BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 October, 2007, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسمبلی رہےگی، انتخاب کا بائیکاٹ‘

ملک ظفر اعظم
پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اختلاف اسمبلی کو بچانے جبکہ حزب اقتدار توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
صوبہ سرحد کے وزیر قانون ملک ظفر اعظم کا کہنا ہے کہ چھ اکتوبر کو ہونے والےصدارتی انتخابات کے موقع پر صوبہ سرحد کی اسمبلی برقرار رہے گی جبکہ آل پارٹیز ڈیموکریٹ الائنس میں شامل جماعتیں صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کریں گی۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) میں شامل متحدہ مجلس عمل اور دیگر سیاسی جماعتوں نے دو اکتوبر کو سرحد اسمبلی سے استعفوں کا اعلان مؤخر کرتے ہوئے پہلے اپوزیشن کی طرف سے وزیراعلیٰ سرحد کے خلاف دائر عدم اعتماد کی تحریک سے نمٹنے کے لیے منگل کو اجلاس بلانے کے لیے اسپیکر کے پاس ریکوزیشن جمع کرادی ہے۔

صوبائی اسمبلی کااجلاس بدھ کی صبح دس بجے بلایا گیا ہے۔ ریکوزیشن جمع کرانے کے بعد متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے صوبہ سرحد کے وزیر قانون ملک ظفر اعظم نے بی بی سی کو بتایا کہ اجلاس میں اپوزیشن سے کہا جائے گا کہ وہ وزیر اعلی سرحد کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایوان میں پیش کریں ۔

’حکمت عملی ناکام‘
 مولانا فضل الرحمن کی اس حکمت عملی کا بظاہرفائدہ جنرل پرویز مشرف کو پہنچ رہا ہے کیونکہ بقول ان کے عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کے لیے اجلاس بلانے کے بعد استعفوں اور اسمبلی کی تحلیل تعطل کا شکار ہوجائے گی اور اس طرح چھ اکتوبر کو صدارتی انتخابات کو متنازعہ بنانے کے لیے وفاق کی ایک اکائی کی عدم موجودگی میں اے پی ڈی ایم کی ترتیب دی ہوئی حکمت عملی ناکام ہوجائے گی۔
ایک اپوزیشن رہنما
ان کے مطابق اگر بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایوان میں پیش کرتی ہے تو ایسی صورت میں زیادہ امکان یہی ہے کہ آئین کے مطابق اس پر تین دن کے بعد یعنی سات اکتوبر کو رائے شماری کرائے جائے گی۔

آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس میں شامل ایک جماعت کے پارلیمانی لیڈر نے بی بی سی کوبتایا کہ اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے چھ اکتوبر تک اسمبلی بچانے کے لیے عدم اعتماد کی تحریک لانے کے حوالے سے مولانا فضل الرحمن کو آگاہ کردیا گیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ بظاہر ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ اے پی ڈی ایم چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات کو متنازعہ بنانے میں ناکام رہی ہے لہذا اس سلسلے میں اسمبلی تحلیل کرنے کی بجائے متفقہ طور مستعفی ہو جانا چاہیے۔ تاہم ان کے بقول مولانا فضل الرحمن کا اصرارتھا کہ عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کے لیے ریکوزیشن جمع کرا کر اسمبلی کااجلاس بلایا جائے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مولانا فضل الرحمن کی اس حکمت عملی کا بظاہرفائدہ جنرل پرویز مشرف کو پہنچ رہا ہے کیونکہ بقول ان کے عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنے کے لیے اجلاس بلانے کے بعد استعفوں اور اسمبلی کی تحلیل تعطل کا شکار ہوجائے گی اور اس طرح چھ اکتوبر کو صدارتی انتخابات کو متنازعہ بنانے کے لیے وفاق کی ایک اکائی کی عدم موجودگی میں اے پی ڈی ایم کی ترتیب دی ہوئی حکمت عملی ناکام ہوجائے گی۔

اس وقت دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ حزب اختلاف اسمبلی کو بچانے جبکہ حزب اقتدار توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں
’فضل ساز باز نہیں کر سکتے‘
01 October, 2007 | پاکستان
سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر
01 October, 2007 | پاکستان
پنجاب 46،سندھ 7، بلوچستان 25
02 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد