’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ کے مرکزی رہنما راجہ ظفرالحق نے اس تاثر کی سختی سے تردید کی ہے کہ حزب اختلاف کے ایک اور رہنما مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت کے ساتھ خفیہ مفاہمت ہے جس کی وجہ سے انہوں نے صدر کے موجودہ اسمبلیوں سے وردی میں انتخابات کے خلاف حزب اختلاف کے اجتماعی استعفوں کو اس قدر مؤخر کروایا کہ حکومت کو سرحد اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا موقع مل گیا تاکہ صوبائی اسمبلی تحلیل نہ ہو سکے۔ پیر کے روز پی ایم ایل (نواز گروپ) کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن حزب اختلاف کے اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے ایک اہم اور سنجیدہ رہنما ہیں جن سے قطعاً یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ حکومت کے ساتھ کوئی خفیہ ساز باز کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن گروپ بلکہ اسی مذہبی جماعت کا ایک اور گروپ بھی، جس کے قائد مولانا سمیع الحق ہیں، جنرل پرویز مشرف کے وردی میں انتخاب لڑنے کے خلاف موجودہ اسمبلیوں سے مستعفی ہو رہا ہیں۔ اس موقع پر مولانا سمیع الحق نے اپنے صاحبزادے رکن قومی اسمبلی حامد الحق کا استعفٰی راجہ ظفرالحق کو پیش کیا۔ حامد الحق ان دنوں عمرے کی غرض سے سعودی عرب میں مقیم ہیں اور وہ سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل اپنا استعفٰی اپنے والد کے حوالے کر گئے تھے۔ راجہ ظفرالحق نے مزید بتایا کہ منگل کی صبح دس بجے اے پی ڈی ایم کے تمام قائدین اور اراکین پارلیمنٹ جلوس کی شکل میں پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس روانہ ہوں گے اور اپنے استعفے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کر دیں گے۔ صوبائی دارالحکومتوں میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اور اگر گورنر نے وزیراعلٰی کے مشورے پر صوبہ سرحد کی اسمبلی تحلیل کرنے سے انکار کر دیا تو بھی ایم ایم اے کے تمام اراکین صوبائی اسمبلی سے مستعفی ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے کے رہنما حافظ حسین احمد نے حقوق نسواں بل کے خلاف استعفٰی دیا ہے مگر اس اقدام کو بھی حزب اختلاف کی تحریک کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ حافظ حسین احمد نے حقوق نسواں بل کی منظوری کے فوراً بعد استعفٰی کیوں نہیں دیا تھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنا استعفٰی مولانا فضل الرحمٰن کے حوالے کیا تھا مگر مولانا سے یہ استعفٰی گم ہو گیا تھا۔ اس موقع پر پی ایم ایل نواز گروپ کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ | اسی بارے میں استعفوں اور اسمبلی توڑنے کا فیصلہ27 September, 2007 | پاکستان بیالیس استعفے قیادت کے حوالے29 September, 2007 | پاکستان حافظ حسین قومی اسمبلی سے مستعفی01 October, 2007 | پاکستان اسمبلی بچاؤ رِٹ، تحریک عدمِ اعتماد 01 October, 2007 | پاکستان ’بےنظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں‘27 September, 2007 | پاکستان سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ27 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||