عمرہ: 20 ہزار زائرین پھنس گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان انٹر نیشنل ایئرلائنز یعنی ’پی آئی اے، کے حکام نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پھنسے ہوئے کم از کم بیس ہزار پاکستانیوں کو ایک ہفتے کے اندر واپس وطن پہنچانے کے خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق عمرہ ادا کرنے کی غرض سے سعودی عرب جانے والے ہزاروں پاکستانی شہری واپسی کی پرواز نہ ملنے کی وجہ سے جدہ میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔ پاکستان کے نجی ٹی وی چینلز کے مطابق سینکڑوں پاکستانی جدہ کے ہوائی اڈے اور ’پی آئی اے، کے دفتر کے باہر بے یارو مددگار پڑے ہیں۔ چینلز کے مطابق ’پی آئی اے، کی مبینہ بدنظمی کے باعث بیسیوں لوگوں کے پاس خرچہ تک نہیں ہے کیونکہ انہیں واپسی کی پرواز نہ ملنے کی وجہ سے مجوزہ مدت سے کئی دن زیادہ قیام کرنا پڑا ہے۔ ’پی آئی اے، کے شعبہ اطلاعات کے منیجر عبدالطیف عباسی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایئر لائن کی کوئی بدانتظامی نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری ٹریول اینجنٹوں پر ہے جو عام لوگوں کو ٹکٹ پر’او کے، لکھ دیتے ہیں یا پھر لوگ خود جو واپسی کا ٹکٹ کنفرم کرائے بغیر چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کچھ لوگ اپنا ٹکٹ کنفرم ہونے کے باوجود بھی روانگی سے قبل’ری کنفرم، نہیں کراتے۔ ان کے مطابق’او کے، ٹکٹ قواعد کے مطابق روانگی سے بہتر گھنٹے قبل ’ری کنفرم‘ کرانا لازم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’پی آئی اے، کے جدہ آفس میں عملے کے بمشکل آٹھ سے دس ارکان ہیں اور جب ایک ساتھ ہزاروں لوگ آئیں گے تو انہیں ’ہینڈل، کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ لطیف عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مرتبہ پاکستان میں قائم سعودی سفارتخانہ نے بہت زیادہ ویزے جاری کیے ہیں اور یہ عمل بھی لوگوں کے پھنسنے کی ایک وجہ بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اٹھائیس ہزار عمرہ ادا کرنے کے خواہشمند’پی آئی اے، کے ذریعے گئے لیکن اس سال باسٹھ ہزار لوگوں کو جدہ پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا بیشتر پاکستانی زائرین کی خواہش ہوتی ہے کہ ستائیس ویں رمضان کی شب وہ مکہ یا مدینہ میں گزاریں اور عید پر واپس وطن بھی پہنچ جائیں۔ ان کے مطابق اس چکر میں کئی لوگ واپسی کا ٹکٹ کنفرم کرائے بغیر اس امید پر چلے جاتے ہیں کہ بعد میں ایسا کرالیں گے اور بعد میں انہیں مشکلات کا سامنہ کرنا پڑتا ہے۔ جیو ٹی وی چینل نے ایک عربی اخبار کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سعودی وزارت حج نے پاکستانی زائرین کی واپسی میں رکاوٹوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستان کی ریاستی ایئر لائن اور ’ٹور آپریٹرز‘ کو ذمہ دار ٹھرایا ہے اور معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس ٹی وی چینل نے ’پی آئی اے‘ کی افسر ثمینہ پرویز کے حوالے سے بتایا ہے کہ تاحال چالیس ہزار زائرین کو واپس وطن پہنچادیا گیا ہے لیکن بیس ہزار سے زیادہ لوگ ابھی سعودی عرب میں ہیں۔ پی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اکیاون خصوصی پروازوں سمیت پچہتر پروازیں چلائی جارہی ہیں تاکہ باقی پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس وطن لایا جاسکے۔ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر تمام زائرین واپس وطن پہنچادیے جائیں گے۔ پی آئی اے، حکام کے مطابق کچھ’ٹور آپریٹر‘ تین سے چار دنوں کا سستا عمرہ پیکیج بناکر لوگوں کو بھیج دیتے ہیں لیکن بعد میں وہاں جاکر لوگ پھنس جاتے ہیں۔ پی آئی اے، کی جانب سے بدنظمی کے الزامات کی تردید اپنی جگہ لیکن ملنے والے اطلاعات کے مطابق ہزاروں پاکستانیوں کے جدہ میں پھنس جانے کی زیادہ ذمہ داری انہی عائد ہونے کا تاثر مل رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||