BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 26 September, 2007, 15:08 GMT 20:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان بیالیسواں کرپٹ ملک: رپورٹ

دنیا کے مختلف ممالک میں کرپشن کی سطح کو جانچنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے پاکستان کو کرپٹ ترین ممالک میں بیالیسوے نمبر پر جگہ دی ہے۔

ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وہاں کرپشن میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے تاہم پولیس اور تعلیم کے محکموں میں بےانتہا کرپشن ہے۔

کراچی میں بدھ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے پاکستان کے چیئرمین سید عادل جیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن کی صورتحال کے حوالے سے معمولی بہتری تو ضرور آئی ہے تاہم کرپشن میں کوئی خاطر خواہ کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم کرپشن کے حوالے سے مختلف ممالک کو صفر سے دس نمبر دیتی ہے اور یہی اس ملک میں کرپشن جانچنے کا پیمانہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میانمار یعنی برما اور صومالیہ ایک اعشاریہ چار نمبر لے کر دنیا کے سب سے زیادہ کرپٹ ممالک ہیں جبکہ ڈنمارک کے پوائنٹ نو اعشاریہ چار ہیں اور وہاں کرپشن نہ ہونے کے برابر ہے۔

کرپشن میں کمی
 کرپشن میں کمی کے بارے میں وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمۂ انکم ٹیکس، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں کمپیوٹر کا بڑے پیمانے پر استعمال کرنے سے ان محکموں میں کرپشن کی سطح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔
پاکستان کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ اس سال پاکستان نے دو اعشاریہ چار پوائنٹ لیے ہیں جبکہ پچھلے سال اس کے دو اعشاریہ دو پوائنٹ تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن کی سطح میں معمولی کمی آئی ہے۔

کرپشن میں کمی کے بارے میں وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمۂ انکم ٹیکس، شناختی کارڈ اور پاسپورٹ میں کمپیوٹر کا بڑے پیمانے پر استعمال کرنے سے ان محکموں میں کرپشن کی سطح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔

دوسری جانب ان کے بقول پولیس، لینڈ ریوینیو اور تعلیم کے محکموں میں کرپشن اس وقت بھی بے انتہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کے ذمہ دار عوام ہیں، اگر وہ رشوت نہ دیں تو کرپشن ختم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قوانین کو سمجھوتوں کی نذر کردیا جاتا ہے، مثال کے طور پر مختلف پراجیکٹ کے ٹھیکے دینے کے لئے من پسند افراد کو دیکھا جاتا ہے اور اس سلسلے میں قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو یہ حال نہ ہوتا۔ سمجھوتوں کی بنیاد پر سن انیس سو اٹھاسی کے کرپشن کے مقدمات اب تک التواء کا شکار ہیں۔ عدلیہ پر ہمیشہ دباؤ آتے رہیں گے لیکن ان کو چاہیے کہ وہ اپنی صوابدید پر فیصلہ کریں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر شپ میں کرپشن پروان چڑھتی ہے اور ان کی تنظیم جمہوریت پر یقین رکھتی ہے۔ موجودہ حکومت کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’جمہوری حکومت میں وزیرِاعظم ملک کا سربراہ ہوتا ہے لیکن اس حکومت میں وزیرِاعظم صرف کاغذوں پر سربراہ ہے۔‘

مشرف ’بدعنوانی کی کہانی‘
حکومتی’بدعنوانیاں‘ اور اپوزیشن کا سیمینار
عدالت اعظمیٰکرپشن اور عدلیہ
جوڈیشل کانفرنس کا اعلامیہ
بدعنوانی تحقیقات
’لاہور ڈیفنس ہاوسنگ سوسائٹی میں بدعنوانیاں‘
زلزلہ اور کرپشن
’اٹھارہ لاکھ متاثرین کھلے آسمان تلے‘
اسی بارے میں
کرپشن اور عدلیہ
15 August, 2006 | پاکستان
’مشرف حکومت کرپٹ ہے‘
20 September, 2006 | پاکستان
سرحد میں ہفتہ انسداد کرپشن
04 December, 2006 | پاکستان
مشرف حکومت کی ’لوٹ سیل‘
20 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد