’آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئینی ماہرین نے حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے استعفے دینے پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدارتی انتخاب کے موقع پر بیس سے تیس فیصد ارکان اسمبلی مستعفی ہو جاتے ہیں تو اس سے صدارتی انتخاب مشکوک رہیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر وفاق کی علامت ہیں اور کسی صوبے کی منتخب اسمبلی تحلیل ہوجاتی ہے تو اس سے اس صوبے کی نمائندگی نہیں ہوگی۔ ان کے بقول صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹرول کالج سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے اور کسی ایک اکائی کی نمائندگی نہ ہونے سے الیکٹرول کالج مکمل نہیں ہوتا اور اکائی کے بغیر صدارتی انتخاب دستور کی روح کے منافی ہے۔ ان کی رائے ہے کہ یہ عمل عجیب لگتا ہے کہ ایک ایسی اسمبلی جو اپنی پانچ سال کی معیاد مکمل کر رہی ہے اور صدر کو آئندہ پانچ سال کے لیے منتخب کرے۔ ان کے بقول نئی اسمبلی جس کی آئینی مدت سنہ دو ہزار بارہ میں ختم ہوگی اس وقت نئے صدر مملکت کا انتخاب کرے گی جب اس کی اپنی معیاد ختم ہونے والی ہوگی۔ سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم مسعود کا موقف ہے کہ حزب اختلاف کے ارکان کے استعفیْ دینے سے الیکٹرول کالج کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ بدستور قائم رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکٹرول کالج اس وقت متاثر ہوتا ہے جب کوئی اسمبلی تحلیل ہوجائے کیونکہ آئین کے تحت صدر کے انتخاب کا الیکٹرول کالج سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں پر مشتمل ہوتا ہے اس لیے ان میں سے کسی ایک اکائی کی تحلیل کی صورت میں الیکٹرول کالج نامکمل ہو جائے گا۔ سابق اٹارنی جنرل پاکستان قاضی جمیل کا کہنا ہے کہ حزب مخالف کے ارکان اسمبلی کے استعفیْ دینے سے الیکٹرول کالج ختم نہیں ہوا ہے تاہم اس کے ارکان کی تعداد میں کمی ہوگئی ہے۔ ان کے بقول آئین اس بارے میں خاموش ہے کہ صدارتی انتخاب کے موقع پر اتنی بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی مستعفیْ ہوجائیں تو صدارتی انتخاب کی کیا صورت ہوگی۔ ان کا موقف ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ اتنی بڑی تعداد میں ارکان اسمبلی مستعفیْ ہوئے ہیں اور آئین میں ایسی صورت حال کے حوالے سے کوئی شق نہیں اور دستور میں ابہام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات تو طے ہے کہ صدارتی انتخاب کے موقع پر اتنی بڑی تعداد میں ارکان کے استعفے دینے سے صدارتی چناؤ کی ساکھ متاثر ہوگی۔ حکمران جماعت مسلم لیگ کے سینیٹر اور سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کی رائے ہے کہ اپوزیشن کے ارکان کے استعفیٰ دینے سے صدارتی انتخاب کے حوالے سے کسی قسم کی قانونی پیچیدگیاں پیدا نہیں ہونگی۔ ان کا موقف ہے کہ ارکان اسمبلی کے آنے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب پچیس ارکان اجلاس میں بیٹھے ہوں۔ ان کے بقول اسمبلی کے اجلاس کے کورم کے لیے ایک چوتھائی ارکان کی ضرورت ہوتی ہے اور ایک چوتھائی ارکان کی موجودگی میں اجلاس ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی اسمبلی کی تحلیل سے الیکٹرول کالج ختم نہیں ہوتا ہے۔ صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹرول کالج اس وقت قائم رہتا ہے جب تک پارلیمنٹ کو تحلیل نہ کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تحلیل کی دو صورتیں ہیں۔ اول تو وزیر اعظم اسمبلی توڑنے کا مشورہ دیں یا پھر صدر اپنے اختیارات کے تحت اسمبلی کو تحلیل کردیں۔ ان کے بقول آج دونوں صورتیں موجود نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں ’اسمبلی رہےگی، انتخاب کا بائیکاٹ‘02 October, 2007 | پاکستان قومی اور صوبائی اسمبلی کے 164 اراکین نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان آئینی درخواستوں کے لیے لارجر بنچ02 October, 2007 | پاکستان پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 2502 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||