BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 17:14 GMT 22:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تشدد: صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

 صحافی
سنیچر کو احتجاج کے دوران کئی درجن صحافی زخمی ہوئے
سنیچر کو صدارتی انتخاب کے لیے امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع صحافیوں پر اسلام آباد اور پشاور میں پولیس کے تشدد کے خلاف اتوار کو اسلام آباد، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور پاکستان کے دوسرے حصوں کے علاوہ مظفرآباد میں بھی صحافیوں نے احتجاج کیا اور جس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی کے مطابق سنیچر کو اسلام آباد اور پشاور میں صحافیوں پر پولیس تشدد کے خلاف اتوار کو ملک بھر کی طرح اسلام آباد میں بھی صحافیوں نے یوم سیاہ منایا۔ اس موقع پر راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرایا گیا اور صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنے پیشہ وارانہ امور انجام دیے۔

آزادی کے حق اور آمریت مخالف نعروں کے شور میں جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی کے صحافیوں کا احتجاجی مظاہرہ میلوڈی میں واقع پریس کلب کے کیمپ آفس سے شروع ہو کر بلیو ایریا سے ہوتا ہوا پارلیمنٹ ہاؤس چوک میں ایک جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔

احتجاج میں وکلاء کی جانب سے علی احمد کرد اور منیر اے ملک، سیاستدانوں کی جانب سے پیپلز پارٹی کے پرویز اشرف، مسلم لیگ نواز کے جاوید ہاشمی اور ایم ایم اے کے حافظ حسین احمد شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بھی ایک بڑی تعداد صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے موجود تھی۔ جہاں دھرنا دیا گیا، مزید نعرے لگائے گئے اور تقاریر کی گئیں۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے صحافیوں نے پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر مُردوں کی طرح لیٹ کر احتجاج کیا اور اس دوران ’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگائے۔ صحافیوں کا یہ انوکھا مظاہرہ دو منٹ تک جاری رہا جس کے بعد مظاہرین ’صحافت کی آزادی تک جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے۔

مظاہرین نے جنرل پرویز مشرف اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی
قبل ازیں پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پریس کلب کے عہدیداروں کی سربراہی میں کارکن صحافیوں نے پریس کلب شملہ پہاڑی سے ریلی نکالی اور نعرے بازی کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی جانب روانہ ہوئے۔ مظاہرین نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں اور ہاتھوں میں کالے پرچم، پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے اور وہ نعرے لگا رہے تھے ۔’گو مشرف گو، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی، صحافت کی آزادی تک جنگ رہے گی‘۔

اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات تھی لیکن کوئی ناخوشگوار واقع پیش نہیں آیا۔ صحافیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کو احتجاجاً وزیراعظم شوکت عزیز کی تقریبات اور سرگرمیوں کی کوریج نہیں کریں گے۔

صحافیوں کے اس جلوس اور احتجاجی مظاہرے میں مجلس عمل، تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کے کارکنوں نے بھی شرکت کی تھی۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار عزیزاللہ کی رپورٹ کے مطابق اتوار کو بلوچستان کے صحافیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا ہے۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی احتجاجی ریلی کوئٹہ پریس کلب سے روانہ ہوئی تو وکلا اور سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں نے ان کا ساتھ دیا۔ ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی زرغون روڈ پر گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے پہنچی جہاں مظاہرین نے دھرنا دیا ہے۔

احتجاج کے دوران صحافیوں کے نعرے
 حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران صحافیوں نے ’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ ’غنڈہ گردی نہیں چلے گی‘ ’حکومت کا جو یار ہے غدارہے غدار ہے‘ صحافیوں اور وکلاء پر حملے نامنظور نا منظور‘

اس موقع پر حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی جیسے ’یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے‘ ’غنڈہ گردی نہیں چلے گی حکومت کا جو یار ہے غدارہے غدار ہے صحافیوں اور وکلاء پر حملے نامنظور نا منظور‘۔

گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر، بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر، بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر، نیشنل پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے خطاب کیا اور حکومتی پالسیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

پشاور میں بی بی سی کے نمائندے رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس (کے ایچ یو جے ) کے زیراہتمام اسلام آباد اور پشاور میں اخبارنویسوں پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا جس میں وکلاء ، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹیز کے نمائندوں نے شرکت کی۔

احتجاجی جلوس پشاور پریس کلب سے شروع ہوا اور گورنر ہاؤس کے قریب جلسے کی شکل اختیار کرگیا۔ پشاور کے علاوہ صوبہ سرحد کے مختلف اضلاع میں بھی صحافیوں کی تنظیموں کی جانب سے اخبارنویسوں پر اسلام اباد میں تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے۔

مظفرآباد میں بی بی سی کے نمائندے ذوالفقار علی کے مطابق یوم احتجاج کے موقع پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد میں بھی صحافیوں نے مظاہرہ کیا۔ مظاہرین پاکستان کے صدر جنرل مشرف اور صحافیوں پر تشدد کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔

اسی بارے میں
ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد