پاکستان فوج کے نئے سربراہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان آرمی کے نئے نامزد سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اہم فوجی عہدوں کے ساتھ ساتھ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے پہلے دور میں نائب ملٹری سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ ملٹری کالج جہلم سے پڑھنے کے بعد جنرل کیانی نے انیس سو اکہتر میں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور امریکہ کے جنرل سٹاف کالج فورٹ لیونورتھ کے فارغ التحصیل ہیں۔ نئے نامزد آرمی چیف کو انفینٹری بٹالین سے کور کمانڈنگ تک کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ سن دو ہزار ایک اور دو میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیاں سخت کشیدگی تھی اس وقت وہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز تعینات رہے۔ سابق نان کمیشنڈ فوجی افسر کے بیٹے اشفاق پرویز کیانی کو فوج میں ایک پیشہ ور جنرل کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن آئی ایس آئی کے سربراہ کی حیثیت سے سیاسی جماعتوں کے کلیدی رہنماؤں سے ان کا قریبی رابطہ رہا۔ گولف کے شوقین جنرل اشفاق پرویز کیانی تواتر کے ساتھ تو گولف نہیں کھیلتے لیکن پاکستان گولف فیڈریشن کے موجودہ چیئرمین بھی ہیں۔ پاکستان کے نئے نامزد آرمی چیف امریکہ میں بھی اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے سلسلے میں تعینات رہے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ امریکی فوج میں ان کی خاصی جان پہچان ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف پر یکے بعد دیگرے انتہائی خطرناک جان لیوا حملے ہوئے ان میں ملوث ملزمان کی تہہ تک پہنچنے کا کام بھی اشفاق پرویز کی سربراہی میں قائم ٹیم نے سرانجام دیا تھا۔ بعض سیاسی مبصرین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے ہٹائے جانے اور اس کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے بطور آئی ایس آئی کے سربراہ نمٹنے کو جنرل کیانی کی پہلی بڑی ناکامی سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن اشفاق پرویز کیانی کے قریبی ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ اس بحران میں اشفاق پرویز کیانی کی رائے مختلف تھی اور جب جسٹس افتخار کو آرمی ہاؤس بلاکر استعفیٰ طلب کیا گیا اور بعض جرنیل انہیں دھمکا رہے تھے تو اس وقت جنرل کیانی خاموش رہے تھے۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے بطور آئی ایس آئی کے سربراہ چیف جسٹس کے خلاف بیان حلفی دینے سے گریز کیا تھا جبکہ ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کے سربراہان نے اپنا اپنا بیان حلفی دیا تھا۔ امریکی میگزین نیوز ویک کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی چین سموکر ہیں۔ ان کے آئی ایس آئی کے سربراہی کے دنوں میں ابو فراج اللبی سمیت القائدہ کے بعض سرکردہ کمانڈروں کو گرفتار کیا گیا اور پاکستان میں ان کا نیٹ ورک انتہائی محدود کر دیا گیا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی شادی شدہ ہیں اور وہ ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے والد ہیں۔ جنرل احسان الحق کی جگہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بننے والے جنرل طارق مجید انیس سو پچاس میں پیدا ہوئے اور انیس سو اکہتر میں انہوں نے بھی بلوچ رجمینٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ انہوں نے جنگی تعلیمات میں ماسٹرز کر رکھا ہے اور ملائیشیا اور امریکہ کے فوجی تعلیمی اداروں سے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ جنرل طارق مجید نے انیس سو اکہتر کی پاکستان بھارت جنگ میں بھی حصہ لیا تھا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ تو سب سے بڑا ہے لیکن عملی طور پر یہ ایک غیر فعال یا سیریمونیل پوسٹ سمجھی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||