حقوق نسواں بِل کی علماء کی مخالفت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد کردہ علماء اور مشائخ کے کنونشن سے منظور کردہ اعلامیہ میں حکومت کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر انہیں اعتماد میں لیے بنا حقوق نسواں بل منظور کیا گیا تو وہ عوام کو حکمرانوں کی بوریا بستر گول کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے کی اپیل کریں گے۔ انہوں نے یہ دھمکی حکومت کی جانب سے حقوق نسواں بل منظور کرانے کے لیے بلائے گئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے محض ایک روز قبل دی ہے۔ پروگرام کے مطابق علماء اور مشائخ کا یہ کنونشن ایک ہوٹل میں ہونا تھا لیکن مولانا محمد حنیف جالندھری نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کے دباؤ پر ہوٹل انتظامیہ نے عین وقت پر جگہ دینے سے انکار کردیا۔ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایف سکس فور کے ایک مدرسے کے لان میں چار دیواری کے اندر منعقد کردہ کنونشن سے تمام مسالک کے مدارس کی تنظیمات کے اتحاد کے سربراہ مولانا سلیم اللہ سمیت مختلف علماء، مشائخ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) حمید گل نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے صدر جنرل پرویز مشرف پر کڑی نکتہ چینی کی اور الزام لگایا کہ وہ امریکہ کی خوشنودی کے لیے مغربی معاشرتی اقدار کو فروغ دے رہے ہیں اور اسلامی تعلیمات کے منافی قانون سازی کر رہے ہیں۔ بعض مقررین نے کہا کہ صدر مشرف کی پالیسیوں کی بدولت فوج اور عوام آمنے سامنے ہورہے ہیں۔
مقررین نے کنونشن میں شریک علماء پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں جاکر حقوق نسواں بل کے خلاف رائے عامہ ہموار کریں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کی سلیکٹ کمیٹی سے منظور کردہ حقوق نسواں بل کو اسلام کے منافی قرار دیا۔ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے کہا کہ حکومت ایک تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کر رہی ہے کیونکہ حقوق نسواں کے بل کے اس متن کو پیش نہیں کیا جارہا جسے حکومت اور علماء کی کمیٹی نے تیار کیا تھا۔ ان کے مطابق اگر وہ مسودہ منظور کرائیں تو انہیں اعتراض نہیں۔ واضح رہے کہ چھ مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے رہنماؤں مولانا فضل الرحمٰن اور قاضی حسین احمد نے پہلے ہی دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر سلیکٹ کمیٹی کا منظور کردہ بل منظور ہوا تو وہ اسمبلیوں سے مستعفی ہوکر حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ مذہبی جماعتوں کے بعد علماء، مشائخ اور مفتیان کی اس دھمکی کے بعد حقوق نسواں کا مجوزہ بل مزید متنازعہ بن گیا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے پہلے سے اعلان کر رکھا ہے کہ دس نومبر کو شروع ہونے والے اسمبلی کے اجلاس سے سلیکٹ کمیٹی کا منظور کردہ بل ہی حکومت پاس کروائے گی۔
حکومت نے ان کی مشاورت سے غیرجانبدار علماء کی کمیٹی بنائی جس نے اس میں ترمیم کے بعد ایک نیا مسودہ دیا جس میں وزیر قانون وصی ظفر کے مطابق زنا بالجبر پر فوجداری قانون کے تحت کارروائی نہ ہونے اور چار گواہوں کی موجودگی میں اسلامی قانون کا نفاذ لازمی قرار دیا گیا تھا اور زنا بالرضا پر بھی سزا تجویز کی گئی تھی۔ جب نئے مسودے کو حکومت نے بل کی شکل دی تو حکومت کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے اعتراض کیا کہ وہ صرف سلیکٹ کمیٹی کے مسودے کی حمایت کریں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپوزیشن کی واحد جماعت تھی جس نے حکومت کے اس بل کی حمایت کی تھی لیکن جب اس میں دوبارہ اسلامی دفعات شامل کی گئیں تو انہوں نے بھی ایم کیو ایم کی طرح بل کی مخالفت کا اعلان کیا اور صرف سلیکٹ کمیٹی کا مسودہ منظور کرنے کا اعلان کیا۔ ایسی صورت میں حکومت نے کہا کہ وہ سلیکٹ کمیٹی کا مسودہ ہی ایوان میں پیش کریں گے جس پر مذہبی جماعتوں کے بعد اب علماء بھی مخالفت میں سامنے آئے ہیں ۔لیکن ان کا کہنا ہے کہ ان کا سیاسی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں وہ صرف اسلام کے منافی قانون سازی کے مخالف ہیں۔ |
اسی بارے میں حقوق نسواں بل ایک بار پھر مؤخر13 September, 2006 | پاکستان شجاعت کی قاضی سے ملاقات16 September, 2006 | پاکستان حدود بل کے خلاف خواتین کا مظاہرہ18 September, 2006 | پاکستان ’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘20 September, 2006 | پاکستان ’حدود قوانین کا جائزہ لیں گے‘30 September, 2006 | پاکستان حدود کیس۔ اٹارنی جنرل طلب04 October, 2006 | پاکستان حدود کیس: اٹارنی جنرل طلب04 October, 2006 | پاکستان حدود کیس۔ اٹارنی جنرل طلب04 October, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||