مذہبی انتہا پسندی میں اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں عام انتخابات سے چند ماہ قبل امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور لال مسجد آپریشن کے نتیجے میں مذہبی انتہا پسندی میں اضافے نے حکومت کو یقینی طور پر ایک انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ تاہم ان حالات کا دینی جماعتوں پر اثر قابل غور اور یقیناً دلچسپ ہے۔ ایک خدشہ یہ ہے کہ کہیں حالات پھر دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد جیسی صورت اختیار نہ کر لیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے متحدہ مجلس عمل نے دو ہزار دو کے عام انتخابات میں غیرمعمولی انتخابی کامیابیاں حاصل کیں تھی۔ آج بھی ملک میں امریکہ مخالف جذبات میں اگر اضافہ نہیں تو کوئی کمی بھی نہیں آئی ہے۔ تاہم مولانا فضل الرحمان کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات کو حکومت کی جانب سے اتحاد پر دباؤ ڈالنے کی صورت قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی سے مذاکرات اور سرحد اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کر کے حکومت ہمیں بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ ہم بھی کسی مفاہمت پر تیار ہو جائیں لیکن ہم اس صورت تیار نہیں ہوں گے۔‘ جے یو آئی نے اکثر ملے جلے اشارے دیئے ہیں۔ بعض مبصرین کے خیال میں جمیعت کا کردار بھی اکثر اس کی قیادت نے ہی جان بوجھ کر مبہم رکھا۔ جماعت اسلامی کا حکومت مخالف تحریک پر موقف تو قدرے واضع ہے تاہم جمیعت علماء اسلام نے مختلف اوقات میں مختلف اشارے دیئے ہیں۔ لندن میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی کانفرنس میں جے یو آئی کے کبھی مبہم اور کبھی واضع مؤقف کی کہانی اس کانفرنس میں شریک شیر باز مزاری کے نمائندے شہریار مزاری نے سنائی۔ ’اجلاس میں سب ایک بات پر متفق ہوتے تو مولانا صاحب اس کی نفی کر دیتے تھے۔ قاضی حسین احمد بھی بظاہر دیگر سے متفق دکھائی دیتے تھے لیکن مولانا فضل الرحمان الگ ہی ایجنڈہ لے کر آئے ہوئے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ میں کوئی اتفاق ہو۔‘
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اتحاد کی مخالفت بظاہر وہی کرے گا جو صدر مشرف کو اس کا فائدہ پہنچانا چاہتا ہو یا پھر خود پیپلز پارٹی سے اتحاد کا خواہاں ہو۔ لیکن شیر باز مزاری کے بقول جے یو آئی اس کانفرنس کو ہی ناکام کرنے کی کوشش میں تھی۔ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے صدر جنرل پرویز مشرف کے قریب ہونے سے جے یو آئی کو فکر لاحق ضرور ہوئی ہے۔ یہ تشویش ایک ایسے پس منظر میں دیکھی جا رہی ہے جب کئی لوگ تو جے یو آئی کو بھی حکومت کے کافی قریب قرار دیتے ہیں۔البتہ مولانا فضل الرحمان یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وہ صدر مشرف کے لیے کوئی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا پوچھنا ہے کہ آیا جے یو آئی جماعت اسلامی کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی سے اتحاد کی خواہاں تو نہیں۔ اس کی وجہ شاید جماعت اسلامی کی جگہ پیپلز پارٹی مغرب میں قبولیت رکھنے کی وجہ سے زیادہ ’ان‘ دکھائی دے رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے برعکس جمیعت کے بارے میں ایک بات تو شروع سے واضع ہے کہ اس کی ترجیح حکومت سے باہر رہنے سے زیادہ اس میں شامل ہونے میں رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے بار بار صوبائی حکومتوں اور اسمبلیوں سے الگ ہونے کے اصرار کے مقابلے میں جمیعت اس میں رہ کر اہداف حاصل کرنے کی پالیسی پر کاربند تھی۔ جمیعت یا دیگر مذہبی جماعتوں کی ترجیحات کچھ بھی ہوں، مبصرین کے خیال میں مشرف حکومت کو بکھری ہوئی کئی مذہبی جماعتوں کی نسبت ایک اتحاد زیادہ سوٹ کرتا ہے۔ اس طرح اسے ہر ایک سے علیحدہ علیحدہ نہیں بلکہ ایک گروپ کی صورت نمٹنا آسان ہوگا۔ لیکن دوسری جانب متحد مذہبی جماعتیں زیادہ خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہیں۔ انتخابات سے قبل ہر جماعت اور اتحاد اپنی مضبوط اور کمزور پہلوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ سیاسی داؤ پیچ لگ رہے ہیں اور مذہبی جماعتیں بھی اسی میں آج کل مصروف ہیں۔ | اسی بارے میں ’ڈیل‘، چودھری برادران کی مشکل26 July, 2007 | پاکستان ’بینظیر مشرف ڈیل ملک کے خلاف‘ 28 July, 2007 | پاکستان کیا ڈیل آئین بحال کرے گی: شہباز 29 July, 2007 | پاکستان بینظیر کی مبینہ ڈیل اور سندھ30 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||