وجاہت مسعود لاہور |  |
 |   بینظیر بھٹو نے اتوار کو اعلان کیا ہے کہ صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان کئی مہینوں سے جاری گفت و شنید ناکام ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق صدر کے سیاسی اتحادیوں کی ریشہ دوانیوں کے باعث یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی  |
پاکستان میں لحظہ بہ لحظہ تبدیل ہوتی سیاسی صورت حال نے پہاڑ سے گرتے پتھروں کی سی تیز و تُند رفتار اختیار کر لی ہے۔ سنیچر کو الیکشن کمیشن نے انتخابی قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئین کی شق 63 کا صدارتی امیدواروں پر اطلاق نہیں ہوتا۔ آئین کی شق 63 میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی منفعت بخش ملازمت میں رہنے والا کوئی شہری ملازمت چھوڑنے کے بعد دو سال تک کسی انتخابی عہدے کے لیے امیدوار نہیں بن سکتا۔ اتوار کو آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ( اے پی ڈی ایم) میں شامل جماعتوں نے اعلان کیا کہ صدارتی امیدوار کے طور پر صدر مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور ہوتے ہی ان کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔ رہی سہی کسر بینظیر بھٹو نے اتوار ہی کو اس اعلان سے پوری کر دی کہ صدر مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان کئی مہینوں سے جاری گفت و شنید ناکام ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق صدر کے سیاسی اتحادیوں کی ریشہ دوانیوں کے باعث یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔ بینظیر نے عندیہ دیا کہ ان کے ارکانِ پارلیمنٹ بھی اے پی ڈی ایم کے ساتھ ہی اسمبلیوں سے مستعفی ہو سکتے ہیں۔ ہفتے کے روز صدر مشرف نے چوہدری شجاعت حسین سمیت مسلم لیگ (قاف) کے رہنماؤں کے ایک اعلٰی سطح کے اجلاس میں بتایا کہ پیپلز پارٹی موجودہ اسمبلیوں سے ان کے دوبارہ انتخاب کے منصوبے میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی جس کے عوض بینظیر بھٹو کو وطن واپس آنے سے نہیں روکا جائے گا۔ دوسری طرف اتوار کو وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے اے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے استعفوں کو غیراہم قرار دیا۔ سیاسی قوتوں کی شطرنج جیسی چالوں سے قطعِ نظر سپریم کورٹ میں صدر کے دوہرے عہدے نیز منفعت بخش ملازمت کے تناظر میں صدارتی امیدوار بننے کی اہلیت کے بارے میں متعدد آئینی درخواستوں کی سماعت شروع ہو چکی ہے۔ ایک بار پھر سیاسی بحران سپریم کورٹ کے ناخنِ گرہ کشا کا مرہونِ منت ہے۔ حالات کی یہ صورت منطقی تو ہے لیکن سیاسی الجھنوں کو سلجھانے کے لیے سپریم کورٹ سے امیدیں باندھنا سیاسی عمل اور جمہوری استحکام کے لیے خوش آئند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سرکاری حلقوں میں الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکیشن کا جواز ان فیصلوں کو بنایا جا رہا ہے جو سپریم کورٹ نے قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی طرف سے بالترتیب 2002 اور 2005 میں منفعت بخش ملازمت کے حامل شخص کی بطور صدر نااہلی اور دوہرے عہدے کے بارے میں دائر آئینی درخواستوں پر دیے تھے۔
 | الیکشن کمیشن کا انداز شفاف نہیں   الیکشن کمیشن نے نوٹیفیکیشن کے اعلان میں جو انداز اختیار کیا وہ کسی بھی طرح شفاف نہیں۔ اطلاعات کے مطابق مجاز حکام نے الیکشن کمیشن کے مذکورہ نوٹیفیکیشن پر 10 ستمبر کو دستخط کیے تھے جب کہ اس کا باضابطہ اعلان 15 ستمبر کو کیا گیا  |
الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن عدالتِ عظمٰی میں زیرِ بحث ہے۔ زیرِ سماعت معاملے پر رائے زنی کیے بغیر بھی سیاسی مبصرین کی یہ رائے ظاہر کی جا سکتی ہے کہ قانونی جواز سے قطعِ نظر الیکشن کمیشن نے نوٹیفیکیشن کے اعلان میں جو انداز اختیار کیا وہ کسی بھی طرح شفاف نہیں۔ اطلاعات کے مطابق مجاز حکام نے الیکشن کمیشن کے مذکورہ نوٹیفیکیشن پر 10 ستمبر کو دستخط کیے تھے جب کہ اس کا باضابطہ اعلان 15 ستمبر کو کیا گیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے الیکشن کمیشن کے باضابطہ اعلان سے کئی روز قبل ہی صدارتی انتخاب کے قواعد میں مذکورہ ترمیم کا اعلان کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آزدانہ طور پر انتخابی ضابطوں میں ترمیم کا اختیار نہیں رکھتا اور اسے صدر سے پیشگی منظوری لینی پڑتی ہے۔ وزیرِ اعظم شوکت عزیز کا یہ خیال درست معلوم نہیں ہوتا کہ اس مرحلے پر اے پی ڈی ایم یا پیپلز پارٹی کے استعفوں سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اسمبلیوں کی معیاد پوری ہونے والی ہے۔ وزیرِ اعظم کے تجاہلِ عارفانہ سے قطع نظر عنقریب معیاد پوری کرنے والی انہی اسمبلیوں سے آئندہ پانچ برس کے لیے صدرِ پاکستان منتخب ہونے کے منصوبے باندھے جا رہے ہیں۔ اے پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے استعفوں سے صدر کے انتخابی کالج میں صدارتی انتخاب کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی سطح پر متاثر کرنے والا خلا پیدا ہو گا۔ 1971 میں عوامی لیگ کے منتخب ارکانِ اسمبلی کے بھارت چلے جانے کے بعد کوئی ڈیڑھ سو نشستوں پر ضمنی انتخاب کرائے گئے۔ ناکام سیاسی جماعتوں میں ریوڑیوں کی طرح نشستیں تقسیم کی گئیں لیکن ان انتخابات کی ساکھ کبھی قائم نہ ہو سکی۔ 7 مارچ 1977 کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد پاکستان قومی اتحاد نے صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ 10 مارچ 1977 کو یکطرفہ پولنگ کے نتیجے میں منتخب ہونے والوں کی قانونی اور سیاسی حیثیت یہ ٹھہری کہ مئی میں بھٹو صاحب اور حزب اختلاف میں مذاکرات شروع ہونے پر بھٹو صاحب نے بے چون و چرا صوبائی انتخابات دوبارہ منعقد کرانے کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔ اگر عام انتخابات میں اہم سیاسی جماعتوں کی عدم موجودگی سے ایسے نتائج برآمد ہو سکتے ہیں تو صدر کا انتخابی حلقہ تو محض 1000 کے لگ بھگ ارکانِ اسمبلی پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر صوبہ سرحد یا بلوچستان کی اسمبلیاں ہی تحلیل ہو جاتی ہیں اور باقی اسمبلیوں میں نصف کے قریب نشستیں خالی رہتی ہیں تو صدارتی انتخاب کی ساکھ ہی متاثر نہیں ہو گی اس سے آئندہ عام انتخابات کی آزادانہ اور شفاف حیثیت پر بھی حرف آئے گا۔
 | شوکت عزیز اور معاملہ کا دفتری حل   وزیرِ اعظم شوکت عزیز اس معاملے کے سیاسی عواقب کو نظر انداز کرتے ہوئے دفتری حل پیش کر رہے ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسمبلیوں کی معیاد کا خاتمہ اس قدر قریب ہے کہ اس دوران خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب بھی نہیں کرائے جا سکتے  |
وزیرِ اعظم شوکت عزیز اس معاملے کے سیاسی عواقب کو نظر انداز کرتے ہوئے دفتری حل پیش کر رہے ہیں۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسمبلیوں کی معیاد کا خاتمہ اس قدر قریب ہے کہ اس دوران خالی نشستوں پر ضمنی انتخاب بھی نہیں کرائے جا سکتے۔ مولانا فضل الرحمٰن اے پی ڈی ایم کے اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جس میں اسمبلیوں سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں حکومت سے پسِ پردہ ساز باز کی افواہیں تسلسل سے گشت کرتی رہی ہیں۔ ان کی غیرحاضری سے اے پی ڈی ایم کے فیصلے کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق انہوں نے ٹیلی فون پر اس فیصلے سے اتفاق ظاہر کیا ہے۔ بینظیر بھٹو کی طرف سے صدر کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کا اعلان دور رس نتائج کا حامل ہے۔ اگرچہ بعض سیاسی حلقے اب بھی سمجھتے ہیں کہ صدر مشرف اور بینظیر بھٹو میں مفاہمت کافی حد تک آگے بڑھ چکی ہے یا کم از کم یہ کہ 18 اکتوبر کو بینظیر کی آمد سے قبل اس میں واضح پیش رفت سامنے آ جائے گی۔ ان سیاسی حلقوں میں اس نکتے کو اہمیت دی جا رہی ہے کہ صدارتی انتخاب 15 اکتوبر تک متوقع ہے جب کہ بینظیر نے دانستہ طور پر اپنی واپسی کی تاریخ 18 اکتوبر رکھی ہے۔ تاہم یہ امر واضح ہے کہ کہ صدر مشرف سیاسی قیادت پر اعتماد کرنے میں شدید ذہنی تحفظات کا شکار ہیں۔ وہ صدر کی حیثیت سے آئندہ پانچ برس کے لیے اپنے انتخاب کو ہر ممکن طور پر یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کے ہر اقدام سے سیاسی بحران میں پیچیدگی پیدا ہو رہی ہے۔
 | رجائیت پسند بھی خدشات کا شکار  آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں پاکستان کا سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ رجائیت پسند سمجھے جانے والے سیاسی مبصرین بھی بدترین خدشات کا شکار نظر آتے ہیں  |
ایک سیاسی رہنما کے طور پر بینظیر بھٹو اپنی تحدیدات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ کوئی سیاسی جماعت بنیادی مسائل پر غیرمعینہ مدت کے لیے گومگو کا شکار نہیں رہ سکتی خاص طور پر جب حریف سیاسی قوتیں واضح نقطۂ نظر کی بدولت سیاسی فوائد حاصل کر رہی ہوں۔ پیپلز پارٹی اور اے پی ڈی ایم کی طرف سے ایک ہی روز استعفوں کا اعلان ظاہر کرتا ہے کہ دونوں سیاسی قوتوں میں جمہوری ساکھ اور عوامی مقبولیت کے لیے دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں پاکستان کا سیاسی بحران مزید شدت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ رجائیت پسند سمجھے جانے والے سیاسی مبصرین بھی بدترین خدشات کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایک مدت سے پاکستان میں سرکار کے حمایت یافتہ سیاسی حلقے اپنی سیاست کو ’پرامن انتقالِ اقتدار کی حکمت عملی‘ قرار دیتے آئے ہیں جب کہ حزبِ اختلاف کے اصولی مؤقف کو ’تصادم کی سیاست‘ قرار دیا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے واقعات سے ثابت ہوا ہے کہ ماورائے دستور سیاست میں کبھی کبھی ’پرامن انتقالِ اقتدار کی حکمت عملی‘ ایک بحران سے دوسرے بحران تک لڑھکتے رہنے کا عمل بن جاتی ہے۔ |