مشرف کی صدارت 940 روز کی رعایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر پرویز مشرف نے صدارت کا منصب حاصل کرنے کے بعد عام قیدیوں کی سزا وں میں 940 روز کی معافی کا اعلان کیا ہے۔ عید، ملک کے یوم آزادی اور دیگر مواقعوں پر نو جولائی دو ہزار دو سے گیارہ اگست دو ہزار سات تک سزاؤں میں یہ رعایت دی گئی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے یہ معلومات سندھ ہائی کورٹ میں جاسوسی کے الزام میں قید سہیل اکرام کی اپیل پر دائر کیے گئے جواب میں فراہم کی گئی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور ارشد سراج پر مشتمل ڈویژنل بینچ کو حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ صدر نے آئین کے آرٹیکل پینتالیس کے تحت حاصل صوابدیدی اختیارات کے تحت ان سزاؤں میں رعایت کا اعلان کرتے رہے ہیں۔ اس رعایت کا اطلاق قتل، دہشت گردی، جاسوسی، بغاوت اور ریاست کےخلاف سرگرمیوں میں ملوث ملزمان کے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث سزا یافتہ قیدیوں کی سزاؤں پر ہوتا ہے۔ وفاقی حکومت نے بتایا ہے کہ اکرام سہیل کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت فیلڈ کورٹ مارشل کی سزا دی گئی تھی اس رعایت کا اطلاق ان پر نہیں ہوگا۔ اکرام سہیل کا تعلق ڈی اے اے اینڈ کیو ایم جی 63 میڈیم رجمنٹ آرٹلری سے بتایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انہیں سات مئی دو ہزار دو کو گرفتار کیا گیا تھا اور پچیس جون دو ہزار دو کو کورٹ مارشل کیا گیا ۔ کراچی کے سینٹرل جیل میں قید اکرم سہیل کے بھائی نے یہ پٹیشن دائر کی ہے اور کہا کہ ان کے بھائی کا فوج سے کوئی تعلق نہیں رہا ہے، وہ ایک پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کے رشتہ دار اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز ہیں جو قانون کے پابند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر کی جانب سے قیدیوں کو سزاؤں میں جو رعایت دی جاتی ہے اس کا اطلاق تمام قیدیوں پر ہوتا مگر اکرام سہیل کو اس سے محروم رکھا گیا ہے۔ حکومتی جواب کے بعد عدالت نے ملزم کے وکیل رشید اے رضوی کو اپنا موقف پیش کرنے کی ہدایت کی ہے، اب اس مقدمے کے سماعت اٹھائیس ستمبر کو ہوگی۔ | اسی بارے میں کوئٹہ جیل، قیدی گنجائش سے دگنے01 October, 2005 | پاکستان حدود آرڈینینس کی شکار خواتین20 April, 2006 | پاکستان پولیس کا ملزم متاثرین کا ’بے قصور‘17 April, 2007 | پاکستان کراچی: بارہ قیدی ایڈز کے مریض09 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||