BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 April, 2007, 17:46 GMT 22:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوجرانوالہ: متبادل بینکنگ اور دھوکہ

پاکستانی کرنسی
پولیس نے ملزم سے نقد پونے دوکروڑ روپے برآمد کیے ہیں۔
گوجرانوالہ میں پولیس نے ایک شخص سبط الحسن اور اس کے دوکیشئرز اور پندرہ دیگر ملازموں کو متبادل بینکنگ کا نظام چلانے اور دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔اس شخص پر الزام ہے کہ وہ لوگوں کو رقم دوگنی کرنے کا جھانسہ دیکر ان کی رقم ہتھیا لیتا تھا اور پولیس کے بقول اب تک اس کی مبینہ ہیرا پھیری میں ہزاروں لوگوں کے کروڑوں روپے داؤ پر لگ چکے ہیں۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس گوجرانوالہ خادم حسین بھٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم کے مختلف ناموں کے بیس اکاؤنٹس منجمند کیے گئے ہیں جن میں کروڑوں روپے ہیں۔ خود ملزم سے نقد پونے دوکروڑ روپے برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ قیمتی جائیدادیں قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

ملزم اور اس کے ساتھیوں سے پولیس کے علاوہ قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے ارکان بھی تفتیش کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم نے دو برس قبل دھندے کا آغاز کیا اور پہلے اس نے پندرہ دن کے اندر رقم دوگنی کرنے کا وعدہ کیا اور متعدد لوگوں کی رقوم وعدے کے عین مطابق دوگنی کر کے لوٹا دیں۔ اس طرح وہ رفتہ رفتہ لوگوں کی رقوم ڈبل کر کے لوٹاتا رہا لیکن ساتھ ساتھ رقم لوٹانے کی مدت میں بتدریج اضافہ کرتا چلا گیا۔

ملزم اور اس کے کارندے جو رسید جاری کرتے تھے ان پر لکھا ہوتا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو فلاں تاریخ تک رقم واپس کردوں گا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب تک وہ وعدے کے مطابق رقم دوگنی کر کے واپس کرتا بھی رہا تھا۔

 پولیس اب بھی مجھے چھوڑ دے تو میں لوگوں کی پائی پائی ادا کروں گا
ملزم سبط الحسن

پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی شہرت گوجرانوالہ، سیالکوٹ، وزیر آباد اور اردگرد کے شہروں اور قصبوں میں تیزی سے پھیلی اور لوگوں نے ایک دوسرے سے ادھار لیکر اور جائیدادیں تک فروخت کر کے رقوم ادا کیں۔

مقامی اخبارات میں بھی ملزم کے خلاف خبریں شائع ہونے لگیں جن میں
اس خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا کہ یہ ملزم کبھی بھی لوگوں کے رقوم لیکر بھاگ سکتا ہے۔

مقامی پولیس ہر بار یہ جواب دے کر ٹال دیتی رہی کہ ابھی تک کوئی شکایت کنندہ سامنے نہیں آیا۔ دوسری طرف ملزم مبینہ سرمایہ کاری کے لیے لی جانے والی کم از کم رقم بڑھاتا چلاگیا۔ اب وہ دو لاکھ پاکستانی روپوں سے کم رقم بھی وصول نہیں کرتا تھا اور اس نے واپسی کی مدت بڑھا کر تین ماہ سے زائد کردی تھی۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ اب ملزم وقت پر لوگوں کی رقم واپس کرنے سے ٹال مٹول کرنے لگا ہے اور بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے اور اس سے پہلے کہ وہ رقم سمیٹ کر فرار ہوجاتا پولیس نے اسے اور اس کے تمام ساتھیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

تھانہ گکھڑ منڈی میں جمعہ کی رات ڈی آئی جی آپریشن نے نیب کے افسروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں ملزمان کی گرفتاری کی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملزم کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے قبضے سے مختلف بینکوں کی چیک بکس اور کمپیوٹر برآمد ہوا ہے جس میں ملزم نے لوگوں سے لی جانے والی رقوم کا حساب رکھا ہے۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ ملزم ہر ماہ پچیس سے تیس کروڑ روپے وصول کرنے لگا تھا اور اس میں سے کچھ واپس کر دیتا تھا۔ ان کے اندازے کے مطابق اب ملزم نے کم ازکم تین ہزار افراد کی رقوم واپس کرنی ہیں۔

ملزموں کو لاہور سے آئی نیب کی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے جو اسے لیکر لاہور روانہ ہوگئی۔ روانگی سے قبل ملزم کی گوجرانوالہ کے اخبار نویسوں سے مختصر گفتگو ہوئی۔ ملزم نے کہا کہ ’میں نے کوئی فراڈ نہیں کیا ہے۔ میں شراکت داری کا کاروبار کر رہا تھا۔ پولیس کو مجھے گرفتار کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا‘۔اس نے کہا کہ جس طرح بینک رقم پر منافع دیتا ہے اسی طرح وہ بھی منافع دے رہا تھا اور فرق صرف یہ ہے کہ اس کے منافع کی شرح زیادہ ہے۔

ملزم نے کہا کہ ’پولیس اب بھی مجھے چھوڑ دے تو میں لوگوں کی پائی پائی ادا کروں گا‘۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ لوگوں کی رقوم اب نیب واپس کرے گی۔ نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر حسنین شاہ نے کہا کہ ان کا ادارہ ہر ماہ مختلف سکینڈلز کا شکار ہونے والے افراد کے دو سے تین کروڑ روپے واپس دلواتا ہے اور یہ رقم بھی جلد متاثرین کو لوٹا دی جائے گی۔

نیب نے ملزم کی جائیداد بھی ضبط کر لی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے ابھی گوجرانوالہ اور اس کے ارد گرد چھ پٹرول اور سی این جی پمپ سمیت کرروڑوں کی دیگر کمرشل جائیداد کی نشاندہی کی ہے۔ اس کے علاوہ ملزم نے دوبئی میں بھی جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے۔

پولیس نے ملزم کے خلاف جو مقدمہ درج کیا ہے اس کا مدعی کوئی متاثرہ فریق نہیں ہے بلکہ خود پولیس کی جانب سے استغاثہ دیا گیا ہے۔

ملزم کی گرفتاری کی اطلاع بعض متاثرین تک بھی پہنچی اور ان کی بڑی تعداد اس کے گھر کے باہر اکٹھی ہوگئی۔ متاثرین میں چند خواتین بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے زیورات بیچ کر رقم ادا کی تھی۔ کئی متاثرین روتے بھی دکھائی دیے۔ چند ایک نے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی بھر کی پونجی ان کے حوالے کی تھی جس کی واپسی اب یقینی نہیں رہی۔

اسی بارے میں
’مشرف حکومت کرپٹ ہے‘
20 September, 2006 | پاکستان
پانچ کروڑ کہاں گئے؟
11 February, 2005 | پاکستان
سرحد میں ہفتہ انسداد کرپشن
04 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد