164 ارکان نے استعفے دے دیے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے 164 اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی نے اپنے استعفے سپیکر کے پاس جمع کرا دیے ہیں۔اے پی ڈی ایم کی طرف سے 86 استعفے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کیے گئے جبکہ پنجاب میں چھیالیس، بلوچستان میں پچیس اور سندھ میں سات اراکینِ صوبائی اسمبلی نے استعفے دیے۔ سرحد اسمبلی میں متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی جماعتوں نے استعفوں کا اعلان مؤخر کرتے ہوئے وزیراعلی سرحد کے خلاف دائر عدم اعتماد کی تحریک کا مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ قومی اسمبلی سے استعفٰی دینے والوں میں ایم ایم کے باسٹھ، مسلم لیگ نواز کے بیس، تحریکِ انصاف اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے ایک، ایک جبکہ مسلم لیگ(ق) سے تعلق رکھنے والی دو خواتین رکن اسمبلی شہزادی عمر زادی ٹوانہ اور ڈاکٹر سائرہ طارق بھی شامل ہیں۔ جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حسین احمد ایک روز قبل جبکہ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد تیئس جولائی کو مستعفی ہوگئے تھے۔ اے پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے واقع پارلیمنٹ لاجز سے ایک جلوس کی شکل میں قومی اسمبلی گئے جہاں سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے ان سے استعفے اپنے چیمبر میں وصول کیے۔پارلیمنٹ لاجز سے جلوس میں بڑی تعداد میں حزب اختلاف کے کارکن اپنی اپنی جماعتوں کے پرچم اٹھائے شامل تھے۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی، رسول بخش پلیجو اور بلوچ قوم پرست سیاستدان عبدالحئی بلوچ بھی موجود تھے۔ یہ رہنما اور کارکن تمام راستے مشرف مخالف نعرہ بازی بھی کرتے رہے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے سب سے پہلے اپنا استعفیٰ سپیکر قومی اسمبلی کے حوالے کیا بعد میں قائد حزب اختلاف نے متحدہ متحدہ عمل کے ارکان اسمبلی کے استعفے اجتماعی طور پر سپیکر اسمبلی کے حوالے کیے۔
سپیکر کے چیمبر میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی رہنما لیاقت بلوچ نے استعفے پیش کرنے سے قبل ایک مختصر خطاب میں صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف چارج شیٹ پیش کی۔ صدر مشرف کے خلاف الزامات میں عریانی و بے حیائی کے علاوہ فوجی طاقت کا بلوچستان اور قبائلی علاقوں میں استعمال اور لال مسجد کی بےحرمتی شامل تھے۔ اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنماجاوید ہاشمی نے اپنی پارٹی کے ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے سپیکر کے حوالے کیے۔اے پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما محمود خان اچکزئی نے بھی اس موقع پر اپنا استعفی جمع کرایا۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جن بیس افراد کے استعفے جمع کوائے گئے ہیں ان میں سے تین افراد ایسے ہیں جو مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر رکن منتخب ہوئے تھے لیکن انہوں نے بعدازاں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ ان اراکینِ اسمبلی میں علی حسن گیلانی ، بلال ورک اور اختر کانجو شامل ہیں۔ استعفے جمع کروانے کے بعد قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان استعفوں کے بعد اب صدر کے انتخاب کی کوئی سیاسی یا اخلاقی اہمیت برقرار نہیں رہ جاتی اور’اراکین نے جمہوریت کے لیے سولہ کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے‘۔ مولانا فضل الرحمان نے بعد میں اپنے چیمبر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میڈیا سےگلہ کیا کہ وہ انہیں اے پی ڈی ایم کی جانب سے استعفے پیش کرنے کی تاریخ میں چار روز کی تاخیر کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے تاہم اس کی وجہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے والوں کی حتمی فہرست تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر مشرف کا حتمی امیدواروں کی فہرست میں نام آنے کے بعد ہی استعفے دینے کا جواز بنتا تھا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سرحد اسمبلی کی تحلیل اب بھی ممکن ہے اور اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔
اس موقع پر جاوید ہاشمی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اے پی ڈی ایم کے خلاف پروپیگنڈے کے ذریعے اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم انہیں اس میں ناکامی ہوگی۔ انہوں نے امید کا اظہار کیا کہ ان استعفوں سے سیاست کا رخ موڑنے میں مدد ملے گی۔ مشترکہ استعفوں پر انہوں نے جمیعت علمائے اسلام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین جنہوں نے خود بھی صدارتی انتخاب میں صدر مشرف کے کورنگ امیدوار کے طور پر کاغذات جمع کرائے تھے کہنا تھا کہ وہ ابھی نہیں کہہ سکتے یہ استعفے کب منظور کیئے جائیں گے۔ حزب اختلاف سن دو ہزار چار سے بار بار جن استعفوں کی دھمکیاں حکومت کو دے رہی تھی آج بلاآخر اسے عملی جامہ پہنانے میں کامیاب رہی۔ جب اراکین اسمبلی قومی اسمبلی کے صدر دروازے پر صحافیوں کو تصاویر کے لیے اپنے استعفے دکھا رہے تھے تو ایک کارکن نے غصے میں آ کر کہا کہ’ آپ اپنا فیصلہ ایک مرتبہ پھر تبدیل کرنے سے قبل جا کر انہیں جمع کرا دیں‘۔ صدارتی انتخاب سے چار روز قبل اے پی ڈی ایم کے استعفوں کے بعد اب تمام نظریں پیپلز پارٹی پر لگی ہیں۔ بے نظیر کی صدارت میں لندن میں پارٹی کا کل سے دو روزہ اجلاس اپنے لائحہ عمل کے بارے میں حمتی فیصلہ کرے گا۔ |
اسی بارے میں سیاسی تبدیلی یا محفوظ راستہ27 September, 2007 | پاکستان حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس28 September, 2007 | پاکستان مشرف کے خلاف نئی قانونی ’جنگ‘30 September, 2007 | پاکستان صدارتی انتخابات روکے جائیں: فریال01 October, 2007 | پاکستان پاکستان: صدارت کے پانچ امیدوار 01 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||