کراچی: صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدارتی انتخاب میں وکلاء برادری کی جانب سے نامزد امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے اتوار کی شام کراچی پریس کلب پہنچ کر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کیا اور اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں صحافی برادری پر سنیچر کو پولیس تشدد کی مذمت کی۔ وہ جسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرارالحسن ایڈووکیٹ کے ہمراہ پریس کلب پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ وکلاء اور صحافی ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر میڈیا اور پریس کو زیر کرلیا جائے تو وکلاء کی آدھی تحریک تو یوں ہی ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغن لگانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں اور پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام بھی اسی مقصد کے تحت تھا، اور جب اس سے بھی کام نہیں چلا تو پہلے دو ٹی وی چینلز پر مختلف اوقات میں حملہ کیا گیا اور سنیچر کو حکومت نے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دعوٰی کرتی ہے کہ اس کے دور میں میڈیا کو آزادی ملی حالانکہ کم از کم اکیس صحافی ان کے دور میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ان کے دور سے پہلے پچھلے باون سالوں میں اتنی تعداد میں صحافی جاں بحق نہیں ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ وکلاء اور صحافی ایک سکے کے دو رخ ہیں اور اگر ہم مل کر نہیں چلے تو حکومت دونوں کو الگ کر کے زیر کر لے گی‘۔ وجیہ الدین احمد نے صدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق عدالتِ عظمٰی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ دراصل کوئی فیصلہ ہی نہیں بلکہ فیصلہ کرنے سے بچنے کا ایک آسان طریقہ ہے کیونکہ وہاں اپیلوں کے قابلِ سماعت ہونے پر کوئی بات ہی نہیں ہوئی اور ان کو قابلِ سماعت نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ فیصلہ آنے کے بعد قوم پھر اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں ان اپیلوں کی سماعت سے پہلے تھی۔ ’بہرحال ہم مشاورت کر کے پھر عدالت جائیں گے‘۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ’یہ الیکشن جیتنا ہمارا مطمِع نظر نہیں ہے بلکہ ہم نے ایک لمبی جنگ کا تہیہ کیا ہوا ہے جو کسی عہدے کے لیے نہیں بلکہ اصولوں اور مقاصد کے لیے ہے اور اس میں ہمیں کامیاب ہونا ہے‘۔ | اسی بارے میں ’جسٹس (ر) وجیہہ بااصول انسان ہیں‘24 September, 2007 | پاکستان جسٹس(ر) وجیہہ صدارت کےامیدوار24 September, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج14 September, 2005 | پاکستان قانون کی بالادستی یا بالادستوں کا قانون؟19 October, 2003 | پاکستان سندھ ہائی کورٹ کے راستے بندرہیں گے23 September, 2007 | پاکستان چیف جسٹس بننے سے معذرت22 May, 2006 | پاکستان ’لوگ عدلیہ سے مایوس ہیں‘30 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||