حج کا تجربہ: آپ بھی لکھئے  | | اپنے حج کے تجربات ہمیں لکھ بھیجئے | |
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان حج کے فرائض کی ادائیگی کے لئے مکہ میں جمع ہو رہے ہیں۔ اس وقت تقریباً بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان سعودی عرب پہنچ چکے ہیں جن کی تعداد ابھی مزید بڑھے گی۔ حج اسلام کے پانچ اہم ترین ارکان میں شامل ہے اور ہر صاحبِ ثروت مسلمان پر فرض ہے۔ پھر یہ واحد موقع ہے جب دنیا بھر کے مسلمان ایک ہی جگہ جمع ہو کر نہ صرف عبادت کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے سے ملتے بھی ہیں۔ اگر آپ اس سال حج کے لئے جا رہے ہیں یا اس سے قبل جا چکے ہیں تو حج کے اپنے مشاہدات و تجربات ہمیں لکھ بھیجئے۔ | | حج کے آپ کے تجربات |  |
آپ ان تجربات کو انگریزی، اردو یا roman urdu mein bhej sakte ہیں۔ میری عمر ابھی بائیس سال ہے اور میں نے سن دوہزار ایک میں اپنی دادی کے ساتھ حج ادا کیا تھا۔ آپ یقین کریں کہ جوانی کے دوران میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں اللہ کے گھر کو کبھی اتنے قریب سے دیکھوں گا اور جب میں نے وہاں جاکر سب سے پہلی دعاء مانگی تو وہ ساری کی ساری قبول ہوگئی۔ مکہ اور مدینہ کی بات ہی الگ ہے، میں وہ بیالیس دن کبھی نہیں بھول سکتا اور دعاء کرتا ہوں کہ اللہ مجھے توفیق دے کہ میں اپنی امی اور ابو کو حج پر لےکر جاؤں۔ عدنان مبین، کراچی
 | | آج وہ مقام سامنے ہے | | خانہ کعبہ کے غلاف کو تھام کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔ ہر انسان ایک نئے پیدا ہونے والے بچے کی طرح خود کو محسوس کرتا ہے، کچھ انجان، کچھ پاگل دیوانہ سا۔ یقین نہیں آتا کہ ساری زندگی جس طرف چہرہ کرکے نماز ادا کی آج وہ مقام انکھوں کے سامنے ہے
|  | شاہدہ اکرام، ابوظہبی | |
زندگی میں بہت سفر کئے ہیں لیکن چودہ سال پہلے انیس سو نوے میں جب میں اپنے شوہر کے پاس ریاض گئی تو سب سے زیادہ خوشی اسی بات کی تھی کہ عمرہ اور حج کی سعدت ملے گی۔ عمرہ تو اسی مہینے کر لیا۔ میری بیٹی کی عمر اس وقت دو سال تھی۔ میرے شوہر نے کہا کہ ہمارا نام حج کے لئے آ تو گیا ہے لیکن اتنی چھوٹی بچی کے ساتھ تم حج کر سکو گی؟ میں نے کہا کہ اگر اسے سر پر اٹھا کر بھی کرنا پڑا تو کروں گی۔ اس سال حج تیس جون کو شدید گرمی میں ہوا تھا لیکن ایمان اتنا تازہ تھا کہ ایک پل کو بھی چھوٹی بچی کے ساتھ کی وجہ سے میل ہا میل چلنے کے باوجود تکلیف کا احساس نہیں ہوا تھا۔ کعبہ کو پہلی دفعہ دیکھنے کے جذبات الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ایک مسلمان کے لئے اس سے بڑی سعادت کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ خانہ کعبہ کے غلاف کو تھام کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔ ہر انسان ایک نئے پیدا ہونے والے بچے کی طرح خود کو محسوس کرتا ہے، کچھ انجان، کچھ پاگل دیوانہ سا۔ یقین نہیں آتا کہ ساری زندگی جس طرف چہرہ کرکے نماز ادا کی آج وہ مقام انکھوں کے سامنے ہے۔ دل چاہتا ہے کہ لکھتی ہی جاؤں کہ لکھنے سے ہی دل نہیں بھرتا۔ دعا ہے کہ ہر مسلمان کو زندگی میں ایک بار ضرور یہ سعادت نصیب ہو اور ہم بھی ایک بار پھر اس مقام کی زیارت حاصل کر سکیں۔ شاہدہ اکرام، ابوظہبی
حج سے انسان میں عاجزی پیدا ہوتی ہے اور میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے سال دو ہزار دو میں اس کی ادائیگی کا فریضہ حاصل ہوا۔ یہ تجربہ آپ کو روحانی قوت دیتا ہے تاہم آپ کومیزبانوں کے رویئے کو درگزر کرنا پڑتا ہے۔ سعودی حکام انتہائی سخت گیر ہیں اور مقدس مقامات کے لئے آنے والے زائرین کے ساتھ اچھی طرح پیش نہیں آتے، سو خبردار رہئے۔ عدیل، امریکہ
میں ایک ہندو ہوں لیکن میں نے ہمیشہ مسلمانوں کو حج کے لئے جاتے ہوئے بہت خوش دیکھا ہے کیوں کہ ان کا ایمان ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں اور خدا نے انہیں موقع عطا کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا آغاز ایک نئے باب سے کر سکیں۔  دھرم، کراچی، پاکستان
 | | انتظار | | میں نے خود کو خدا کے انتہائی نزدیک محسوس کیا اور یہ کہ وہ تاریخ جس نے اس مقام پر چودہ سو برس پہلے جنم لیا میری پیدائش کے ملکوں یا میرے ورثے سے کہیں زیادہ میری ہے۔ یہاں تک کہ ہم جیسے ہی واپس گھر پہنچے میں لوٹ کر وہیں چلے جانا چاہتی تھی۔ لیکن آپ تبھی جاتے ہیں جب خدا آپ کو بلاتا ہے ، مجھے صرف اس لمحے کا انتظار کرنا ہے۔
|  | عائشہ، میری لینڈ، امریکہ | |
مجھے یاد ہے کہ وہ ہر قومیت کے لوگ موجود تھے جن میں سے کچھ کو ہم صرف وہ مسکراہٹیں بانٹ سکتے تھے جو ہمارے دلوں سے اترتی تھیں اور یا وہ عربی کے چند الفاظ جو تمام مسلمانوں کے لئے ایک ہیں۔ مجھے اپنے والدین کے وہ آنسو بھی یاد ہیں جو کعبے کو پہلی دفعہ دیکھنے پر ان کی آنکھوں میں آگئے تھے۔ لیکن سب سے زیادہ بات جو مجھے یاد ہے کہ میں نے خود کو خدا کے انتہائی نزدیک محسوس کیا اور یہ کہ وہ تاریخ جس نے اس مقام پر چودہ سو برس پہلے جنم لیا میری پیدائش کے ملکوں یا میرے ورثے سے کہیں زیادہ میری ہے۔ یہاں تک کہ ہم جیسے ہی واپس گھر پہنچے میں لوٹ کر وہیں چلے جانا چاہتی تھی۔ لیکن آپ تبھی جاتے ہیں جب خدا آپ کو بلاتا ہے ، مجھے صرف اس لمحے کا انتظار کرنا ہے۔  عائشہ، میری لینڈ، امریکہ
میری جب کعبہ پر پہلی دفعہ نظر پڑی، میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ میں نے جتنی بھی تصاویر دیکھی تھیں، وہ اصل کے مقابلے میں کچھ نہ تھیں۔ اور جب میں نے کعبے کی خوشبو سونگھی تو وہ گویا بہشت کی خوشبو تھی۔ اب تک یہ میری زندگی کا سب سے بہتر تجربہ تھا۔ میں نے کبھی اللہ کے اس قدر قریب محسوس نہیں کیا۔ یہ کیفیت مجھے بہا لے گئی۔ میں نے دس برس کی عمر میں ہی ایک ایسا تجربہ کر لیا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ اب میری عمر بارہ برس ہے اور میں اس کیفیت کو بیان کر سکتا ہوں۔ طوبہ عباسی، لیک فاریسٹ، امریکہ
|