سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) میں شامل متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی جماعتوں نے دو اکتوبر کو سرحد اسمبلی سے استعفوں کا اعلان مؤخر کرتے ہوئے پہلے اپوزیشن کی طرف سے وزیراعلی سرحد کے خلاف دائر عدم اعتماد کی تحریک سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اے پی ڈی ایم نے اعلان کیا تھا کہ اس کے اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں سے دو اکتوبر کو مستعفیٰ ہوجائیں گے لیکن اب سرحد اسمبلی سے استعفوں کے مؤخر کرنے کے فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اے پی ڈیم ایم کے اراکین منگل کو صرف قومی اسمبلی اور بلوچستان، سندھ اور پنجاب کی اسمبلیوں سے استعفیٰ دینگے۔ سرحد اسمبلی سے استعفوں کے سلسلے میں سرحد اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے منگل کو اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی طرف سے ریکوئزیشن جمع کی جارہی ہے۔ پیر کی شام وزیراعلی سیکرٹریٹ پشاور میں وزیراعلی سرحد اکرم خان درانی کی سربراہی میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایم ایم اے ، عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی رہنماؤں اور صوبائی وزراء نے شرکت کی۔
انور کمال کا کہنا تھا کہ پہلے اسمبلی تحلیل کرنے کا جو فیصلہ ہوا تھا وہ اب آئین کی رو سے نہیں ہوسکتا کیونکہ جب تک عدم اعتماد کا معاملہ نہیں نمٹایا جاتا اس وقت تک اسمبلی کے خاتمے کا مشورہ گورنر کو نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ سرحد اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لئے انہوں نے 38 ممبران کے دستخط حاصل کر لیے ہیں اور اس سلسلے میں منگل کو وہ خود اسپیکر سرحد اسمبلی کے دفتر میں جاکر ریکوئزیشن جمع کرائینگے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ اسمبلی کا اجلاس بلانے اور عدم اعتماد پر رائے شماری جیسے اس پورے عمل کا چھ اکتوبر کے صدارتی انتخاب سے پہلے پہلے مکمل ہونا تو ناممکن دکھائی دیتا ہے تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’اب وہ مقصد تو حاصل نہیں ہوگا جس کے لئے اے پی ڈی ایم نے اتنی کوشش کی تاہم پھر بھی وہ صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودہ اسمبلیوں سے انتخاب روکنے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں جاری رکھیں گے۔‘ انور کمال مروت نے بتایا کہ سرحد اسمبلی کی تحلیل کے فیصلے کے بعد ہمیں اتنے دن انتظار نہیں کرنا چاہیے تھا کیونکہ اس کا فائدہ تو جنرل مشرف اور ان کے حامیوں کو ہوا۔ سیاسی اور آئینی ماہرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی طرف سے سرحد اسمبلی کی تحلیل میں تاخیری حربے استعمال کرنے سے اسمبلی خاتمے کا یہ عمل اب مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔
دیگر اسمبلیوں سے استعفے منگل کو اس سلسلے میں پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق اسلام آباد میں منگل کو دن کے دس بجے اے پی ڈی ایم کے رہنما راجہ ظفر الحق کی قیادت میں یہ اراکین پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کرتے ہوئے جائیں گے اور اپنے استعفے اجتماعی طور پر سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کر دیں گے۔ دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ حزب اختلاف کے ایک اور رہنما مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت کے ساتھ خفیہ مفاہمت قائم ہے جس کی وجہ سے انہوں نے صدر کے موجودہ اسمبلیوں سے مع وردی انتخابات کے خلاف حزب اختلاف کے اجتماعی استعفوں کو اس قدر مؤخر کروایا کہ حکومت کو سرحد اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا موقع مل گیا تاکہ یہ صوبائی حکومت تحلیل نہ ہو سکے۔ پیر کے روز پی ایم ایل نواز گروپ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن حزب اختلاف کے اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایک اہم اور سنجیدہ رہنما ہیں جن سے قطعاً یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ حکومت کے ساتھ کوئی خفیہ ساز باز کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ بلکہ اسی مذہبی جماعت کا ایک اور گروپ جس کے قائد مولانا سمیع الحق ہیں، اے پی ڈی ایم کے اہم اراکین ہیں اور جو متفقہ طور پر صدر کے مع وردی موجودہ اسمبلیوں سے انتخابات کے خلاف پارلیمنٹ سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر مولانا سمیع الحق نے اپنے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی حامد الحق کا استعفٰی راجہ ظفرالحق کو پیش کیا۔ حامد الحق ان دنوں عمرے کی غرض سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اور وہ سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل اپنا استعفٰی اپنے والد کے حوالے کر گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد نے حقوق نسواں بل کے خلاف استعفٰی دیا ہے مگر اس اقدام کو بھی حزب اختلاف کی تحریک کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حافظ حسین احمد نے حقوق نسواں بل کی منظوری کے فوراً بعد استعفٰی کیوں نہیں دیا تھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا استعفٰی مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے کیا تھا مگر مولانا سے یہ استعفٰی گم ہوگیا تھا۔ اس موقع پر پی ایم ایل نواز گروپ کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||