بادشاہ مرگیا، بادشاہ زندہ باد! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی عدالتِ عظمٰی کے نو رکنی بینچ نے صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنے، سترہویں آئینی ترمیم نیز وردی میں صدارتی انتخاب لڑنے کے خلاف آئینی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ عدالت نے مختصر فیصلے میں تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے رائے دی ہے کہ مذکورہ درخواستیں آئین کی شق184 (3) کے مطابق قابلِ سماعت نہیں ہیں۔ یہ فیصلہ آئندہ برسوں میں پاکستان میں دستوری اور سیاسی عمل کے خدوخال پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ عدالتِ عظمٰی کے مختصر حکم میں فیصلے کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں تاہم آئین کی دفعات43 اور 63 کی بجائے184 (3) کے ذکر سے اشارہ ملتا ہے کہ عدالتِ عظمٰی نے آئینی درخواستوں میں اٹھائے گئے حقیقی سوالات کی بجائے دائرۂ سماعت کے زاویے سے فیصلہ دیا ہے یعنی زیرِ بحث نکات کی بجائے تکنیکی بنیادوں پر فیصلہ سنایا گیا۔ قانونی محاورے میں اس نوعیت کے فیصلوں کو قانون کی روح کی بجائے لفظی تشریح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایک ناخوشگوار سنگِ میل وفاقِ پاکستان کے نام مولوی تمیزالدین کا مقدمہ ہے۔ گورنر جنرل غلام محمد نے 1954 میں پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی برطرف کر دی تھی۔ سندھ ہائی کورٹ نے مولوی تمیزالدین کی آئینی درخواست پر آئین ساز اسمبلی بحال کرنے کا حکم دیا۔اس فیصلے کے خلاف مرکزی حکومت کی اپیل پر سپریم کورٹ نے مولوی تمیزالدین کے اصل دعوے کی تفصیل میں گئے بغیر فیصلہ دیا کہ سندھ ہائی کورٹ کو مقدمے کی سماعت کا اختیار نہیں تھا۔ چنانچہ مولوی تمیزالدین مقدمہ ہار گئے۔ چیف جسٹس منیر کا یہ تیکنیکی فیصلہ 53 برس سے پاکستان کی عدلیہ اور سیاست پر منڈلا رہا ہے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ مولوی تمیزالدین کی آئینی درخواست منظور کرنے والے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کانسٹنٹائن عقیدے کے اعتبار سے مسیحی تھے۔ 2007 میں سپریم کورٹ کے نو رکنی بنچ کے سربراہ اور اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے جسٹس بھگوان داس ہندو عقیدہ رکھتے ہیں۔ یہ اتفاق بھی ملاحظہ ہو کہ فروری 1979 میں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سپریم کورٹ کے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کر کے بھٹو صاحب کو بری قرار دینے والے تینوں جج غیر پنجابی تھے۔ 28 ستمبر کے فیصلے میں بھی اختلافی رائے دینے والے تینوں جج غیر پنجابی ہیں۔ آئینی درخواستوں کے بارے میں دائرۂ سماعت کی بنیاد پر فیصلے کا ایک زاویہ یہ ہے کہ صدر مشرف کے دوہرے عہدے نیز سرکاری ملازمت کے دوران صدارتی انتخاب لڑنے کے تنازعے پر عدالتی رائے واضح نہیں ہو سکے گی۔ صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے سامنے جنرل پرویز مشرف کی بطور صدارتی امیدوار اہلیت پر سوال اٹھائیں گے اور داد رسی نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ عدالتِ عظمٰی سے رجوع کریں گے۔ گویا 28 ستمبر کے فیصلے سے حکومت کو صدارتی انتخاب تک مہلت تو مل گئی ہے لیکن دستوری اور قانونی نزاع کا حتمی حل سامنے نہیں آ سکا۔ گزشتہ مہینوں میں صدر مشرف اور ان کے اتحادیوں نے یہ ارادہ چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ صدر مشرف ہر قیمت پر اگلے پانچ برس کے لیے ملک کا صدر رہنا چاہتے ہیں۔ کچھ مبصرین مارچ میں چیف جسٹس افتخار چوھدری کی برطرفی سے پیدا ہونے والے بحران کو بھی اسی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ آٹھ برس سے صدارت پر قابض جنرل پرویز مشرف کی اس واضح خواہش کے نتیجے میں عدالتِ عظمٰی کے لیے ایک مشکل سوال عدلیہ اور حکومت میں براہِ راست تصادم سے گریز تھا۔ صدر نے پہلے عدالتِ عظمٰی کو یقین دہانی کرائی کہ وہ دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد حلف برداری سے قبل فوجی عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔ بعد ازاں پیغام دیا گیا کہ صدر مشرف دوبارہ منتخب نہ ہو سکے تو فوج کے سربراہ کا عہدہ برقرار رکھیں گے۔ صدر مشرف کے ان واضح اشاروں کے پیشِ نظر عدالتی فیصلے میں معاملے کے خالص سیاسی پہلوؤں سے گریز قابلِ فہم ہے۔ عدالتِ عظمٰی نے متعدد مواقع پر درخواست گزار سیاسی حلقوں کو یاد دلایا کہ انہوں نے سترہویں ترمیم کی صورت میں ماورائے دستور بندوبست پر سمجھوتہ کرلیا تھا لیکن اب یہ چاہتے ہیں کہ عدالتِ عظمٰی حزبِ اختلاف کی کوتاہ بینی کا کفارہ ادا کرے۔ مئی 2000 میں عدالت کی طرف سے وردی کو تحفظ دینے کا ذکر آیا تو عدالت نے یاد دلایا کہ قانونی نکتہ آفرینی کو پارلیمانی جواز سیاسی قوتوں ہی نے فراہم کیا تھا۔
موجودہ صورتِ حال میں حزبِ اختلاف میں یک سوئی کا فقدان بھی تاریخ کا حصہ بنے گا۔ اے پی ڈی ایم کی رکن جماعتوں کو موجودہ اسمبلیوں سے صدر کے دوبارہ انتخاب پر اعتراض تھا لیکن انہوں نے اپنے صدارتی امیدوار کو نامزد کر کے بالواسطہ طور پر موجودہ اسمبلیوں کے حقِ انتخاب کو تسلیم کر لیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے ابتدا ہی سے صدر کی وردی کے بارے میں گومگو کی کیفیت برقرار رکھی بلکہ مخدوم امین فہیم کی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی سے یہ واضح پیغام بھی دیا کہ پیپلز پارٹی اسمبلیوں سے استعفے دے کر صدر کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اے پی ڈی ایم کے پشاور اجلاس میں اپنے اتحادیوں کے پیہم اصرار پر استعفوں کی ہامی تو بھر لی تھی لیکن عدالت کے فیصلے سے انہیں پہلوتہی کا جواز مل گیا۔ یوں بھی انہوں نے مرحلہ وار استعفوں کا شوشا چھوڑا ہی اس لیے تھا کہ اس دوران حکمران مسلم لیگ کے صوبائی ارکانِ اسمبلی تحریک عدم اعتماد پیش کر کے اسمبلی کی تحلیل کو قانونی طور پر ناممکن بنا دیں۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ حزبِ اختلاف خود اصولی موقف سے گریزاں ہے اور عدالتِ عظمٰی کو شہادت کے درجے پر فائز کرنا چاہتی ہے ۔ توقع ہے کہ صدر مشرف عدالت عظمٰی کو کرائی گئی یقین دہانی کے مطابق دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد فوج کی سربراہی سے دستبردار ہو جائیں گے لیکن اس کے بعد ایک اہم سوال بطور ادارہ فوج کے کردار کے بارے میں اٹھے گا۔ افواجِ پاکستان کے سربراہ کی حیثیت میں صدر مشرف کو بیرونی اور داخلی امور میں فوج کی تائید ملنا معمول کی بات تھی۔ دیکھنا یہ ہو گا کہ وزیرستان کے بحران اور اندرونِ ملک حزبِ اختلاف کی ہنگامہ آرائی جیسے مشکل مراحل میں فوج ایک سویلین صدر (خواہ وہ فوج کا سابق سربراہ ہی کیوں نہ ہو) کی ایسی ہی غیرمشروط حمایت کرے گی یا نہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف صدر ایوب کو ایسی صورتِ حال پیش آئی تھی جنہوں نے صدر منتخب ہونے کے بعد فوجی عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ انہوں نے عوامی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے فوج سے مدد چاہی تو جنرل یحیٰی خان نے انہیں کورا جواب دے دیا تھا۔ عدالتِ عظمٰی کے فیصلے سے وقتی طور پر ایمرجنسی یا مارشل لا کے نفاذ کا خطرہ تو ٹل گیا ہے لیکن سیاسی عدم استحکام اور عوامی بے چینی کا حل سپریم کورٹ کے پاس نہیں۔ پاکستان کو ایک بہت بڑا خطرہ شمال مغربی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کی موجودگی سے درپیش ہے۔
بین الاقوامی برادری میں کسی ریاست کا مقام اس کے جمہوری ڈھانچوں سے بھی زیادہ اس کی مؤثرقوتِ نافذہ سے طے پاتا ہے۔ پاکستان میں مذہبی شدت پسندوں سے تصادم میں فوج کا جانی نقصان اندازے سے کہیں زیادہ ہوا ہے۔ دہشت گرد عناصر اپنا اثرو نفوذ پھیلانے کے لیے شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے ہتھکنڈے آزما رہے ہیں۔ بچیوں کی تعلیم، اقلیتوں، موسیقی اور نام نہاد فحاشی کے خلاف مہم جوئی اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ عوام کی اچھی خاصی تعداد نہ صرف یہ کہ مذہبی انتہا پسندی کے خطرات سے کماحقہ آگاہ نہیں بلکہ اس کی حمایت بھی کرتی ہے ۔ ایٹمی صلاحیت سے بہرہ ور ریاست کی ایسی کمزور قوتِ نافذہ جلد یا بدیر ایسے بحران کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے کہ انتخاب، پارلیمان، دستور اور سیاسی جماعتوں کی چھین جھپٹ جیسے معاملات یکسر بےمعنی ہو کر رہ جائیں۔ عدالت کے پیش نظر بنیادی سوال یہ تھا کہ سیاست میں فوج کی مداخلت اور بالادستی کو روکا جائے یا نہیں۔ یہ بنیادی طور پر سیاسی سوال ہے۔ سیاسی سوالات کا جواب سیاسی عمل ہی میں ڈھونڈا جاتا ہے، عدالتی ایوانوں میں نہیں۔ سرکاری حاشیہ نشین پھولے نہیں سما رہے کہ عدالت نے تصادم کی بجائے بتدریج شراکتِ اقتدار اور انتقالِ اقتدار کو ترجیح دی ہے لیکن سینے پر ہاتھ رکھ کے کون کہہ سکتا ہے کہ صورتِ حال میں بتدریج تبدیلی کا کوئی گمان بھی مقتدر قوتوں کے پاس پھٹکا ہے۔ فوج ہر قیمت پر اقتدار پر بالادستی برقرار رکھنا چاہتی ہے اور سیاسی قوتیں اقتدار میں مقدور بھر حصے کی ضمانت پر فوج کی بالادستی قبول کرنے پر تیار ہیں۔ نظریہ ضرورت دفن نہیں ہوا، بدستور کنویں میں موجود ہے۔ آئینی درخواستوں کی مشق کنویں سے پانی کی بالٹیاں نکالنے کے مترادف ہے۔ انگریزی محاورے کے مطابق، بادشاہ مرگیا، بادشاہ زندہ باد! یہ اب آپ کی صوابدید ہے کہ اس محاورے میں بادشاہ کے استعارے کو نظریہ ضرورت سمجھ لیں یا فوج کی مداخلت۔ |
اسی بارے میں آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل21 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو20 September, 2007 | پاکستان الیکشن کمیشن کے گھیراؤ کا اعلان20 September, 2007 | پاکستان ’ماورائے آئین کام تو آپ نے خود کیا‘19 September, 2007 | پاکستان صدر کا تحریری بیان، اخبارات کی سرخیاں19 September, 2007 | پاکستان صدارتی بیان دھوکہ ہے: قاضی18 September, 2007 | پاکستان ’دوبارہ صدر منتخب ہوا تو وردی اتار دوں گا‘18 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||