ہے۔ اب اس بات کا موقع دیں کہ آزادانہ انتخابات کرائے جائیں اور منتخب ہونے والوں کو اقتدار دیا جائے۔‘ ’اگر جنرل مشرف رینجرز، پولیس اور خفیہ اداروں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے تو ملک میں ایسی انارکی ہوگی جس پر کوئی قابو نہیں پا سکے گا۔‘ اے پی ڈی ایم کے رہنماء سلیم ضیاء نے الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق ترمیم دراصل قبل از انتخابات دھاندلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کراچی میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں ایم کیو ایم کی ذیلی تنظیم آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ملوث ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار نہ کیا گیا تو مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں ’جمہوریت اور وردی ساتھ نہیں‘06 September, 2007 | پاکستان باوردی صدر: سماعت پانچ کو03 September, 2007 | پاکستان وردی میں انتخاب کے خلاف احتجاج29 August, 2007 | پاکستان وردی اتارنے پر رضامند: بینظیر29 August, 2007 | پاکستان باوردی انتخاب، مخالفت کا اعلان28 August, 2007 | پاکستان ’کسی وردی والے سے بات نہیں‘27 August, 2007 | پاکستان وردی میں انتخاب، وزیرِ مستعفی27 August, 2007 | پاکستان مسلم لیگ کا وردی مخالِف دھڑا19 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||