BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 October, 2007, 01:30 GMT 06:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مصالحتی آرڈیننس، سب کے مزے

نیب لوگو
احتساب بیورو مخصوص مقاصد کے تحت کارروائی کرنے کے الزامات سے اپنا دامن نہیں بچا سکا
حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان قومی مصالحتی فارمولے کے تحت مجوزہ آرڈیننس سے جہاں سیاستدانوں کو فائدہ پہنچے گا وہاں اُن کاروباری حضرات، سرکاری افسروں اور فوج کے سابق ملازمین کو بھی فائدہ ہوگا جن کے خلاف قومی احتساب بیورو نے مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔

احتساب بیورو کی ویب سائیٹ پر دی گئی معلومات کے مطابق بیورو کے قیام سے لے کر رواں سال تیس جون تک گیارہ سو نوے مقدمات عدالتوں میں بھجوائے گئے۔ جن میں سے چھ سو تراسی مقدمات میں عدالتوں نے فیصلے سنائے۔

چار سو پینسٹھ مقدمات میں عدالتوں نے نامزد ملزمان کو قید و جرمانے کی سزائیں سنائیں جبکہ ایک سو چھبیس مقدمات کے ملزمان کو بری کر دیا گیا۔

احتساب بیورو نے بانوے مقدمات خود واپس لے لیے اور پانچ سو دو مقدمات اب بھی مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

قومی احتساب بیورو کے مطابق تیس جون سن دو ہزار سات تک ایک سو سولہ ارب ساٹھ کروڑ روپے ڈیفالٹ قرضوں کے مد میں وصول کیے گئے جبکہ ساٹھ ارب روپے کے قرضہ جات ری شیڈول اور ری سٹرکچر کیے گئے۔

پنہاں ہے سب کا مفاد
 بینظیر بھٹو اور پرویز مشرف کی شراکت اقتدار کی خواہش کی وجہ سے قومی مصالحت کے قانون سے جہاں حزب مخالف کے سیاستدانوں اور ان کے حامیوں کو فائدہ ہوگا وہاں حکومت میں شامل متعدد اعلیٰٰ شخصیات بھی فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہیں

احتساب بیورو نے برس ہا برس سے لوٹے گئے کھربوں روپوں میں سے رواں سال تیس جون تک محض چوبیس ارب روپے وصول کیے۔ جبکہ ساڑھے گیارہ ارب روپے انہیں عدالتوں کی جانب سے عائد کردہ جرمانوں کے مد میں وصول ہوئے۔

احتساب بیورو نے سات برسوں میں سب سے زیادہ مقدمات سویلین محکموں کے سرکاری ملازمین اور سب سے کم فوجیوں کے خلاف قائم کیے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلا تفریق بے رحم احتساب کا اعلان کیا تھا، لیکن بعد میں احتساب بیورو مخصوص افراد کے خلاف کارروائی کے الزامات سے اپنا دامن نہیں بچا سکا۔

ان الزامات میں اس وقت شدت پیدا ہوئی جب اکتوبر سنہ دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے کھلم کھلا ریاستی ادارے میدان میں کود پڑے اور بڑے پیمانے پر ’ہارس ٹریڈنگ‘ کی گئی۔

اُس وقت نوزائیدہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کو اقتدار میں لانے کے لیے لالچ اور خوف کے ہتھیار بڑی بے رحمی سے استعمال کیےگئے اور اس میں جہاں سول ادارے ملوث تھے وہاں بعض فوجی اداروں پر بھی انگلیاں اٹھیں۔

چھوٹے کی جان سوئس کورٹس سے
 بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں چلنے والے مقدمات کا خاتمہ ان کے لیے باعث سکون ہوگا

حکومت سازی کے چکر میں احتساب بیورو کی جانب سے آفتاب احمد شیر پاؤ، فیصل صالح حیات، لیاقت علی جتوئی اور سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین سمیت متعدد اہم شخصیات کے خلاف مبینہ کرپشن کے مقدمات اور الزامات کے تحت درج مقدمات اور تحقیقات پر کام روک دیا گیا۔

بینظیر بھٹو اور پرویز مشرف کی شراکت اقتدار کی خواہش کی وجہ سے قومی مصالحت کے قانون سے جہاں حزب مخالف کے سیاستدانوں اور ان کے حامیوں کو فائدہ ہوگا وہاں حکومت میں شامل متعدد اعلیٰٰ شخصیات بھی فائدہ اٹھاتی نظر آتی ہیں۔

اس قانون سے جہاں پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف علی زرداری، ایف آئی اے کے سابق افسر اور آجکل بینظیر بھٹو کے معتمد خاص رحمٰن ملک، بیوروکریٹس سلمان فاروقی اور عثمان فاروقی، ٹیکنوکریٹ حسین حقانی اور دیگر کو فائدہ پہنچے گا وہاں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کے بعض دیگر افراد، سید غوث علی شاہ اور سیف الرحمٰن بھی مستفید ہوتے نظر آ رہے ہیں۔

البتہ بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف سوئٹزر لینڈ میں چلنے والے مقدمات کا خاتمہ ان کے لیے باعث سکون ہوگا۔ ان مقدمات کے حوالے سے حکومت اور بینظیر بھٹو کو پیشیاں بھگتنے اور وکلاء کی فیس کی مد میں کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑے ہیں۔

آئین سے متصادم مصالحت
 اعتزاز احسن مقدمات کے خاتمے کے قانون کو آئین کی شق پچیس کے منافی قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں

مصالحتی آرڈیننس کے بارے میں بینظیر بھٹو کا دعویٰ ہے کہ اس کا زیادہ فائدہ موجودہ حکومت میں شامل افراد کو ہوگا۔ ان کے بقول نیب زدہ وزیروں، مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے توڑے گئے اسی اراکان اسمبلی کے علاوہ نیب کے وہ افسران بھی بچ جائیں گے جنہوں نے بے بنیاد مقدمات تیار کیے۔

ان کے اس دعوے کی روشنی میں دیکھا جائے تو پھر نیب کے بانی چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد امجد، پنجاب کے موجودہ گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) خالد مقبول اور ان کے موجودہ پرنسپل سیکرٹری حسن وسیم افضل سمیت احستاب بیورو کے کئی افسران بھی جان کی امان پائیں گے۔

تاہم پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماء اور سینئر وکیل اعتزاز احسن مقدمات کے خاتمے کے قانون کو آئین کی شق پچیس کے منافی قرار دے رہے ہیں، جس کے تحت تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔

42 واں کرپٹ ملک
پاکستان بیالیسواں کرپٹ ملک: رپورٹ
نواب شاہ میں ہلاک ہونیوالے’جمہوریت کے لئے‘
قتل کا مقدمہ درج ہوا نا کوئی یادگار تعمیر ہوئی
معافی، پھرمقدمہ کیسا
نیب کیس نہیں کھُل سکتے: ماہرین قانون
نیبمفاہمت کا قدم؟
’لاہور نیب آفس بند ہونے کے اسرار و رموز‘
 بنظیر بھٹومیثاق کا مستقبل
میثاق جمہوریت میں دلچسپی کم ہو رہی ہے۔
مشرف ’بدعنوانی کی کہانی‘
حکومتی’بدعنوانیاں‘ اور اپوزیشن کا سیمینار
نیبنیب کا ڈرامہ
لیکن اب ٹی وی پر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد