BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 October, 2007, 11:24 GMT 16:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سماعت اب دس رکنی بنچ کرے گا

 جسٹس خلیل الرحمان رمدے
لارجر بنچ میں اب جسٹس خلیل الرحمان رمدے کو بھی شامل کر دیا گیا ہے
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی منظور کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ میں توسیع کر دی ہے۔

سپریم کورٹ کے ترجمان کے مطابق بینچ میں دو نئے ججوں جسٹس خلیل الرحمان رمدے اور جسٹس تصدق جیلانی کا اضافہ کیا گیا ہے اور ان آئینی درخواستوں کی سماعت جمعرات سے سپریم کو دس رکنی لارجر بینچ کرے گا۔

اس سے پہلے جب بدھ کو آئینی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو بینچ میں شامل ایک جج جسٹس سردار محمد رضا خان نے بینچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس نے ان پٹیشنوں کی سماعت کے لیے ایک آٹھ رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔

آٹھ رکنی بینچ نے آئینی درخواستوں کی ابتدائی سماعت کی اور صدر مشرف اور چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر مدعا علیہان کو نوٹسز جاری کیے۔ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے ان آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران اپنے مختصر آرڈر میں کہا کہ ان آئینی درخواستوں میں آئین کی مختلف دفعات کے بارے میں اہم نکات اُٹھائے گئے ہیں جن کی تشریح ضروری ہے۔

صدارتی امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے صدارتی الیکشن قوانین میں جو ترامیم کی ہیں وہ آئین کے متصادم ہیں اور اس ترامیم کی وجہ سے صرف جنرل پرویز مشرف کو فائدہ پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صدارتی امیدوار جنرل پرویز مشرف کے پاس سرکاری مشینری ہے اور وہ فوج کی کمانڈ بھی کر رہے ہیں جبکہ دوسرے امیدوار سویلین ہیں۔انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے موقع پر انہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے سامنے اعتراضات اُٹھائے تھے لیکن یہ اعتراضات مسترد کر دیےگئے اور ان کے کاغذات نامزدگی منظور کر لیےگئے۔

انہوں نے کہا کہ صدر کے عہدے کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہورہی ہے اور صدارتی انتخابات پندرہ نومبر کے بعد ہونے چاہیئیں۔ حامد خان نے کہا کہ موجودہ قومی اسمبلی کی معیاد بھی پندرہ نومبر کو ختم ہورہی ہے اور ایک ایسی اسمبلی جو اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہی ہے کس طرح مستقبل کے صدر کا انتخاب کر سکتی ہے۔

 عدالت کا ایک وقار ہوتا ہے اور اگر وکلاء ہی عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار شروع کر دیں تو اس وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔
جسٹس جاوید اقبال

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ قوم کو اس کے آئینی حق سے محروم کرنے کے مترادف ہوگا اور پھر یہ مستقبل میں ایک مثال بن جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی اسمبلیاں نئے صدر کا انتخاب کریں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو پندرہ نومبر کے بعد الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ حامد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ چیف الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے صدارتی الیکشن شیڈول کو منسوخ کردیا جائے۔

پیپلز پارٹی پارلمنٹریز کے صدارتی امیدوار مخدوم امین فہیم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے الیکشن کمیشن کو جنرل پرویز مشرف کی اہلیت کے بارے میں چیلنج کیا تھا جسے مسترد کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہوتا ہے اس لیے اس کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرنے جارہی ہیں اس لیے وہ آئندہ ہونے والے صدر کا انتخاب نہیں کرسکتی جس پر جسٹس جاوید اقبال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ اسمبلیاں صدر کو منتخب نہیں کر سکتیں تو پھر آپ کی جماعت اس میں کیوں حصہ لے رہی ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے چاہیے اور آئین کی بالا دستی ہونی چاہیے۔

نئے بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال ہیں جبکہ باقی ارکان جسٹس خلیل الرحمان رمدے، جسٹس تصدق حسین جیلانی، جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ناصرالملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس سید جمشید علی اور جسٹس غلام ربانی ہیں

اس سے پہلے ان آئینی درخواستوں کی سماعت کے لیے ایک نو رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا گیا تھا جو بینچ میں شامل ایک جج جسٹس سردار محمد رضا خان کے بینچ میں بیٹھنے سے انکار کے بعد ٹوٹ گیا تھا۔

یہ آئینی درخواستیں صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے رہنما مخدوم امین فہیم نے دائر کر رکھی ہیں۔ نئے بینچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال ہیں جبکہ باقی ارکان جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ناصرالملک، جسٹس راجہ فیاض، جسٹس سید جمشید علی اور جسٹس غلام ربانی ہیں۔

بدھ کے روز جب آئینی درخواستوں کی سماعت شروع ہوئی تو نو رکنی بینچ میں شامل جسٹس سردار محمد رضا خان نے یہ کہہ کر بینچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا کہ وہ صدر کے دو عہدوں سے متعلق اسی نوعیت کی آئینی درخواستوں پر اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں اس لیے وہ اس بینچ میں بیٹھنے کو وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔

اس پر نو رکنی لارجر بینچ سے سربراہ جاوید اقبال نے کہا کہ ان آئینی درخواستوں اور دو عہدوں سے متعلق جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی پٹیشنوں میں بہت فرق ہے۔ جسٹس سردار محمد رضا خان نے کہا کہ انہوں نے صدر کے دو عہدوں سے متعلق کیس میں جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس شاکراللہ جان کے ساتھ اختلافی رائے دی تھی اس لیے ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس بینچ میں بیٹھیں۔

جسٹس جاوید اقبال نے صدارتی امیدوار جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین احمد کے وکلاء کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے یہ تنقید اس اخباری خبر کا حوالہ دیتے ہوئے کی جس میں انہوں نے لارجر بینچ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عدالت کا ایک وقار ہوتا ہے اور اگر وکلاء ہی عدالت پر عدم اعتماد کا اظہار شروع کر دیں تو اس وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے حامد خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب آپ لوگ ٹی وی پر آتے ہیں تو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ اس موقع پر جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ وکلاء کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ وہ جن ججوں پر تنقید کر رہے ہیں وہ چیف جسٹس کیس اور لال مسجد جیسے مقدمات والے بھی بینچ میں شامل تھے۔

اسی بارے میں
’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘
26 September, 2007 | پاکستان
حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد