پولیس کا ملزم متاثرین کا ’بے قصور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شہر گوجرانوالہ اور اس کے گرد ونواح میں ہزاروں افراد سبط الحسن عرف ڈبل شاہ کی گرفتاری کے خلاف چار روز سے پر تشدد مظاہرے کر رہے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ ڈبل شاہ کے حق میں مظاہرہ کرنے والے زیادہ تر افراد وہ ہیں جنہیں پولیس کے بقول ڈبل شاہ نے ہی لوٹا ہے۔ گوجرانوالہ کے نواحی علاقے نظام آباد وزیر آباد سے چار روز قبل اپنی حویلی سے گرفتار ہونے والے سبط الحسن المعروف ڈبل شاہ اب ریمانڈ پر پولیس اور قومی احتساب بیورو کی تحویل میں ہیں۔ لیکن ان کی حویلی اور گردونواح کے گلیاں اور محلے ’ایک خدا ایک رسول ڈبل شاہ بے قصور‘ کے نعروں سے گونج رہے ہیں۔ یوں تو ڈبل شاہ پر پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ لوگوں کو رقم دوگنی کرنے کا جھانسہ دیکر رقم بٹورتے تھے لیکن پولیس کو ابھی تک ایک بھی ایسا حقیقی شکایت کنندہ نہیں ملا جس نے باقاعدہ تحریری شکایت کی ہو کہ ڈبل شاہ نے اس سے رقم تو لی لیکن دوگنی کرکے واپس نہیں کی۔ حویلی کے باہر ڈیوٹی پر تعینات ہیڈ کانسٹیبل کا گرمی اور مچھروں سے برا حال تھا آستینوں اورگریبان کے بٹن اور بیلٹ کا بکل کھلا ہوا تھا۔
ہیڈ کانسٹیبل نے بتایا کہ ڈبل شاہ کی حویلی میں محلے کی عورتیں اور بچے اکٹھے ہوکر قرآن پاک پڑھ رہے ہیں۔ جب میں ہیڈ کانسٹیبل سے بات کر رہا تھا اسی دوران عورتوں اور بچوں کی ایک ٹولی ڈبل شاہ بے قصور کے نعرے لگاتی آئی اور میرے مائیک سنبھال کر پہنچنے سے پہلے وہ حویلی میں غائب ہوچکی تھی بمشکل انہیں باہر بلایا اور عجلت میں پوچھ لیا کہ ایک تو ڈبل شاہ آپ کے پیسے کھا گیااور آپ ہیں کہ اسی کے حق میں مظاہرے کیے جارہے ہیں ؟یہ الفاظ منہ سے نکلنے کی دیر تھی پورا ہجوم جیسے مجھے کاٹ کھانے کو دوڑ پڑا۔ ’تم مخالفوں کے ایجنٹ ہو، یہ کوئی پلسیا ہے، ڈبل شاہ نیک آدمی ہے، غریبوں کی مدد کرتا ہے، پولیس نے ایک سازش کے تحت اسے پکڑا ہے، وہ آئے گا چھا جائے گا۔ تو کون میں خوامخواہ‘ وغیرہ وغیرہ۔
بہرحال یہ سیدھے سادھے لوگ اچھے لگے، ایک بھاری مونچھوں اور نحیف جسامت والے ایک شخص نے کہا کہ میں نے دس ہزار دیئے تھے وہ بیس ہزار ہوئے میں نے دوبارہ ڈبل شاہ کو دیے تو وہ چالیس ہزار ہوگئے اور ہوتے ہوتے وہ دس لاکھ ہوگئے میں ان کا احسان کیسے بھول سکتا ہوں۔ میں نے سوال پوچھا وہ دس لاکھ اب کہاں ہیں؟ تو جواب ملا وہ تو دوبارہ ڈبل شاہ کو دیدیئے تھے۔ اس سادہ لوح انسان کا خیال تھا کہ ڈبل شاہ لوٹ کر آئے گا تو بیس لاکھ اس کی جھولی میں ڈال دے گا۔اسی طرح ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ اس کی رقم ایک لاکھ سے چونسٹھ لاکھ ہوگئی تھی اور اس کے اگلے جملے سے میرا اندازہ بالکل درست ثابت ہوا کہ اب وہ چونسٹھ لاکھ کی رقم ڈبل ہونے شاہ کے پاس گئی ہوئی ہے۔ سیالکوٹ کےضلعی پولیس افسر زبیر نواز چٹھہ کاکہنا ہے کہ لوگ سادہ ہیں آج یہ جس کے حق میں مظاہرہ کررہے ہیں کل جب انہیں پتہ چلے گا کہ واقعی ان کی رقم ڈوب چکی ہے تو وہ اسی کے خلاف مظاہرے کررہے ہوں گے۔ نیب کے ترجمان ڈپٹی ڈائریکٹر ایس ایم حسنین نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم سبط الحسن پہلے ایک غریب سکول ٹیچر تھا پھروہ نوکری چھوڑ کر کچھ عرصہ کے لیے دوبئی گیا اور وہاں سے چھ لاکھ روپے کما کرلایا تھا۔ سنہ دوہزار پانچ میں اس نے تمام رقم داؤ پر لگانے کا فیصلہ کیا۔
نیب کے ترجمان کے مطابق اس کے متاثرین کی تعداد دو ہزار سے زیادہ اور لوٹی گئی رقم کروڑوں سے تجاوز کرچکی ہے۔ ڈبل شاہ کے متاثرین گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ڈسکہ اور وزیرآباد میں پھیلے ہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنے اپنے علاقوں میں چھوٹے بڑے مظاہرے کررہے ہیں۔ بہرحال ان شہروں میں کسی نے ڈبل شاہ کو رقم جمع کروائی یا نہیں کروائی البتہ ہر کوئی اس کے بارے میں بات کرتا ضرور دکھائی دیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ڈبل شاہ نہ پکڑا جاتا تو ان کی رقم ڈبل ہوجاتی۔ ڈی آئی جی گوجرانولہ خادم حسین بھٹی کہتے ہیں کہ اگر وہ نہ پکڑا جاتا تو جتنی رقم کی برآمدگی اس سے ہوچکی ہے وہ بھی نہ ہوپاتی اور وہ لوگوں کی رقوم لیکر غائب ہوجاتا۔ مختلف پولیس اور نیب افسروں سے میں نے پوچھا کہ اگر پولیس کو علم تھا کہ ڈیڑھ دو برس سےفراڈ ہورہا ہے تو وہ فوری کارروائی کرنے کی بجائے کس کا انتظارکرتی رہی؟ اور اسے اسی وقت کیوں پکڑا گیا جب وہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے جیب میں ڈال چکاتھا، میرے اس سوال کاکوئی تسلی بخش جواب نہیں مل پایا۔ | اسی بارے میں گوجرانوالہ: متبادل بینکنگ اور دھوکہ13 April, 2007 | پاکستان سندھ: مطلوب افراد کی فہرست جاری 15 April, 2007 | پاکستان آٹھ سے زائد افراد زیرِ حراست11 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||