BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 October, 2007, 09:28 GMT 14:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حافظ حسین احمد مستعفی

حافظ حسین احمد
’بنیادی طور پر میں نے استعفی آج نہیں دیا، بلکہ میں نے استعفی حقوق نسواں بل کے خلاف دیا تھا‘
جمعیت علمائے اسلام کے رکن اور قومی اسمبلی میں نائب پارلیمانی رہنما حافظ حسین احمد نے پیر کو قومی اسمبلی کے سپیکر کے پاس اپنا استعفی جمع کرا دیا ہے۔

حافظ حسین احمد کے مطابق اگر کوئی رکن خود یہ استعفی سپیکر کو پیش کرتا ہے تو وہ فوراً منظور تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ حقوقِ نسواں بل کی منظوری کے وقت ہی کر لیا تھا اور استعفی اپنی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد کے حوالے کر دیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں کہ انہوں نے کل جماعتی جمہوری تحریک یا اے پی ڈی ایم کی جانب سے مشترکہ طور پر منگل کو استعفے پیش کرنے کا انتظار کیوں نہیں کیا ان کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے یہ استعفی جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ کے ہمراہ جمع کرایا ہے۔

’بنیادی طور پر میں نے استعفی آج نہیں دیا، بلکہ میں نے استعفی حقوق نسواں بل کے خلاف دیا تھا۔ اُس وقت ہمارے قائدین نے بھی کہا تھا کہ اگر حدود اللہ کے خلاف بل آتا ہے تو وہ استعفی دیں گے اور بطور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میں نے اسمبلی کے فلور پر یہ بات کہی تھی کہ اس بل کے پاس ہوتے ہی میں اسمبلی کے فلور پر نہیں آؤں گا اور اُس کے فوراً بعد میں نے اپنا استفعی قاضی حُیسن احمد اور مولانا فضل الرحمن کو بھیج دیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی ڈسپلن کی وجہ سے وہ اب تک چپ رہے لیکن اُس دن کے بعد وہ اسمبلی نہیں گئے اور نہ ہی کسی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔
’چند دن پہلے اے پی ڈی ایم کے حوالے سے استعفوں کا جو فیصلہ ہوا تو میں نے قاضی حُسین احمد صاحب کو فون پر کہا کہ میرا استعفی سپریم کونسل کو دے دیا جائے تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ کہیں گم ہو گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کا بھی کہنا تھا میرا استعفی اُنہیں نہیں ملا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس جواب پر انہیں افسوس تو ہوا لیکن ’میرے پاس پرانی تاریخ کا لکھا ہوا اصل استفعی پڑا تھا جو میں نے آج جمع کرا دیا ہے‘۔

جے یو آئی کے رہنما کا کہنا تھا کہ صحافیوں اور وکلاء کے ساتھ سنیچر کو جو ہوا تو اُس کے بعد وقت ضائع کیے بغیر انہوں نے استعفی جمع کرا دیا ہے۔

الگ استعفی دینے کی وجہ کوئی بھی ہو، گزشتہ کچھ عرصے سے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد کے درمیان اختلافات بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔

اسی بارے میں
بیالیس استعفے قیادت کے حوالے
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد