BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 25

ایم ایم اے کے ارکان اسمبلی اپنے کارکنان کے ساتھ سندھ اسمبلی پہنچے
قومی اسمبلی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تین صوبائی اسمبلیوں سے بھی اٹھہتر اراکینِ اسمبلی نے استعفٰے دیے ہیں۔

مستعفی ہونے والے اراکین میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے علاوہ حکمران جماعت مسلم لیگ(ق) کے چھ ارکان بھی شامل ہیں۔

لاہور سے بی بی سی اردو کے نمائندے علی سلمان کے مطابق اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے چالیس جبکہ مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے چھ اراکینِ صوبائی اسمبلی نے اپنے استعفے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کو پیش کر دیے ہیں۔مستعفی ہونے والے اراکین میں مسلم لیگ (ن) کے بتیس، جماعتِ اسلامی کے آٹھ جبکہ مسلم لیگ(ق) کے چھ ارکان شامل ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی جانب سے رانا ثناء اللہ نے جبکہ جماعت ِ اسلامی کی جانب سے اصغر علی گجر نے استعفے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے پاس جمع کروائے۔

حکمران مسلم لیگ کے تین اراکین ایسے تھے جو موقع پر موجود نہیں تھے اور رانا ثناءاللہ نے ان تحریری استعفے ان کے مختار ناموں سمیت جمع کرائے۔ مسلم لیگی قائد رانا ثناءاللہ نے کہا کہ لیلی مقدس، عامر سہوترااور خالد کلیار کو پولیس تنگ کر رہی ہے اور اس لیے انہوں نے اپنے مختار نامے دیے ہیں۔

دیگر تمام تینتالیس اراکین استعفے دیے جانے کے موقع پر موجود رہے اور اونچی آواز میں’گو مشرف گو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ حکمران مسلم لیگ کے جو تین اراکین استعفوں کے موقع پر موجود تھے ان میں رب نواز لک،اکرم گجر اور اظہر ندیم شامل ہیں۔

کارکنوں نے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اٹھا ر کھے تھے

سیکرٹری اسمبلی سعید احمد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ محض ڈاکخانے کا کام اداکر رہے ہیں اور وہ یہ استعفے سپیکر پنجاب اسمبلی کو پہنچا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ استعفوں کو منظور یا نامنظور کرنا سپیکر پنجاب اسمبلی کا کام ہے اور جب وہ ذاتی طور پر مطمئن ہونگے کہ اراکین اسمبلی نے رضاکارانہ طور پر کسی دباؤ میں آئے بغیر ذاتی طور پر استعفی دیا ہے تو وہ اسے منظور کریں گے۔ایک سوال کے جواب سیکرٹری اسمبلی نے کہا کہ قواعد کے مطابق استعفی منظور کرنے کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے البتہ استعفی جب بھی منظور ہوا وہ اس تاریخ سے نافذ العمل ہوگا جس تاریخ کو جمع کرایا جائے گا۔

قبل ازیں پنجاب اسمبلی سے اپوزیشن کے مذکورہ اراکین پریس کلب سے مارچ کرتے ہوئے اسمبلی تک پہنچے۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صوبائی صدر سردار ذوالفقار علی کھوسہ اور کارکنوں کی ایک تعداد بھی موجود تھی۔

سیاسی کارکن اور اراکین اسمبلی نے مسلم لیگ نواز، جماعت اسلامی کے جھنڈے اور نواز شریف، شہباز شریف کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں اور’گو مشرف گو‘، ’امریکہ کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے‘ اور’وزیراعظم نواز شریف‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی لیکن انہوں نے مظاہرین کو نہیں روکا۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے عزیز اللہ کے مطابق آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کی اپیل پر بلوچستان اسمبلی کے پچیس اراکین اسمبلی نے منگل کو اپنے استعفے سپیکر جمال شاہ کاکڑ کو پیش کر دیے۔

استعفی دینے والے اراکین کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے

کوئٹہ میں ایم پی اے ہاسٹل سے اراکین اسمبلی کارکنوں کے ساتھ جلوس کی صورت میں بلوچستان اسمبلی پہنچے۔ اس موقع پر کارکنوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کرتے رہے۔

مستعفی ہونے والے اراکین میں متحدہ مجلس عمل کے سولہ، نیشنل پارٹی کے پانچ اور پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے چار اراکین شامل تھے۔ متحدہ مجلس عمل کے تین اراکین خود موجود نہیں تھے اس لیے ان کے استعفے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع نے پیش کیے۔

بلوچستان اسمبلی کے سپیکر جمال شاہ کاکڑ کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے ہے تاہم انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت وہ مستعفی نہیں ہو سکتے۔ بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا ہے آج ملک بھر میں اسمبلیوں سے بیک وقت استعفے دینے سے ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے اور اس سے آمریت کو جڑ سے اکھاڑنے میں مدد ملے گی۔

کراچی سے بی بی سی کے نمائندے احمد رضا کے مطابق سندھ اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل کے کل آٹھ اراکینِ اسمبلی میں سے سات کے استعفے سپیکر کے پاس جمع کروائے گئے ہیں جبکہ ایم ایم اے کے مطابق حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک رکن اسمبلی عبدالرحمان راجپوت بروقت ایوان میں نہ پہنچ سکے اور یوں ان کا استعفی جمع نہ کروایا جا سکا۔

استعفٰی دینے والے سات میں سے بھی صرف تین ارکان اسمبلی میں پیش ہو سکے۔ سپیکر سندھ اسمبلی سید مظفر حسین شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں سات استعفے پیش کیے گئے ہیں۔ ان میں حمید اللہ خان، مولانا عمر صادق اور نصر اللہ شجیع ان کے روبرو پیش ہوئے جبکہ باقی چار مولانا احسان اللہ ہزاروی، حافظ محمد نعیم، محمد یونس بارائی اور کلثوم نظامانی خود پیش نہیں ہوئے لیکن ان کے استعفے پیش کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ مولانا احسان اللہ اور حافظ نعیم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ عمرے پر گئے ہوئے ہیں جبکہ یونس بارائی کے استعفے کے ساتھ ایک خط بھی منسلک ہے جس میں انہوں نے نصراللہ شجیع کو جو ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر ہیں استعفی پیش کرنے کی اتھارٹی دی ہے لیکن کلثوم نظامانی ملک میں ہیں وہ خود پیش نہیں ہوئیں۔

سپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ یہ استعفے جانچ پڑتال کے لیے اسمبلی سیکرٹریٹ میں بھیجے جا رہے ہیں اور دو تین دن میں ان کے بارے میں قواعد کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ استعفوں کے سلسلے میں سپیکر کو اس بات کا اطمینان کرنا ہوتا ہے کہ استعفے رضاکارانہ طور پر دیے گئے ہیں۔

منگل کی صبح سے ہی سندھ اسمبلی کو جانے والی شاہراہ کو دونوں طرف سے رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا گیا تھا اور وہاں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔ قبل ازیں استعفی پیش کرنے کے لئے آنے والے ایم ایم اے کے ارکان اسمبلی لگ بھگ سو کارکنان کے ساتھ اسمبلی پہنچے تو انہوں نے جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مسلم لیگ(ن) کی جانب سے رانا ثناء اللہ نے بنجاب اسمبلی میں استعفے جمع کروائے

اسمبلی گیٹ پر تعینات پولیس اہلکاروں سے ایم ایم اے کے ارکان اسمبلی کی تلخ کلامی اور کھینچا تانی بھی ہوئی جب انہوں نے اپنے ساتھ کارکنوں کو اسمبلی کے اندر لے جانے کی کوشش کی اور پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی تاہم کئی کارکن اسمبلی کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے اسمبلی کے احاطے اور عمارت کے اندر بھی جنرل مشرف اور موجودہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

ایم ایم اے کے ارکان اسمبلی کے عمارت کے اندر داخل ہونے کے بعد باہر رہ جانے والے کارکنوں پر پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا اور ان میں سے بعض کو حراست میں لے لیا۔ دریں اثناء پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درجن بھر کارکن بھی اسمبلی کی عمارت کے سامنے پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور جنرل مشرف، بے نظیر بھٹو اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔

اسی بارے میں
164 ارکان نے استعفے دے دیے
02 October, 2007 | پاکستان
حافظ حسین احمد مستعفی
01 October, 2007 | پاکستان
’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘
01 October, 2007 | پاکستان
سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر
01 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد