BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 October, 2007, 06:09 GMT 11:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وجیہہ کے بیان پر سپریم کورٹ برہم

جسٹس جاوید اقبال
سپریم کورٹ دس رکنی بینچ صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی کی منظور پرخلاف پٹیشنوں کی سماعت کر رہا ہے
سپریم کورٹ آف پاکستان کے دس رکنی لارجر بینچ نے صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین کے اس بیان پر برہمی کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے بینچ کی تشکیل پر اعتراض کیا تھا۔

جمعرات کے روز جب چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں جسٹس وجیہہ الدین نے جو بینچ کی تشکیل سے متعلق جو ریمارکس دیئے ہیں وہ انتہائی ہتک آمیز ہیں اور ان ریمارکس کو دیتے ہوئے انہوں نے تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ اگر بینچ لوگوں کی مرضی کے مطابق بننے لگیں تو اس ادارے کا کیا بنے گا۔ انہوں نے جسٹس وجیہہ الدین کے وکیل حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس پر حامد خان نے کہا یہ عدالت کے دائرہ کار میں ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عدالت کا مذاق اڑانے کا سلسلہ بند ہوتا چاہیے۔

اس موقع پر جسٹس نواز عباسی نے میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ہر ٹی وی چینل نے ایک علیحدہ عدالت لگا رکھی ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ ہر گیم کے کچھ اصول ہوتے ہیں، چینل عدالت عدالت کھیلنا بند کریں۔

جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ عوامی مفاد کے معاملات پر بحث میڈیا کا حق ہے لیکن ہر ادارے کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ نو مارچ کو جو کچھ ہوا اس طرح کی انہونیاں ہوتی رہتی ہیں جو لوگوں کو برداشت کرنی چاہیے۔ بینچ میں شامل ججوں نے اٹارنی جنرل کو بھی ٹی وی چینلوں پر دیئے گئے بیانات کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔

جسٹس جاوید اقبال نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم آپ کو سن رہے ہیں تو یہ قومی مفاد میں سن رہے ہیں، جسٹس وجیہہ الدین کی وجہ سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر فریقین کو بینچ پر اعتماد نہیں ہے تو اس کا کارروائی کو آگے چلانا مشکل ہے۔

اس موقع پر نے بینچ نے پندرہ منٹ کے لیے عدالت کی کارروائی روک دیا اور جب جج صاحبان عدالت میں واپس آئے تو انہوں نے کہا کہ وہ قومی مفاد میں عدالت کی کارروائی جاری رکھیں گے۔

اسی بارے میں
سماعت اب دس رکنی بنچ کرے گا
03 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد