پر امن فضا میں بارود | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں پچھلے چند ماہ سے بڑھتے ہوئے فسادات نے اس شہر کو پاکستان کے دوسرے شہروں کے ساتھ کھڑا کر دیا ہے۔ اسلام آباد کے وہ لوگ جو یہاں کئی دہائیوں سے آباد ہیں انہوں نے شاید یہ سوچا بھی نہ ہو کہ اس شہر کے پر امن ماحول کا یہ حال بھی ہو سکتا ہے۔ چند سال پہلے تک اسلام آباد کی پر امن فضا کبھی کبھی تو قطعی غیر فطری لگتی تھی۔ جب دو ہزار دو میں سیکٹر بارہ ڈی میں کچی آبادی کے خلاف آپریشن ہوا جس میں اس آبادی کے پانچ مقیم ہلاک ہوئے تو اس واقعہ کو اسلام آباد کا بد ترین واقعہ قرار دیا جا رہا تھا۔ اس وقت شاید کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ چند ہی سالوں میں ماحولیاتی آلودگی سے صاف اور پر امن اسلام آباد کی فضا میں بارود اور آنسو گیس کی بد بو ہوگی اور سڑکوں پر لاٹھیاں اور پتھر برس رہے ہوں گے۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ شہر بھی پاکستان کے باقی شہروں کی طرح مختلف نوعیت کے پر تشدد واقعات کی نظر ہوتا چلا گیا۔ چھ اکتوبر دو ہزار تین کو سپاہ صحابہ پاکستان کے رہنما اور ممبر نیشنل اسمبلی اعظم طارق کو اسلام آباد کے ٹول پلازہ کے پاس نا معلوم افراد نے قتل کر دیا۔ اس کے اگلے دن ان کی نماز جنازہ پارلیمنٹ بلڈنگ کے سامنے ادا کی گئی جس کے بعد مشتعل مظاہرین نے اسلام آباد میں سرکاری اور پرائیوٹ پراپرٹی کو نقصان پہنچایا۔ اس واقعے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔
ستائیس مئی دو ہزار پانچ کو اسلام آباد میں بری امام کے مزار میں خود کش حملہ ہوا جوکہ اس شہر کا پہلا خود کش حملہ تھا۔ اس سانحہ میں لگ بھگ بیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد چودہ فروری دو ہزار چھ کو ڈنمارک کے اخبار میں چھپنے والے توہین آمیز کارٹونوں کے خلاف اسلام آباد میں ایک بڑا مظاہرہ ہوا۔ اس مظاہرے میں پولیس نے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا بے دریغ استعمال کیا۔ جہاں دو ہزار سات میں پاکستان کے دیگر علاقوں میں متعدد خود کش حملے اور دیگر دہشت گردی کے واقعات ہوئے، وہاں اسلام آباد کو بھی ایسی کئی وارداتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بلکہ کئی اعتبار سے تو اسلام آباد پاکستان کے تمام بڑے شہروں سے برتری لے گیا۔ چھبیس جنوری کو وفاقی دارالحکومت میں میریٹ ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد چھ فروری کو اسلام آباد ائرپورٹ کے احاطے میں ایک اور خود کش حملہ ہوا جس میں صرف حملہ آور ہلاک ہوا جبکہ تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ پھر نو مارچ دو ہزار سات کو پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوھدری کو غیر فعال بنانے کے خلاف وکلاء سڑکوں پر نکل آئے اور ایک بار پھر سیکورٹی اہلکاروں کی جانب سے لاٹھیوں اور آنسو گیس کا استعمال دیکھنے میں آیا۔ مئی دو ہزار سات کے آخری ایام میں اسلام آباد میں قائم لال مسجد کے مسئلے نے سر اٹھایا اور ایک باقاعدہ فوجی آپریشن کا آغاز ہوا جس میں آنسو گیس کے ساتھ ساتھ گولیاں اور بم بھی چلے جس کے نتیجے میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
اٹھارہ جولائی کو اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس میں وکلاء کنونشن کے پنڈال کے قریب خود کش حملے میں بیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ یہ حملہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی آمد سے کچھ دیر قبل ہوا۔ ابھی اسلام آباد کے رہائشی لال مسجد آپریشن کے ذہنی دباؤ سے نکلے نہ تھے کہ ستائیس جولائی دو ہزار سات کو مسجد کو دوبارہ کھولا گیا اور ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوئی۔ اس ہنگامے کا اختتام لال مسجد کے قریب آبپارہ مارکیٹ میں خود کش حملے سے ہوا جس میں سات پولیس اہلکاروں سمیت پندرہ افراد مارے گئے۔ اور پھر انتیس ستمبر کو صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال والے دن ایک بار پھر وکلاء کا انتظامیہ سے آمنا سامنا ہوا جس کے دوران سیکورٹی اہلکاروں نے لاٹھی اور آنسو گیس کا آزادانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں وکلاء اور صحافی شدید زخمی ہوئے۔ کئی مبصرین کے مطابق اسلام آباد میں پر تشدد واقعات کا سلسلہ براہ راست حکومتی پالیسیوں اور باالخصوص صدر مشرف کے سیاسی مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ اور جب تک اس قضیے کا حل نہیں نکل آتا ، یہ کہنا مشکل ہے کہ اسلام آباد اپنے ماضی کی پر امن فضا کی جانب لوٹ سکے گا یا نہیں۔ |
اسی بارے میں انتخابی عمل کا پرتشدد آغاز29 September, 2007 | پاکستان اسلام آباد انتظامیہ کے تین افسر معطل01 October, 2007 | پاکستان اسلام آباد: خودکش حملہ، دو ہلاک26 January, 2007 | پاکستان ریلی سے قبل دھماکہ، پندرہ ہلاک 17 July, 2007 | پاکستان ہلاکتوں میں اضافہ، وکلاء کا احتجاج18 July, 2007 | پاکستان حملہ آور کی شناخت پر انعام30 July, 2007 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: ایک اور ہلاک28 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||