BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 18:14 GMT 23:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: صحافیوں سے اظہارِ یکجہتی

جسٹس وجیہ و جسٹس رضوی
جسٹس وجیہ الدین کے ساتھ ریٹائرڈ جسٹس رشید رضوی بھی تھے
صدارتی انتخاب میں وکلاء برادری کی جانب سے نامزد امیدوار جسٹس ریٹائرڈ وجیہ الدین احمد نے اتوار کی شام کراچی پریس کلب پہنچ کر صحافیوں سے اظہار یکجہتی کیا اور اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں میں صحافی برادری پر سنیچر کو پولیس تشدد کی مذمت کی۔

وہ جسٹس ریٹائرڈ رشید رضوی اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ابرارالحسن ایڈووکیٹ کے ہمراہ پریس کلب پہنچے جہاں انہوں نے کہا کہ وکلاء اور صحافی ایک سکے کے دو رخ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ اگر میڈیا اور پریس کو زیر کرلیا جائے تو وکلاء کی آدھی تحریک تو یوں ہی ختم ہوجائے گی۔


انہوں نے کہا کہ میڈیا پر قدغن لگانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جاتے رہے ہیں اور پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام بھی اسی مقصد کے تحت تھا، اور جب اس سے بھی کام نہیں چلا تو پہلے دو ٹی وی چینلز پر مختلف اوقات میں حملہ کیا گیا اور سنیچر کو حکومت نے الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو تہہ و بالا کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت دعوٰی کرتی ہے کہ اس کے دور میں میڈیا کو آزادی ملی حالانکہ کم از کم اکیس صحافی ان کے دور میں جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ ان کے دور سے پہلے پچھلے باون سالوں میں اتنی تعداد میں صحافی جاں بحق نہیں ہوئے۔

ایک لمبی جنگ کا تہیہ
 ’یہ الیکشن جیتنا ہمارا مطمِع نظر نہیں ہے بلکہ ہم نے ایک لمبی جنگ کا تہیہ کیا ہوا ہے جو کسی عہدے کے لیے نہیں بلکہ اصولوں اور مقاصد کے لیے ہے اور اس میں ہمیں کامیاب ہونا ہے
جسٹس وجیہ الدین

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ وکلاء اور صحافی ایک سکے کے دو رخ ہیں اور اگر ہم مل کر نہیں چلے تو حکومت دونوں کو الگ کر کے زیر کر لے گی‘۔

وجیہ الدین احمد نے صدر کے دو عہدے رکھنے سے متعلق عدالتِ عظمٰی کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فیصلہ دراصل کوئی فیصلہ ہی نہیں بلکہ فیصلہ کرنے سے بچنے کا ایک آسان طریقہ ہے کیونکہ وہاں اپیلوں کے قابلِ سماعت ہونے پر کوئی بات ہی نہیں ہوئی اور ان کو قابلِ سماعت نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا‘۔

انہوں نے کہا کہ تفصیلی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ فیصلہ آنے کے بعد قوم پھر اسی مقام پر کھڑی ہے جہاں ان اپیلوں کی سماعت سے پہلے تھی۔ ’بہرحال ہم مشاورت کر کے پھر عدالت جائیں گے‘۔

انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ ’یہ الیکشن جیتنا ہمارا مطمِع نظر نہیں ہے بلکہ ہم نے ایک لمبی جنگ کا تہیہ کیا ہوا ہے جو کسی عہدے کے لیے نہیں بلکہ اصولوں اور مقاصد کے لیے ہے اور اس میں ہمیں کامیاب ہونا ہے‘۔

اسی بارے میں
سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج
14 September, 2005 | پاکستان
چیف جسٹس بننے سے معذرت
22 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد