صدر جنرل پرویز مشرف چھوٹے ہو کر کیا بنیں گے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بظاہر یہ ایک لغو و لایعنی سوال لگتا ہے کیونکہ اکثر تو یہ پوچھا جاتا ہے کوئی بڑا ہو کر کیا بنے گا۔ لیکن صدر مشرف تو آج سے آٹھ سال قبل ہی اتنے بڑے ہو گئے تھے کے اس سے بڑا ہونا ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس لیے اب ان کو جو بھی بننا ہے پہلے سے چھوٹا ہو کر ہی بننا ہے۔ دو اکتوبر کے دن اس سوال کو ایک نئی اہمیت اس لیے ملی ہے کہ حزب اختلاف کے اتحاد اے پی ڈی ایم کی جانب سے قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں سے مستفعی ہونے کے عمل سے بظاہر صدر مشرف کے چھوٹے ہونے کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ مستقبل قریب میں یہ عمل کس طرح آگے بڑھے گا، اس کا انحصار ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے دو کلیدی کرداروں پر ہے جن میں فوج اور سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔ سب سے پہلے ایک نظر فوج پر۔ صدر مشرف کے دو عہدوں پر اٹھائیس ستمبر کے عدالتی فیصلے کو فوجی حلقوں میں بیکراں پذیرائی ملی ہے۔ سینئر فوجی افسر اسے پاکستان کی آئینی تاریخ کا بہترین فیصلہ قرار دے رہے ہیں اور ان کی منطق کچھ یوں ہے۔ اگر کچھ دیر کے لیے آئینی اور قانونی فلسفے بھلا دیے جائیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ دو عہدوں کے مقدمے کے دوران صدر مشرف دو بار ملک کی سب سے بڑی عدالت سے یہ کہہ چکے ہیں کہ دوبارہ صدر منتخب ہوتے ہی وہ وردی اتار دیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ملک میں سیاسی جماعتوں کو اقتدار کی منتقلی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔ اس کے برعکس اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ صدر مشرف کے خلاف ہوتا تو فوجی حلقوں کے مطابق اس وقت تک اسلام آباد ٹرپل ون بریگیڈ کے قبضے میں ہوتا جو پاکستان میں ہونے والی ہر فوجی بغاوت کا ہر اول دستہ رہی ہے۔ ایک سینئر فوجی افسر کے مطابق: ’ایسی صورت میں نہ تو یہ کھیل سیاستدانوں کے قابو میں رہتا، نہ عدلیہ کے اور کچھ عرصے کے بعد نہ ہی فوج کے۔ بات بہت بگڑ سکتی تھی‘۔ فوجی حلقوں میں یہ ذکر عام ہے کہ سپریم کورٹ سے وردی اتارنے کا وعدہ کر کے صدر مشرف نے ’اپنی قربانی دے کر فوج کو سیاست سے باہر نکال دیا‘۔
لیکن صدر مشرف بِن وردی بھی آٹھویں ترمیم کے ذریعے منتخب حکومت برخواست کرنے کے مختار ہونگے۔ اس نقطے پر فوجی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی صدر نے فوج کی حمایت کے بغیر منتخب حکومت برطرف نہیں کی۔ غلام اسحاق خان نے صرف ایک دفعہ فوج کی مرضی کے بغیر حکومت برخواست کی جس کے نتیجے میں ان کو خود بھی جانا پڑا۔ سینئر فوجی افسروں کے مطابق ایک دفعہ نیا آرمی چیف تعینات کر دیا گیا تو پھر صدر مشرف کی حیثیت کسی بھی سویلین صدر سے بڑھ کر نہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ فوج میں ان کے وردی اتارنے کے فیصلے کو قربانی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ لیکن کیا صدر مشرف واقعی اپنے انتخاب کے بعد وردی اتارنے کا وعدہ پورا کریں گے؟ اس سوال پر کسی قسم کی حتمی رائے اب تک نا ممکن تھی لیکن دو اکتوبر کو جنرل اشفاق کیانی کی بطور وائس چیف تعیناتی کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ صدر مشرف اپنی وردی دوبارہ منتخب ہونے کے لیے تو استعمال کر سکیں گے لیکن اس کے بعد ان کے لیے اپنے فوجی سربراہ کے عہدے کو طول دینا نا ممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوگا۔ گو صدر مشرف ابھی تک ایک باوردی صدر ہیں لیکن فوجی حلقوں کے مطابق ایک ایسے وائس چیف کی موجودگی میں جو پورا چیف بننے کے انتظار میں بیٹھا ہے وہ چاہیں بھی تو اپنے فوجی عہدے کو مزید طول نہیں دے سکتے۔ ایک سینئر افسر کے مطابق ’صدر مشرف کے آٹھ سالہ دور میں ان کو اپنی تمامتر کامیابیاں صرف سیاسی میدان میں ملی ہیں جبکہ عسکری میدان میں انہیں تقریباً ہر محاذ پر شکست ہوئی ہے۔ قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کی صورتحال اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ فوج پر صدر مشرف کے سیاسی کردار کی وجہ سے تنقید دن بدن بڑھتی جا رہی ہے‘۔ فوجی حلقوں کے مطابق وردی اتارنے کے اعلان سے صدر مشرف کو فوج کے اندر جو خوشنودی حاصل ہوئی ہے اگر وہ باوردی رہ کر اسے کھو دیتے ہیں تو ان کا حشر فاروق لغاری سے مختلف نہ ہوگا۔ اب جبکہ صدر مشرف کے سیاسی و عسکری مستقبل پر چھائی دھند قدرے چھٹ رہی ہے تو پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر کیا رول ہو گا؟ پاکستان کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف ایک عرصے سے فوج کے سیاسی منصوبوں میں اپنی جگہ مستحکم کرنے کی تگ و دو میں لگی ہیں اور اب یہ کشمکش اپنے نقطۂ عروج کی طرف بڑھتی نظر آتی ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اٹھائیس ستمبر کے عدالتی فیصلے کے فوراً بعد صدر مشرف نے مسلم لیگ قاف کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے دو ٹوک الفاظ میں پیپلز پارٹی سے مفاہمت کے فارمولے کو حتمی شکل دینے کا مطالبہ کیا۔ چوہدری شجاعت نے حکم بجا لانے کا وعدہ تو ضرور کیا لیکن مسلم لیگ قاف کے کرتا دھرتا رہنماؤں کے مطابق یہ دال گلنی کافی مشکل نظر آتی ہے۔
مسلم لیگ قاف کے حلقوں میں آجکل اس بات کا بڑا چرچہ ہے کہ چوہدری شجاعت اپنے بہنوئی اور پنجاب کے وزیر اعلٰی پرویز الٰہی کو اگلے انتخابات کے بعد وزیر اعظم بنانے پر تلے ہوئے ہیں اور پی پی پی کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت ان ارادوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ پی پی پی کے ساتھ صدر مشرف کی مفاہمت موجودہ صدارتی انتخابات سے پہلے نہ ہو پائے۔ لیکن صدارتی انتخاب کے بعد اور عام انتخابات سے قبل مفاہمت کے امکان کے پیش نظر پی پی پی کی قیادت سے یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ وہ صدارتی انتخابات میں مشکلات پیدا کرنے میں سنجیدہ ہوگی۔ دوسری جانب اے پی ڈی ایم دو ستمبر کو قومی اور تین صوبائی اسمبلیوں سے مستعفی ہو چکی ہے۔ اے پی ڈی ایم کے استعفوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پی پی پی کی سیاسی اٹھکیلیوں کے باوجود صدارتی انتخاب متنازعہ رہے گا۔ لیکن مسلم لیگ نون کے رہنما میاں نواز شریف کی عید کے بعد پھر وطن واپس لوٹنے کی بھی شنید ہے اور حکومتی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ اس بار ان کا راستہ نہیں روکا جائے گا۔ حزب اختلاف کی جانب سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ان کی واپسی سے اے پی ڈی ایم باقاعدہ طور پر فعال ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں صدر مشرف اپنی حمایت میں جو بھی سیاسی اتحاد قائم کرتے ہیں، ان کے مستقبل کی سیاست کو کل جماعتی حمایت ملنا نا ممکن نظر آتا ہے۔ گویا آنے والے وقتوں میں صدر مشرف کا سیاسی قد کاٹھ بدتریج چھوٹا ہوتا نظر آتا ہے۔ چھوٹے ہو کر ان کی حتمی شکل کیا نکلتی ہے، اس کا فیصلہ صدارتی انتخاب نہیں بلکہ اس انتخاب کے بعد ہونے والی سیاست کرے گی۔ |
اسی بارے میں صدارتی انتخاب سےپہلےاہم تبدیلیاں21 September, 2007 | پاکستان دو عہدوں کی تائید پارلیمان نےکی: بینچ21 September, 2007 | پاکستان انتخابی مہم کا آغاز کوئٹہ سے25 September, 2007 | پاکستان ’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘26 September, 2007 | پاکستان مشرف کی صدارت 940 روز کی رعایت26 September, 2007 | پاکستان کاغذاتِ نامزدگی: شاہراہِ دستور تین دن کے لیے بند27 September, 2007 | پاکستان مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی جمع27 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||