BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 October, 2007, 14:37 GMT 19:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخاب وقت پر، نتائج بعد میں

مشرف
’آئین کے مطابق انتخابات کا پندرہ نومبر سے پہلے ہونا لازمی ہے‘
سپریم کورٹ نے صدارتی امیداروں جسٹس (ریٹائرڈ) وجیہہ الدین اور مخدوم امین فہیم کی صدارتی انتخابات کے خلاف حکم امتناعی کی درخواستوں کو خارج کرتے ہوئے صدارتی انتخاب شیڈول کے مطابق کروانے کا حکم دیا ہے۔

تاہم عدالت نے ریٹرننگ افسر کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی امیدوار کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن آئینی درخواستوں پر فیصلہ آنے تک جاری نہ کرے۔ عدالت نے صدر مشرف کے کاغذاتِ نامزدگی کی منظوری کے خلاف درخواستوں کی سماعت سترہ اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔

جمعہ کے روز عدالت نےاٹارنی جنرل ملک محمد قیوم، صدر مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ اور وفاق کے وکیل وسیم سجاد دلائل سنے۔

حکم امتناعی کی درخواستوں پر صدارتی امیدوار جسٹس وجیہہ الدین کے وکیل حامد خان، مخدوم امین فہیم کے وکیل سردار لطیف کھوسہ اور قانون دان فاروق حسن پہلے ہی اپنے دلائل مکمل کر چکے ہیں۔

جمعہ کے روز جب سماعت کے روز شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل جاری رکھے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق انتخابات کا پندرہ نومبر سے پہلے ہونا لازمی ہے اور اسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔

اس پر بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ اگر ہم آئینی ضرورت کے مطابق پندرہ اکتوبر سے پہلے الیکشن کے انعقاد کو یقینی بناتے ہوئے پولنگ کو10 یا 13 اکتوبر تک ملتوی کرنے کا حکم دیں تو کیا یہ غیر آئینی ہوگا۔

اس کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس سے الیکشن شیڈول متاثر ہوگا۔ اس موقع پر جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ الیکشن شیڈول کا اعلان الیکشن کمشن آف پاکستان کرتا ہے، کیا اس کی بجائے عدالت الیکشن شیڈول کا اعلان کر سکتی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر ہی ریٹرننگ افسر کی حیثیت سے صدارتی الیکشن کے شیڈول کے اعلان کا مجاز ہے۔ بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا اگر کسی امیدوار کا انتقال ہو جائے تو پولنگ رک جاتی ہے۔

 اگر الیکشن کو ملتوی کیا گیا تو جمہوریت کی گاڑی جو بڑی مشکل سے پٹڑی پر رواں دواں کی گئی ہے دوبارہ پٹڑی سے اتر جائے گی۔
وسیم سجاد

اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آئین کی دفعہ اکتالیس (سات) کے تحت صدر 15 نومبر تک دو عہدے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر پہلے ہی سپریم کورٹ کے سامنے یہ عہدنامہ جمع کرا چکے ہیں کہ وہ صدر منتخب ہونے پر فوجی وردی اتار دیں گے۔

اٹارنی جنرل کے بعد صدر مشرف کے وکیل سید شریف الدین پیرزادہ نے اپنے دلائل شروع کیے۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ الیکشن شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے اس لیے پولنگ کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا۔ جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے نے کہا کہ آئین کے سیکنڈ شیڈول کے تحت الیکشن کو ملتوی کیا جا سکتا ہے۔

اس پر سید شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اگر عدالت کے حکم امنتاعی کی وجہ سے سرحد اسمبلی کے ٹوٹنے کا امکان موجود ہے تو عدالت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر نے کہا کہ وزیر اعلی سرحد کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی ہے اس لیے جب اس کا فیصلہ نہیں ہوجاتا وہ اسمبلی تحلیل نہیں کرسکتے۔

دلائل کے دوران صدر کے وکیل نے کچھ مقدمات میں ججوں کے ریمارکس کے حوالے دیے جس پر جسٹس رمدے نے کہا کہ ان ریمارکس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

وفاقِ پاکستان کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ اگر الیکشن کو ملتوی کیا گیا تو جمہوریت کی گاڑی جو بڑی مشکل سے پٹڑی پر رواں دواں کی گئی ہے دوبارہ پٹڑی سے اتر جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے میں جب جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تھا تو اس کے بعد عدالت عظمی نے جنہیں تین سال کی مہلت دی تھی کہ وہ اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کردیں گے۔

بنچ کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت حکم امتناعی جاری کردے تو پھر جمہوریت کی راہ میں کیا رکاوٹیں حائل ہوں گی۔ وسیم سجاد نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے یہ الیکشن شیڈول سپریم کورٹ کے دو فیصلوں کی روشنی میں مرتب کیا ہے۔ جن میں قاضی حسین احمد اور پاکستان لائرز فورم کی آئینی درخواستیں شامل تھیں۔

انہوں نے کہا کہ جب ان درخواستوں پر فیصلہ آیا تھا تو اس کے بعد دوردی کا ایشو سامنے نہیں آیا تھا اور اب صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں اور وردی کا ایشو سامنے لایا گیا ہے۔ فیڈریشن کے وکیل نے کہا کہ صدر وردی میں رہ کر انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں اور وہ نااہلی کے زمرے میں نہیں آتے۔

اس سے قبل جمعرات کو صدارتی اُمیدواروں جن میں جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین اور پیپلز پارٹی کے امیدوار مخدوم امین فہیم شامل ہیں کے وکلاء کے وکیل حامد خان اور سردار لطیف کوسہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے ملک میں افراتفری پھیلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی معیاد پندرہ نومبر کو ختم ہو رہی ہے اور آئین کے مطابق صدارتی انتخابات پندرہ نومبر کے بعد ہونے چاہئیں

صدر مشرف فائل فوٹوتبدیلی کا وقت ہے
قومی مفاہمت شخصیات سے نہیں پارٹیوں سے
اضافی نوٹ
جنرل مشرف انتخاب نہیں لڑسکتے:جسٹس فلک شیر
سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین صدارتی انتخاب
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سنیچر کو
گیلری اہم لمحوں کی تصاویر
پاکستان کی جاری سیاست کے اہم لمحات
فائل فوٹواپوزیشن کے استعفے
کیا استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟
صدر مشرف چھوٹے مشرف
صدرجنرل پرویز مشرف چھوٹےہو کرکیا بنیں گے؟
اسی بارے میں
’فوجی افسر کی نامزدگی جرم‘
26 September, 2007 | پاکستان
حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد