BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 18 January, 2006, 10:40 GMT 15:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوریت: پاک بھارت تفریق

کتاب
کتاب میں پاک بھارت جمہوری عمل پر بحث کی گئی ہے
معروف اسکالر ڈیوڈ پیج کی ادارت میں بھارت اور پاکستان کے بارے میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا عنوان ’ڈیوائڈڈ بائی ڈیموکریسی‘ ہے۔

اس کتاب میں بھارتی نژاد برطانوی اسکالر میگھناد ڈیسائی نے ایک طویل مضمون لکھا ہے جس کا موضوع ہے’بھارت ایک جمہوریت کیوں ہے؟‘ جبکہ پاکستان کے سیاستدان اور وکیل اعتزاز احسن نے مضمون لکھا ہے کہ ’پاکستان ایک جمہوریت کیوں نہیں ہے‘۔

کتاب کے مدیر نے اس کا مقصد یہ بتایا ہے کہ ایک ہی جلد میں معروف بھارتی اور پاکستانی لوگ ان معاملات پر بحث کریں جو ان کے درمیان تفریق کا باعث ہیں۔

اس موضوع پر دونوں طرف ایک مباحثہ شروع کرنے کے لیے کتاب کو دونوں ملکوں میں بیک وقت شائع کیا گیا ہے۔

کتاب میں شامل میگھناد ڈیسائی کا مضمون خاصا عالمانہ ہے۔ انہوں نے بھارت میں جمہوریت کی جڑیں اٹھارہ سو اٹھاون سے انیس سو سینتالیس تک برطانوی راج کے دوران اس تعلیم یافتہ متوسط طبقہ میں تلاش کی ہیں جس نے ممبئی، کلکتہ اورمدراس میں انگریزوں کی طرف سے قائم کی گئی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی تھی اور معاصر برطانوی سیاست کا تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔

ڈیسائی کا موقف ہے کہ بھارت میں جمہوریت مضبوط اور گہری ہے۔ ان کے خیال میں بھارتی جمہوریت کا ڈھانچہ برطانوی ویسٹ منٹسر نظام کا ہے تاہم اس نے مقامی سماجی ڈھانچہ اور مقامی روایات کے مطابق خود کو ڈھال لیا ہے اور متنوع علاقائی امتیازات، زبانوں اور تہذیبوں کے فرق کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔

 میگھناد ڈیسائی
کتاب میں شامل میگھناد ڈیسائی کا مضمون خاصا عالمانہ ہے

ڈیسائی کاموقف ہے کہ بھارت کا آئین بناتے ہوئے سب شہریوں کے لیے بالغ رائے دہی کا حق دینے کا فیصلہ ایک انقلاب تھا جس نے بھارت کی صدیوں سے محروم اکثریت کو بااختیار بنادیا۔

وہ بھارت میں جمہوریت کے استحکام میں جواہر لال نہرو کےکردار کو بھی کلیدی اہمیت دیتے ہیں۔ بھارت کی تاریخ کا جائزہ اور سیاسی تجزیہ پیش کرتے ہوئے ڈیسائی اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ مستقبل میں بھارت ایک سیکولر جمہوری ملک رہے گا جس میں مختلف پارٹیوں کی اتحادی حکومتیں تشکیل پائیں گی۔

دوسری طرف، اعتزاز احسن کا پاکستان پر مضمون ان کی سندھ ساگر نامی کتاب کے خلاصہ سے شروع ہوتا ہے۔

اعتزاز احسن کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان جس جغرافیائی خطہ میں واقع ہے یہ قدیم دور سے ہند سے الگ رہا ہے اور کا تشخص انڈس (سندھ) کا تھا۔

ان کا موقف ہے کہ بھارت اور پاکستان کے قیام کی وجہ کے طور پر ہندو اورمسلمان کے مذہبی فرق کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ اس تقسیم کی ایک اہم وجہ ان دو خطوں میں معاشی اور سماجی ارتقاء کا فرق بھی تھا۔

اعتزاز احسن نے اپنے مضمون میں تفصیل سے بتایا ہے کہ کس طرح بنگال میں برطانوی راج نے جنگ پلاسی کے بعد ہندو تاجر اورمتوسط طبقہ کو فروغ دیا جبکہ سو سال بعد انڈس میں اپنی استعماری ضروریات کے لیے زراعت اور زمیندار طبقہ کو پروان چڑھایا۔

اعتزاز کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان کے وقت اس علاقہ (انڈس) میں بورژوازی یا کاروباری طبقہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ برطانوی دور میں یہاں سے حکومت لنکا شائر کی ملوں کے لیے کپاس حاصل کرتی تھی اور اپنی فوجوں کے لیے جوان بھرتی کرتی تھی۔

اعتزاز احسن
اعتزاز کا کہنا ہے کہ ملک میں فوجی بیوروکریسی نے جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا

ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے قیام کے وقت وہاں ایک مضبوط متوسط اور کاروباری طبقہ موجود تھا جس نے وہاں سیاسی اور جمہوری عمل کو مستحکم کیا جبکہ پاکستان میں ایسا نہیں تھا۔ یہاں جاگیردار تھے اور ایک مضبوط سول اور فوجی بیوروکریسی تھی جنہوں نے جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا۔

اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ابتدائی ایام سے اسے بتدریج جمہوریت سے محروم کیا جانے لگا اور جاگیرداروں نے بیوروکریسی کے ساتھ مل کر اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرلی بعد میں اعلی عدلیہ بھی اس گروہ میں شامل ہوگئی اور اس نے ہر آمریت اور فوجی مداخلت کو جائز قرار دیا۔

اعتزاز کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں تو نہیں لگتا کہ فوج اقتدار پر اپنا غلبہ ختم کردے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بڑی سیاسی جماعتیں فوج کے ساتھ کسی قسم کی شراکت میں کام کرنے کو تیار ہیں اس لیے فوج کا ملکی سیاست میں بڑے کھلاڑی کا کردار رہے گا۔

تاہم اعتزاز احسن کا خیال ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی روح زندہ ہے جس کا اظہار عوام کی تحریکوں کی شکل میں انیس سو ساٹھ اور انیس سو اسی کی دہائی میں دیکھنے میں آیا اور جنرل ضیاالحق جیسے آمر کو بھی عام انتخابات کرانے پڑے۔

اعتزاز یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ فوجی آمر بھی یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں جو کہ ان کے خیال میں بذات خود ایک بڑی پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات ایک شہادت ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کی روح کو ختم نہیں کیاجاسکتا اور ایک دن یہ مکمل غلبہ پائے گی۔

اسی بارے میں
ڈاکٹر قدیرخان پر نئی کتاب
28 October, 2004 | پاکستان
پاکستانی کتابیں دِلّی میں
21 August, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد