ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل ضیاالحق کے دور میں چلنے والی تحریک برائے بحالی جمہوریت یعنی ایم آر ڈی کے دوران سندھ کے ضلع نواب شاہ میں ہلاک ہونے والے افراد کی چوبیسویں برسی تیس ستمبر کو گاؤں پنہل خان چانڈیو میں منائی گئی۔ سنہ انیس سو تراسی انتیس ستمبر کے روز ایم آر ڈی کے سترہ کارکنوں کو نواب شاہ میں فوجیوں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ برسی کی تقریب سے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار احمد کھوڑو، جام سیف اللہ دھاریجو، غلام قادر چانڈیو اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب یہ بیان ضرور دہرایا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے سر کٹانا سیکھا ہے جھکانا نہیں، مگر انہوں نے نواب شاہ میں جمہوریت کے لیے جان کی قربانی دینے والوں کے مقدمات کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ چوبیس سال قبل جنرل ضیاء کے مارشل لاء کے خلاف صرف ستمبر کے مہینے میں سندھ کے دو اضلاع دادو اور نواب شاہ میں تیس سیاسی کارکنوں کو ہلاک کیا گیا۔ جن میں نواب شاہ کے گاؤں پنہل خان چانڈیو کے سترہ افراد بھی شامل تھے۔ تینتالیس سالہ انور خاصخیلی بھی اس جلوس میں شریک تھے جو ان کے بقول گاؤں والوں نے ضیاء آمریت کے خلاف نکالا تھا۔ وہ قومی شاہراہ پر قرآن خوانی کر رہے تھے کہ فوجیوں کی گاڑیاں پہنچ گئیں۔انور بتاتے ہیں کہ ان کے بھائی میر محمد اور ماموں زاد بھائی علی گل جلوس پر فوجیوں کی طرف سے فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے سترہ افراد میں شامل تھے۔
انور ان سو کے قریب افراد میں شامل تھے جنہیں فوج نےگرفتار کر لیا تھا۔ انور کے مطابق فوجیوں نے انہیں ٹرک میں ڈال کر ان کے اوپر ڈیکوریشن کے ٹینٹ ڈال دیے اور فوجی ان ٹینٹوں کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گئے۔ انور کا کہنا ہے کہ فوج کے ہاتھوں جو تذلیل ہوئی وہ اورگاوں والے اسے کبھی بھی نہیں بھلا سکتے۔ ’میرے چھ بچے ہیں لیکن میں ان میں سے کسی کو بھی فوجی نہیں بننے دونگا۔‘ قومی شاہراہ کے قریب نواب شاہ کے اس چھوٹے سےگاؤں میں کئی لوگ ایسے ہیں جنہیں ستمبر کی وہ رات اچھی طرح یاد ہے جب ان کے پورے گاؤں میں کسی ایک گھر میں بھی کھانا نہیں پکا تھا۔ سارا گاؤں سوگ میں تھا۔ انہیں لاشیں ملنے یا نہ ملنے کی فکر لاحق تھی۔ ان افراد میں رانجھو چانڈیو بھی شامل ہیں، جنہیں یہ فکر تھی کہ فوجی کہیں گرفتار سو افراد کو بھی ہلاک نہ کردیں۔
برسی کی تقریب میں شرکت کے لیے گاؤں پنہل چانڈیو جاتے ہوئے یہ سوال تمام راستے مجھے ستاتا رہا اور جب میں وہاں پہنچا پی پی پی سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی غلام قادر چانڈیو سے پہلا سوال یہ ہی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمہ تو ضرور درج ہوا لیکن فوج کی طرف سے گاؤں والوں کے خلاف۔ ’ہماری درخواست تو وصول ہی نہیں کی گئی اور سترہ افراد کے قتل کا مقدمہ آج تک درج نہیں ہوا۔‘ غلام قادر کے والد پنہل خان چانڈیو اس واقعے میں ایک سو کے قریب کارکنان کے ہمراہ گرفتار ہوگئے تھے، انہیں فوجیوں نے نو ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ اس وقت تو جنرل ضیاء کا مارشل لاء تھا مگر بعد میں اپنے دور اقتدار میں پیپلز پارٹی نے کارکنوں کے اس ’قتلِ عام‘ کا مقدمہ کیوں نہ درج کرایا؟ غلام قادر چانڈیو کا کہنا تھا کہ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا تھا مگر انہیں کہا گیا کہ ’ملکی مفاد کی خاطر پارٹی نے سوچا ہے کہ کیس کو دوبارہ نہ ہی کھولا جائے۔‘
نواب شاہ کے پنہل چانڈیو گاؤں کے لوگ شروع سے ہی پیپلز پارٹی کے کارکن ہیں، انہیں قربانیوں کا صلا انصاف کی بجائے چند ایک معمولی ملازمتوں، کچھ نقد رقوم اور سرکاری حج کوٹا کی صورت میں دیا گیا۔ نواب شاہ کے اس چھوٹے سے گاؤں سے واپس آتے ہوئے میں سوچتا رہا کہ کیا گاؤں کے سترہ لوگوں نے اپنی جانیں صرف چند نوکریوں کے لیے قربان کی تھیں؟ اور کیا پیپلز پارٹی ان ’جمہوریت کے پروانوں‘ کی یاد میں کوئی ایک یادگار بھی تعمیر نہیں کروا سکتی تھی؟ ایسی یادگار ملکی مفاد کے خلاف ہوگی یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||