BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 14 October, 2003, 06:33 GMT 10:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کالعدم تنظیم پھر سے متحرک

کالعدم تنظیم کے کارکن
تنظیم کے کارکن طالبان طرز کی پگڑیاں باندھتے ہیں

پاکستان کے صوبہ سرحد کے قبائلی علاقے مالاکنڈ ڈویژن میں کالعدم تنظیم نفاذ شریعت محمدی نے ایک مرتبہ پھر شریعت کے نفاذ کے لئے اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

ملاکنڈ ڈویژن کے دوردراز ضلع دیر میں’شریعت یا شہادت‘ کے نعرے کی بنیاد پر انیس سو اٹھانوے میں قائم ہونے والی اس اسلامی تنظیم پر عسکریت پسندی کا الزام لگاتے ہوئے صدر پرویز مشرف نے جنوری دو ہزار ایک میں اسے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

اس فیصلے کی دو بڑی وجوہات تھیں: شریعت کے نفاذ کے مطالبے کے حق میں اس تنظیم کے کارکنوں کی انیس سو چورانوے میں خونی بغاوت اور دو سال پہلے اس تنظیم کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی اپیل پر ہزاروں افراد کا افغانستان لڑائی میں حصہ لینے کے لئے جانا اور واپس نہ آنا۔

ایک ہفتے کی بغاوت میں تقریبا چالیس افراد، جن میں بارہ قانون نافذ کرنے والے اہلکار بھی شامل تھے، ہلاک ہوئے تھے۔

افغانستان میں طالبان طرز کی کالی پگڑیاں باندھنے والے اس تنظیم کے ارکان ملک میں خصوص ملاکنڈ ڈویژن میں شریعت کا مکمل نفاذ چاہتے ہیں۔

اپنے سخت بیانات اور انیس سو چورانوے کی بغاوت کی وجہ سے اسے عسکریت پسند تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔ انیس سو اٹھانوے میں اس کے سربراہ مولانا صوفی محمد نے شریعت کے نفاذ کی مخالفت کرنے والوں کو واجب القتل قرار دیا تھا۔ تنظیم جمہوریت کو بھی غیر اسلامی مانتی ہے۔

اب تقریبا پونے دو برس تک خاموش رہنے کی بعد اس تنظیم نے مالاکنڈ میں مساجد کی سطح پر دوبارہ سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔

اس کی تفصیل مینگورہ کے ایک صحافی افتخار خان نے بتاتے ہوئے کہا کہ ماضی کی طرح یہ تنظیم ایک مرتبہ پھر مساجد کا سہارا لیتے ہوئے عوام سے رابطے استوار کر رہی ہے۔ ’ہر جمعہ کو ڈویژن کی مساجد میں یہ تنظیم باقاعدگی سے اجلاس منعقد کر رہی ہے۔`

تنظیم کے سربراہ مولانا صوفی محمد کی ڈیرہ اسمٰعیل خان جیل میں قید کی وجہ سے اب اسے مالاکنڈ ڈویژن کی قیادت چلا رہی ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں تنظیم کے سربراہ مولانا محمد عالم نے قائم مقام امیر کے طور پر قیادت سنبھالی ہوئی ہے۔

تنظیم حکومت کی جانب سے عائد پابندی کو ماننے سے انکار کرتی ہے۔ ٹی این ایس ایم کے ناظم اطلاعات خالد خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ نہ تو اسلام اور نہ شریعت کالعدم قرار دی جاسکتی ہے۔ ’شریعت کے نفاذ کے لئے جدو جہد تو آخرت تک جاری رہے گی۔‘

البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم اپنی تحریک پرامن رکھے گی۔

ملاکنڈ کے چند لوگوں کی اس تنظیم کے دوبارہ فعال ہونے پر لوگوں کا ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ یہ ختم ہے اب دوبارہ نہیں اٹھ سکتی جبکہ کچھ کے خیال میں عدل و انصاف کی عدم دستیابی اسے دوبارہ پنپنے کا موقعہ فراہم کر رہی ہے۔

حکومت نے فی الحال اس تنظیم کے متحرک ہونے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ لیکن لوگوں کے ذہنوں میں اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ تنظیم ماضی کے برعکس اس مرتبہ اپنے اہداف کے حصول کے لئے پرتشدد احتجاج سے اپنا دامن بچا پاتی ہے یا نہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد