اسلام آباد انتظامیہ کے تین افسر معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کے باہر سنیچر کو وکلاء اور صحافیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں اسلام آباد انتظامیہ کے تین اعلیٰ افسران کو معطل کردیا گیا ہے۔ صدارتی انتخاب کے لیئے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر الیکشن کمیشن کے باہر پولیس تشدد سے صحافیوں اور وکلاء سمیت ستر سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے پیر کو سماعت کی اور سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ سمیت پولیس اور مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں پر شدید نکتہ چینی کی۔ معطل کیے جانے والے اہلکاروں میں انسپکٹر جنرل پولیس سید مروت علی شاہ، ڈپٹی کمشنر چودھری محمد علی اور ایس ایس پی ڈاکٹر محمد نعیم شامل ہیں۔عدالت نے پولیس تشدد کا شکار ہونے والے افراد سے کہا کہ اگر وہ پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کروانا چاہیں تو متعلقہ تھانوں میں درخواستیں دیں۔ عدالت نے لوگوں سے کہا کہ اگر ان کے پاس اس واقعہ کے بارے میں مزید شواہد ہیں تو وہ ایک ہفتے کے اندر اندر ایڈشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کروادیں۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد انتظامیہ کے ان تین افسروں اور علاقہ مجسٹریٹ کو توہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیے ہیں۔ عدالت نے اسلام آباد پولیس کو حکم دیا کہ وہ سنیچر کے روز شاہراہِ دستور پر سفید کپڑوں میں تعینات کیے جانے والے اہلکاروں کے کوائف اور تصویریں رجسٹرار کے پاس جمع کرائیں۔ اس سے پہلے ایس ایس پی نے عدالت کو بتایا کہ سفید پارچہ جات میں ملبوس افراد پولیس اہلکار تھے۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ پولیس اہلکار اپنے شناخت چھپا کر سنگین جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ہسپتالوں سے زبردستی ڈسچارج کیے گئے افراد کو دوبارہ داخل کیا جائے اور ان کے علاج پر ہونے والے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے۔ سید کمال شاہ نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی واقعہ کی تحقیقات کے لئے قائم کر دی ہے تو چیف جسٹس کا کہنا تھا ’اسے آپ بھول جائیں۔ یہ بتائیں یہ سب تشدد ہوا کیوں۔‘ چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ کو اسلام آباد انتظامیہ کے ان تین افسران کی معطلی کے لیے آج (پیر ) ایک بجے تک کی مہلت دی تھی اور کہا کہ اگر اس وقت تک ان کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو عدالت اس سلسلے میں خود کوئی حکم جاری کرے گی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری، جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور جسٹس راجہ محمد فیاض پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جب مقدمے کی سماعت شروع کی تو سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ نے عدالت کو بتایا کہ سنیچر کو ہونے والے تشدد کے سلسلے میں سات پرچے درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کے معمولی زخموں کے باوجود ان پر حملہ کرنے والے وکلاء پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔معطل ہونے والے ایس ایس پی اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ بینچ کے سربراہ چیف جسٹس نے پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو حکم دیا کہ وہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کے جج سے کہیں کہ وہ ڈاکٹر فاروق ستار کے مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد کی ضمانتیں میرٹ پر لیں۔بعدازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے چھ وکلاء کی ضمانتیں منظور کرلیں۔ چیف جسٹس نے سیکریٹری داخلہ سے سنیچر کے روز شاہراہِ دستور پر تعینات کیے جانے والے سفید کپڑوں میں ملبوس افراد کی شناخت کے بارے میں دریافت کیا۔ عدالت نے انتظامیہ سے کہا کہ وہ آنسو گیس کے شیلوں کی درآمد کے بارے رپورٹ پیش کرے۔ مقدمے کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ | اسی بارے میں صحافیوں پر تشدد کا ازخود نوٹس30 September, 2007 | پاکستان صحافیوں کا ملک گیر احتجاج30 September, 2007 | پاکستان صحافیوں کا احتجاج، وزیر کی پٹائی29 September, 2007 | پاکستان وکلاء کا ملک گیر یوم سیاہ29 September, 2007 | پاکستان ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل29 September, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||