انعامات کی تقسیم روک دی گئی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب حکومت کی انعامی اسکیم ، پنجاب ڈولپمینٹ فنڈ ، میں فراڈ کی شکایت پر سندھ ہائی کورٹ نے پی ڈی ایف کی قرعہ اندازی میں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں انعامات کی تقسیم تئیس جون تک روکنے کا حکم جاری کیا ہے۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس امیر مسلم ہانی پر مشتمل ہائی کورٹ کی ڈویژن بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔ حکومت پنجاب کی زیر نگرانی بینک آف پنجاب نے پی ڈی ایف اسکیم شروع کی ہے۔ جس ٹکٹ کی مالیت پچیس روپے ہے۔ جبکہ سب سے بڑا انعام ڈھائی کروڑ ہے۔ دیگر انعامات سات کروڑ کی مالیات کے ہیں۔ پچیس روپے میں کروڑ پتی بنیے کے نام سے شروع کی گئی اس اسکیم کی قرعہ اندازی گیارہ جون سینچر کے روز ہونی تھی۔ لاڑکانہ کے رہائشی سجاد بھٹی نے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی جس میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے پنجاب ڈویلپمنٹ فنڈ کی کروڑ پتی اسکیم کے لاڑکانہ سے اکتیس انعامی ٹکٹ خریدے تھے۔ جن میں دو ٹکٹ ایک ہی نمبر کے ہیں۔جو خلاف قانون ہے ۔ درخواست گذار نے عدالت سے گذارش کی کہ پی ڈی ایف اسکیم کو روکا جائے۔ جس کی سندھ کے اسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عبدالجبار لاکھو نے بھی تائید کی۔ پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل آفتاب چودھری نے عدالت کو بتایا کہ اسے ایک دن پہلے ہی عدالت سے نوٹس ملا ہے اور عدالت میں جواب داخل کرنے کے لیے مہلت درکار ہے۔ سندہ ہائی کورٹ نے انعامات کی تقسیم روکنے کا حکم دیتے ہوئے حکم دیا کہ مقدمے کی اگلی سماعت تئیس جون کو ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||