’سیکٹر جی سکس کے مکین پریشان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد میں لال مسجد کے گرد حالات سے اگرچہ سارا ملک ہی پریشان ہے تاہم اس غیریقینی صورتحال کا سب سے زیادہ شکار سیکٹر جی سکس کے مکین ہیں، جہاں یہ مسجد قائم ہے۔ سیکٹر جی سکس گزشتہ چار روز سے کرفیو کی زد میں ہے۔ حکام نے کرفیو میں سنیچر کو دو مرتبہ نرمی کی تاہم نقل وحرکت پر پابندی سے علاقے میں زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ علاقے کے مکین پہلے ہی کئی مشکلات سے دوچار تھے کہ اب انہیں قدرتی گیس کی بندش کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے بھی نمٹنا پڑ رہا ہے۔ کھانے پکانے کے لیے اس علاقے کے لوگوں کا انحصار گیس پر ہی ہے۔ اگرچہ علاقے کی زیادہ تر آبادی کشیدگی کے آغاز سے دیگر علاقوں کو منتقل ہوگئی تھی تاہم ابھی بھی بڑی تعداد میں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہیں اور کہیں اور جانے پر آمادہ نہیں ہیں۔ جی سکس سرکاری کواٹر کی ایک خاتون زہرا نے بتایا کہ ان کے خاوند کا کہنا ہے کہ موت اگر آنی ہوئی تو یہاں بھی آئے گی اور کہیں اور بھی۔ لال مسجد کے اردگرد فائرنگ اور دھماکوں سے یہاں کے بچے شدید سب خوفزدہ ہیں۔ فائرنگ اور دھماکوں میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے کرفیو میں نرمی کے دوران فائرنگ رک جاتی تھی لیکن اب نہیں۔ زہرا کا کہنا تھا: ’بچے تمام رات فائرنگ اور دھماکوں کی وجہ سے سو نہیں پاتے اور گود میں دبکے رہتے ہیں‘۔
مسجد کے گرد تین کلومیٹر کے علاقے میں فائرنگ کی وجہ سے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چھتوں یا صحنوں میں نہ آئیں۔ فائرنگ سے بلو ایریا کے علاقے میں کچھ دکانوں کو نقصان پہنچا تھا۔ اس علاقے میں صفائی کا نظام بھی درہم برہم ہے۔ گلیوں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں جس سے تعفن اُٹھ رہا ہے اور بیماریوں کا خدشہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ اس سیکٹر کے زیادہ تر لوگ سرکاری ملازم ہیں۔ انہیں پہلے دن سے ہی کرفیو کے باعث دفاتر پہنچنے میں دقت پیش آ رہی تھی لیکن اب انتظامیہ نے ان کے لیے خصوصی پاسز کا انتظام کیا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے جاری ہونے والے ان پاسز کی تعداد پانچ سو تک پہنچ چکی ہے۔ یوٹیلٹی سٹور کی جانب سےگاڑیوں میں متاثرہ علاقوں میں اشیاء خوردونوش کی ترسیل جاری ہے تاہم آٹے اور چینی کے حصول میں مشکلات ہیں۔ علاقائی ہوٹلوں اور مراکز میں کاروبار ٹھپ ہے۔ مسجد کے قریب ہی واقع ایک بڑا ہوٹل جہاں اکثر تقریبات ہوتی رہتی تھیں تقریباً بند ہے۔ |
اسی بارے میں لال مسجد: فائرنگ جاری، اکیس ہلاکتیں06 July, 2007 | پاکستان ’مشرف کے طیارے پر ناکام حملہ‘06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ کا تبادلہ پھر شروع06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد: فائرنگ سے دیواریں چھلنی06 July, 2007 | پاکستان لال مسجد سے نکلنے کے لیے طلبا کو مہلت05 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||