BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 07:42 GMT 12:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے خلاف نئی قانونی ’جنگ‘

جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی طرف سے منیر اے ملک درخواست دائر کر رہے ہیں
الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے جنرل مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیئے جانے کے فیصلے کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدواروں اور جسٹس وجیہہ الدین احمد کی طرف سے اعلی عدالتوں میں آئینی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مخدوم امین فہیم کی طرف سے یہ آئینی درخواست سینیٹر لطیف کھوسہ اور بابر اعوان متوقع طور پر منگل کو سپریم کورٹ آف میں دائر کریں گے۔

جبکہ اسی نوعیت کی ایک درخواست پاکستان پیپلز پارٹی کی متبادل امیدوار فریال تالپور کی طرف سے سینیٹر فاروق نائیک سندھ ہائی کورٹ میں دائر کریں گے۔

ان کے علاوہ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی طرف سے سپریم کورٹ بار کے صدر منیر اے ملک جنرل مشرف کے کاغذات منظور کیئے جانے کے فیصلے کے خلاف سوموار کو سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

فریال تالپور کے وکیل فاروق نائیک نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک چیف الیکشن کمیشن کی طرف سے جنرل مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی منظور کیئے جانے کے فیصلے کی کاپی نہیں ملی جس بنا پر یہ درخواستیں سوموار کی بجائے منگل کو دائر کی جائیں گی۔

صدراتی امیدواروں کے کاغذات پیش کیئے جانے کے موقع پر اسلام آباد میں پرتشدد مظاہرے ہوئے تھے

جسٹس وجیہہ الدین احمدکے وکیل منیر اے ملک نے بتایا کہ انہیں بھی چیف الیکشن کمیشن کے فیصلے کی کاپی موصول نہیں ہوئی ہے تاہم وہ اس کے بغیر ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمیشن کا فیصلہ اخبارات میں شائع ہو چکا ہے لہذا وہ اس کی بنیاد پر اپنی درخواست دائر کر سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نےکہا کہ وہ اپنی درخواست کے ساتھ ایک استثنی کی درخواست بھی منسلک کریں گے۔

منیر اے ملک نے کہا کہ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کی بجائے براہ راست سپریم کورٹ جانےکا فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ میں کئی ایک جج صاحبان ایسے ہیں جن کی تقرری جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین نے کی تھی۔

صدراتی انتخاب کے شیڈول کے مطابق چھ اکتوبر کو لیے چاروں صوبائی اسمبلیوں اور وفاقی پارلیمان میں صدر کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالے جانے ہیں۔

فاروق نائیک سے جب وقت کی کمی کے بارے میں سوال پوچھا گیا کہ آیا عدلیہ چار دنوں میں ان درخواستوں کی سماعت مکمل کر سکے گی تو انہوں نے کہا کہ وہ صدارتی انتخاب کو مؤخر کرنے کے لیے عدلیہ سے حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر کے خلاف اصل عدالتی اور قانونی جنگ کا آغاز منگل سے ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پٹیشن میں کئی ایک قانونی نکات اٹھائے جائیں گے جن میں صدر مشرف کی ایمانداری پر بھی سوال اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے پوری قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ دسمبر دو ہزار چار میں وردی اتار دیں گے لیکن وہ اپنے وعدے سے پھر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس بنا پر یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ آئین میں دی گئی صدر کی اہلیت کی شرائط کے تحت ایک ایسا شخص جو مبینہ طور پر جھوٹ بولتا ہو صدر کے عہدے پر فائز ہونے کا اہل نہیں ہو سکتا۔

فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اس آئینی پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ آئین کی دفعہ 63 میں دی گئی صدر کی اہلیت کی شرائط کے تحت ایک سرکاری اہلکار صدر کے انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتا اس لیے جنرل مشرف کو نااہل قرار دیا جائے۔

اسی بارے میں
چھ امیدواروں کے کاغذات منظور
29 September, 2007 | پاکستان
وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ
29 September, 2007 | پاکستان
بیالیس استعفے قیادت کے حوالے
29 September, 2007 | پاکستان
انتخابی عمل کا پرتشدد آغاز
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد