’خواتین کونسلرز: امتیازی سلوک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع دیر کی خواتین کونسلرز کا کہنا ہے کہ انہیں ناظم اعلٰی سمیت دیگر مرد کونسلرز کے امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔ صوبہ سرحد کے قدامت پسند ضلع دیر میں خواتین کونسلروں کو فنڈز کی عدم فراہمی اور اجلاس کی کاروائیوں کے دوران علیحدہ کمرے میں بٹھانے کی شکایت بھی ہے۔ ضلع دیر صوبہ سرحد کا وہ پہلا علاقہ ہے جہاں تمام مذہبی اور سیکولر سیاسی جماعتوں نے دو ہزار پانچ کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے انتخاب نہ لڑنے کا معاہدہ کیا تھا۔ ایک سخت تنازعے کے بعد مرکزی حکومت کی مداخلت سے خواتین کو انتخاب لڑنے اور ووٹ ڈالنے کا حق مل گیا تھا لیکن اس کے باوجود ضلع دیر میں خواتین کی بیس نشستوں پر انتخابات نہ ہو سکے اور یہ نشستیں تاحال خالی پڑی ہیں۔ ایک خاتون کونسلر کشور سلطان کا کہنا ہے کہ’حکومت نے خواتین کے لیئے تینتیس فیصد نشستیں مختص کی ہیں لیکن دیر کے ضلعی ناظم اور مرد، خواتین کو سیاست میں نہیں آنے دیتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عورتیں تاریک کمروں سے نکل کر اسمبلی پہنچی ہیں اور انہیں کچھ معلوم نہیں لیکن مجھ میں ہمت ہے اور اپنا حق مانگ سکتی ہوں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’رواں سال کے ضلعی بجٹ میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے اور ہمیں محض ایک لاکھ جبکہ مرد کونسلرز کو دو لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔ ہمیں فنڈز میں برابر کا حصہ چاہیئے کیونکہ پیسہ ان کی جیب سے تو نہیں جاتا‘۔ متحدہ مجلس عمل کی جانب سے منتخب ضلع دیر کے ناظم صاحبزادہ طارق اللہ اگرچہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مرد کونسلرز کو خواتین کے مقابلے میں فنڈ زیادہ ملتاہے لیکن وہ اس کی وجہ خواتین کی طرف سے مطالبہ نہ کرنا بتاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ’ فنڈز کے لحاظ سے ہمارا ضلع غریب ہے۔ ہم نے مرد کونسلرز کے لیئے دو لاکھ اور خواتین کے لیئے ایک لاکھ روپے مختص کیئے ہیں اور اس فیصلے کوخواتین نے منظور کیا ہے‘۔ کشور سلطان نے ناظم اعلٰی کی بات کو رد کرتے ہوئے کہا کہ’میں نے ناظم کو برملا کہا کہ ہمیں یہ فیصلہ ہرگز منظور نہیں اور جس طرح وہ منتخب ہو کے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی منتخب ہوئے ہیں۔ مقامی خواتین کو ہم سے توقعات ہیں کہ ہم ان کی فلاح و بہبود کے لیئے کام کر سکتے ہیں‘۔ ضلع دیر کی ترانوے خواتین کونسلرز صرف فنڈز کی کمی کی شکایت نہیں کرتیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ سِرے سے انہیں خواتین ہونے کی وجہ سے اجلاس کی کاروائیوں سے دور رکھنے کے لیئے علیحدہ بٹھایا جاتا ہے۔ خاتون کونسلر تمثیلہ کا کہنا ہے کہ ’علیحدہ بیٹھ کر ہم خواتین کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ ہماری نہ کوئی سنتا ہے اور نہ ہی مانتا ہے ۔ہم خاندانی اور سماجی دباؤ جھیل کر اسمبلی پہنچے ہیں اور عورتوں کی معاشی اور سماجی حالت بہتر بنانے کے لیئے اسمبلی میں آئے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ’دیر کی خواتین پسماندہ ہیں اور ہم نے ان کے لیئے دستکاری مراکز کے قیام کا خیال پیش کیا تھا لیکن یہاں حالت یہ ہے کہ ہمیں اسمبلی کا حصہ نہیں سمجھا جاتا اور ایک الگ کمرے میں بٹھا دیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں ہم اسمبلی کی کارروائی اور فیصلوں سے آخر تک بےخبر رہتے ہیں‘۔ خواتین کونسلر کی یہی شکایت جب ضلع دیر کے ناظم طارق اللہ کے سامنے رکھی گئي تو ان کا کہنا تھا’ہم نےگزشتہ اسمبلی میں بھی خواتین کو حصہ لینے کا حق دیا تھا لیکن اس بار ہمارے پاس جگہ کی کمی ہے، البتہ ہم نے علاقائی روایات کے تحت اسمبلی میں مردوں اور خواتین کے درمیان ایک پردہ لٹکایا ہے تاکہ پردے کا انتظام ہو۔ اگر ہم اس طرح نہیں کرتے تو علاقے کے لوگ اعتراض کریں گے‘۔ | اسی بارے میں ’میں نے ہمت نہیں ہاری‘ ثمینہ ناز06 June, 2005 | پاکستان مقامی حکومتوں کے چار سال: ایک جائزہ 01 August, 2005 | پاکستان 47422 خواتین امیدوار میدان میں11 August, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||