مشرف انتخاب نہیں لڑ سکتے: جسٹس فلک شیر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کے دو عہدے رکھنےکےخلاف درخواستوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے نو رکنی فل بینچ کے رکن مسٹر جسٹس فلک شیر نے اپنے اضافی نوٹ میں قرار دیا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ جسٹس فلک شیر سپریم کورٹ کے نو رکنی فل بینچ کے ان ارکان میں شامل ہیں جنہوں نے صدر کے دو عہدے رکھنے کے خلاف ایک ہی نوعیت کی مختلف درخواستوں کو فنی بنیادوں پر ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کردیا تھا۔صدر مشرف کے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے خلاف جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے الگ الگ درخواستیں دائر کی تھیں۔ سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کے چھ ارکان نے متذکرہ درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دیکر فنی بنیادوں پر مسترد کردیا تھا جبکہ اسی بینچ کے تین ارکان نے اکثریتی رائے سے اختلاف کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ نے مختصر فیصلے کے ذریعے ان درخواستوں کو مسترد کیا تھا اور ابھی سپریم کورٹ کے نو رکنی بینچ کا تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا ہے تاہم سپریم کورٹ لاہور رجسٹری سے جسٹس فلک شیر کا بیس صفحات پر مشتمل ایک اضافی نوٹ جاری کیا گیا ہے جس میں فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ صدر جنرل مشرف صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے اہل نہیں ہیں۔
اضافی نوٹ میں جسٹس فلک شیر نے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے کے بارے میں کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی بطور صدارتی امیدوار نامزدگی کسی طرح بھی درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی ہے اور خاص طور پر اس وقت جب ان درخواست گرازوں میں سے بعض نے سترہویں ترمیم کے ذریعے قانونی تحفظ فراہم کیا تھا۔ فاضل جج نے مزید کہا کہ درخواست گزار سیاست دان صدر مشرف کے مدمقابل صدارتی امیدوار نہیں بھی ہیں۔ فاضل جج نے اپنے اضافی نوٹ میں کہا کہ فیصلے کے اختصار کی وجہ سے یہ طے کیا گیا کہ وہ (فاضل جج) اس معاملہ پر اپنا نکتہ نظر الگ سے تحریر کریں گے۔ جسٹس فلک شیر نے بنیادی حقوق کے حوالے سے دس مختلف مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ معاملے میں آرمی چیف کی صدارتی امیدوار کی حیثیتِ نامزدگی سے درخواست گزار سیاست دانوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوتے ہیں کیونکہ یہ درخواست گزار نہ مدمقابل صدارتی امیدوار ہیں بلکہ ان میں بعض نے سترہویں ترمیم کے ذریعے حکمران کو تحفظ فراہم کر کے ان کو مضبوط کیا ہے حالانکہ ان کے پاس موقع تھا کہ اگر یہ چاہتے تو ان کے پیروں کے نیچے سے زمین کھیچ سکتے تھے لیکن ایسا نہیں کیا۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف حاضر سروس چیف آرمی سٹاف ہونے کی حیثیت میں اپنی ملازمت چھوڑنے کے دو سال کے عرصے تک دوسرا منافع بخش عہدہ رکھنے کے اہل نہیں ہیں۔ جسٹس فلک شیر نے اپنی اضافی نوٹ میں قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل اکتالیس (دو) کے تحت صدر کے عہدوں پر امیدوار شخص کے لئے نہ صرف آئین کے آرٹیکل باسٹھ کی اہلیت پر پورا اترنا ضروری ہے بلکہ اسے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ میں موجود نااہلی سے بھی مبرا ہونا ضروری ہے۔ فاضل جج کی رائے ہے کہ آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ فاضل جج نے قرار دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل دو سو تینتالیس کے مطابق آرمڈ فورسز اور آرمی چیف وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں اور اسی آرٹیکل کے تحت وفاقی حکومت آرمڈ فورسز پر کنٹرول اور کمانڈ کرے گی۔ جسٹس فلک شیر نے مزید کہا کہ آئین کے تحت چیف آف آرمی سٹاف سمیت آرمڈ فورسز وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں وگرنہ یہ بہت بڑی نفی ہوگی کہ آئین کی بحالی کے بعد چیف آف آرمی سٹاف وفاقی حکومت کے ماتحت ہونے کے بجائے اس کے سربراہ ہوں۔ فاضل جج نے قرار دیا کہ آرمی چیف کے حلف میں یہ بات شامل ہے کہ وہ کسی سیاسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہونگے۔ جسٹس فلک شیر نے اپنے اضافی نوٹ میں یہ بھی قرار دیا ہے جہاں تک صدر کے دو عہدے رکھنے کے بارے میں سنہ دو ہزار چار کے ایکٹ کا تعلق ہے تو کوئی ایکٹ بھی آئین سے بالا تر نہیں ہوسکتا اور آئین میں ترمیم کے بغیر قانون سازی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے۔ متذکرہ ایکٹ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے برعکس ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||