BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 23:40 GMT 04:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت عمارت ختم کر سکتی ہے نظریہ نہیں‘

مفتی نعیم
حکومت کبھی بھی مدارس کو ختم نہیں کر سکتی
لال مسجد آپریشن اور اس کے ساتھ ہی ملک میں آنے والی خودکش حملوں کی تازہ لہر کے بعد مدرسے اور ان کا طرز تعلیم ایک بار پھر زیر بحث ہیں۔

حکومتی کوششوں اور عالمی دباؤ کے باوجود ان مدرسوں میں تعلیم پانے کے رجحان میں کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی مدرسوں میں پڑھنے اور پڑھانے والوں کے خیالات میں۔

کراچی کے سب سے بڑے دینی مدرسے جامعہ بنوریہ العالمی کے طلبہ نہ صرف مدرسے کی تعلیم سے مطمئن ہیں بلکہ اسے مروجہ تعلیمی نظام سے بہتر بھی سمجھتے ہیں۔

کراچی کے امام ربانی کا کہنا ہے کہ سکول کیا یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کرنے والے بھی آج کل دربدر ہیں۔’میں میٹرک پاس کر کے مدرسے میں آ گیا تھا۔ میرے کئی دوست کالج اور یونیورسٹیوں میں پہنچ گئے۔ میں اب یہاں سے عالم بن کر فارغ ہو رہا ہوں مگر میرے سارے دوست بیروزگار اور پریشان ہیں‘۔

امام ربانی مدارس کے دیگر بیشتر طلبہ کی طرح لال مسجد آپریشن کو غلط سمجھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے مدرسوں کے طلبہ میں فوج کی اخلاقی حمایت میں کمی آئی ہے۔

’جو جہاد سامنے ہے اور جو پڑھایا جاتا ہے اس میں زمین آسمان کا فرق ہے‘

ان کے مطابق’مدرسے کو گھیراؤ کر کے بھون دیا گیا۔ کیا ملا وہاں سے؟ اب پتہ چلا ہے کہ وہاں سے غلیلیں ملی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ دہشت گرد تھے یا طالب علم‘۔

انہوں نے بتایا کہ لال مسجد آپریشن کے بعد ان کے مدرسے کے چھوٹے طلبہ کو خوفزدہ ہو گئے ہیں اور’ اس واقعے سے پہلے تمام طلبہ فوج کی عزت کرتے تھے مگر اب ڈرتے ہیں کہ یہ ماریں گے یہ بم پھینکتے ہیں‘۔

اسی مدرسے کے ایک اور طالب علم محمد یونس طالبان کے نظریات کے حامی ہیں لیکن پھر بھی ان کا کہنا ہے کہ انہیں پڑھائے جانے والے جہاد کی نوعیت مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مدرسے جہادی کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ نصاب میں شامل ہے مگر جو جہاد سامنے ہے اور جو پڑھایا جاتا ہے اس میں زمین آسمان کا فرق ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ وہ طالبان کے جہاد کی اس لیے حمایت کرتے ہیں کیونکہ’ انہوں نے ایک ملک کے کی پچانوے فیصد علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا اور سو فیصد امن قائم کیا ہوا تھا۔ تمام معاملات ایک امیر کے تحت چل رہے تھے‘۔ ان کے مطابق یہ جہاد کا ایک منظم طریقہ ہے۔

’مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہماری اور ان کی شکلیں ملتی جلتی ہیں‘

محمد یونس انتہاپسندی کے رجحان کو بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن ان کا ماننا ہے کہ یہ رجحان صرف مدارس کے طلبہ تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق ’اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسلام میں انتہاپسندی ہے لیکن انتہاپسندی تو ہر مذہب، جماعت اور ادارے میں موجود ہے‘۔

ان کے مطابق’یہاں کچھ ایسی جماعتیں ہیں جن پر پابندی عائد کی گئی ہے اور انہیں بنیاد پرست کہا جا سکتا ہے مگر مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ہماری اور ان کی شکلیں ملتی جلتی ہیں‘۔

یہ تو ان طلبہ کے خیالات ہیں جو پاکستان میں پیدا ہوئے اور یہی پلے بڑھے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ وہ بچے جو امریکہ میں پیدا ہوئے اور وہیں انہوں نے ہوش سنبھالا وہ سات سمندر پار یہاں آ کر انہی مدرسوں میں پڑھ رہے ہیں تو شاید یقین نہ آئے۔

چودہ سالہ محبوب الہٰی خان کے لیے یہ حقیقت ہے۔ وہ امریکہ کی ریاست جارجیا میں پیدا ہوئے لیکن 12 سال کی عمر میں انہیں دینی تعلیم کے حصول کے لیے پاکستان بھیج دیا گیا اور وہ اب جامعہ بنوریہ العالمی میں زیر تعلیم ہیں۔

یہاں کے ماحول سے مجھے بہت مدد ملی:محبوب الہٰی خان

محبوب کے مطابق’میرے والد نے مجھے راغب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمہارے لیے اچھا ہے کہ تم دین پڑھو اور قرآن حفظ کرو۔ یہاں کے ماحول سے مجھے بہت مدد ملی ہے۔ جب آپ گھر جیسے ماحول میں رہ رہے ہوتے ہیں تو آپ بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ آپ یہ سیکھتے ہیں کہ اپنا خیال کیسے رکھا جائے اور جب آپ کے پاس کچھ ہوتا ہے تو آپ اس کی تعریف کرتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس کچھ نہ ہو تو آپ اس کی تعریف نہیں کرتے‘۔

محبوب الٰہی چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ ان کے والد جارجیا میں پیزا بیچتے ہیں جبکہ یہاں ان کے بڑے بھائی نور الہی خان بھی ساتھ ہی پڑھتے ہیں۔ سولہ سالہ نور الہٰی کا کہنا ہے’میرے ابا بڑے تبلیغی آدمی ہیں اور دین کے بڑے پکے ہیں ان کا ایمان بھی بہت مضبوط ہے۔ ان کی خواہش تھی کہ دو بیٹے اسکول میں تعلیم حاصل کریں اور دو قرآن پڑھیں کیونکہ میرے ابا ہمیشہ اسلام کی بات کرتے ہیں، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں اپنے مذہب سے پیار ہے‘۔

گو کہ یہ دونوں امریکی ابھی کم عمر ہیں لیکن لال مسجد کے خلاف ہونے والے آپریشن کے بارے میں اپنی رائے رکھتے ہیں جو کہ امریکہ کے سرکاری مؤقف کے برعکس نظر آتی ہے۔ نور الہی خان کہتے ہیں کہ ’جو ہوا بہت غلط ہوا۔ فوج کی بھاری نفری نے یہ کارروائی کی اس کا پرامن حل نکالنا چاہیے تھا۔ انہوں نے وہاں صرف اس لیے کارروائی کی کہ وہ اسلام کی بات کر رہے تھے تو اس بناء پر تو وہ کہیں بھی ایسی کارروائی کر سکتے ہیں‘۔

’حکومت ماڈل مدرسے بنا لے یا کچھ بھی مگر وہ ادھر نہیں جائیں گے‘

لیکن سوال یہ ہے کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ سے سکیورٹی فورسز کے خلاف ہونے والی مسلح مزاحمت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے آپریشن میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی اور کئی گرفتار ہوئے اور اس کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور غیرملکی شہریوں پر مسلح شدت پسندوں کے حملوں میں بھی درجنوں ہلاکتیں ہوئیں لیکن اس سب سے مدارس میں تعلیم پانے کا رجحان کمزور کیوں نہیں پڑا؟

اس حوالے سے جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی نعیم کا کہنا ہے کہ حکومت کبھی بھی مدراس کو ختم نہیں کر سکتی کیونکہ یہ ایک نظریہ ہے حکومت عمارت تو ختم کر سکتی ہے مگر نظریے کو نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’جو لوگ ہمارا ذہن رکھتے ہیں وہ خود بخود ہمارے ہی اداروں میں ہی آئیں گے پھر حکومت ماڈل مدرسے بنا لے یا کچھ بھی مگر وہ ادھر نہیں جائیں گے‘۔

مفتی نعیم کا کہنا ہے کہ منفی پروپیگنڈہ زیادہ ہے اور لوگوں کو ڈرایا بھی جا رہا ہے جس وجہ سے مدراس کے چندوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب مدراس اپنے وسائل پیدا کر رہے ہیں اور دکانیں اور ہوٹل وغیرہ قائم کیے جا رہے ہیں۔

امریکی امداد سے دینی مدارس میں اصلاحات کا عمل ہو یا شدت پسندی کی نئی لہر کے بارے میں معتدل حلقوں کے خدشات، لیکن شاید دینی مدرسوں سے جڑے طبقے کی فکری اور نظریاتی سوچ کو بدلنا حکومت کے لیے اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

لال مسجدنئی حکومتی مشکل
لال مسجد آپریشن کے بعد انتہا پسندی میں اضافہ
فوجآپریشن لال مسجد
ایک طویل کشمکش کا ابتدائی مرحلہ؟
لال مسجد کے اندر کا منظرلال مسجد کئی سوال
شدت پسند کہاں تھے اور کہاں چلے گئے
لال مسجد: لاپتہ طلباء
لاپتہ ہونے والے طلباء کے والدین پریشان
حشمت حبیب ایڈوکیٹمعاملہ دب سکتا ہے
لال مسجد معاملے کے از خود نوٹس پر خدشات
خالد عمرلال مسجد: بازگشت
مہمند ایجنسی مزار کے قابض کیا چاہتے ہیں؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد