تبدیلی کا یہ بہترین وقت ہے:مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ قومی مفاہمت کے لیے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے ساتھ کسی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جا رہے تاہم مفاہمت کی وضاحت کے لیے ایک دستاویز سامنے لائی جا سکتی ہے۔ جمعرات کی رات ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ قومی مفاہمت سے صرف کسی ایک شخصیت کو ہی فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ یہ سب کے لیے ایک پیکج ہوگا۔’ہمارے دروازے سب کے لیےکھلے ہیں، نواز شریف بھی اگر انتخابات جیت جاتے ہیں تو انہیں قبول کر لیں گے‘۔ ایک سوال کے جواب میں کہ آیا بطور سویلین صدر وہ کوئی خطرہ تو محسوس نہیں کرتے ان کا کہنا تھا کہ وہ بطور سویلین صدر کوئی مشکل محسوس نہیں کرتے اور کسی بھی وزیراعظم کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ قوم سے 31 دسمبر 2004ء تک وردی اتارنے کا وعدہ کرنے کے باوجود وردی میں رہنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مقامی اور علاقائی حالات کا تقاضا تھا کیونکہ اس وقت حالات بدل گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ’میں قومی، سیاسی مصالحت کے لیے کام کر رہا ہوں، جن لوگوں نے مجھے وردی میں رہنے کے لیے ووٹ دیا تھا، انہوں نے ہی حالات کشیدہ کرنے کی کوشش کی لیکن اب آئین اور قانون کا تقاضا ہے کہ میں وردی اتار دوں اور میں اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا‘۔ صدرنے کہا کہ انہیں ایک دن مکمل جمہوریت کی طرف جانا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور یہ اس تبدیلی کے لیے سب سے بہترین وقت ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ نامزد وائس چیف آف آرمی سٹاف اور نامزد چئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی میرے بالواسطہ یا بلاواسطہ وفادار ہیں کیونکہ ہمارا وژن ایک ہے۔ ’ آرمی کے متعلق یہ یقین پایا جاتا ہے کہ ملک کو درپیش کسی بھی مشکل حالات میں فوج اپنا کردار ادا کرے گی۔ فوج پاکستان کا واحد منظم ادارہ ہے، جو اس کی سالمیت کا ضامن ہے اور اس نے اپنا کردار ادا کرنا ہے‘۔ ایک سوال پر صدر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ انہیں عوام میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔صدر مشرف کا کہنا تھا کہ ’اس وقت اکثریت کی حمایت حکمران اتحاد کو حاصل ہے، جو میرا حامی ہے، اس لیے پاکستانی عوام کی اکثریت میری حامی ہے‘۔ صدر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ جن سروے کی بنیاد پر یہ رائے دی جاتی ہے، انہیں معلوم ہے کہ یہ سروے کس طرح کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا ’فیڈ بیک حاصل کرنے کے میرے اپنے طریقے ہیں، اگر کوئی یہ کہے کہ میری مقبولیت میں اس سروے کی بنیاد پر کمی آئی ہے تو میں یقین نہیں کرونگا‘۔ سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کا مقصد ان کے عہدے کا جواز حاصل کرنا نہیں۔ ’اکثریت کی نمائندہ جماعتیں میری حامی ہیں اور دو تہائی اکثریت نے مجھے وردی میں رہنے کا اختیار دیا ہے‘۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ہر ملک میں ایجنسیاں ملکی معاملات میں کردار ادا کرتی ہیں لیکن ان کے ہاں اپنی ہی ایجنسیوں پر ہر وقت تنقید کی جاتی ہے۔ ’آئی ایس آئی وہی قدم اٹھاتی ہے، جو حکومت کہتی ہے اور اس نے کبھی ملکی مفاد کو نقصان نہیں پہنچایا‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ بینظیر بھٹو پر الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں اب ان کے ساتھ مفاہمت کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ انہوں نے پوری صورتحال کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ چینلجز سے نمٹنے کے لیے کسی حد تک مفاہمت ضروری ہے۔
’پیپلز پارٹی کو عوامی حمایت حاصل ہے اور بینظیر اس کی سربراہ ہیں، میں ان کی حیثیت ختم نہیں کر سکتا، قومی مفاہمت کے عمل میں ان کا بھی کردار ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ بینظیر پر اب تک کئی الزامات ہیں لیکن تاحال انہیں ثابت بھی نہیں کیا جا سکا۔ ’قومی مفاہمت کا عمل شخصیات سے نہیں پارٹیوں سے کیا جا رہا ہے اور ہر جماعت کے لیے دروازے کھلے ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ نواز شریف کی پارٹی کے رہنما بھی یہاں موجود ہیں اور وہ قومی مفاہمت کی بات کر سکتے ہیں۔ اس سے کسی ایک شخص کو فائدہ نہیں پہنچے گا بلکہ یہ مجموعی پیکج ہے جس کا مقصد سیاسی ماحول بہتر بنانا، اقتدار کی خوش اسلوبی سے منتقلی اور انتخابات کا شفاف انعقاد یقینی بنانا ہے۔ مفاہمت کے اس عمل کا پیپلز پارٹی یا کسی بھی دوسری جماعت پر یکساں اثر ہوگا۔ اس سوال پر کہ کیا نواز شریف اور مذہبی گروپ بھی اس میں شامل ہونگے، صدر مملکت نے کہا کہ ہم کسی کو نامزد نہیں کر رہے، ہم باہمی برداشت کا ماحول چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو انہوں نے الگ نہیں کیا، انہوں نے خود بیرون ملک جانے کا انتخاب کیا تاکہ سزائے قید سے بچ سکیں۔ ’اگر نواز شریف انتخابات جیت جاتے ہیں تو ہم انہیں قبول کر لیں گے‘۔ اس سوال پر کہ کیا جلا وطنی کی مدت ختم ہونے سے پہلے نواز شریف کی واپسی ممکن ہے، انہوں نے کہا کہ ابھی انتخابات ہونے جا رہے ہیں ہم صدارتی اور قومی انتخابات خوش اسلوبی سے چاہتے ہیں۔ اس سوال پر کہ چوہدری شجاعت حسین کی طرف سے پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت کی مخالفت کی جا رہی ہے، صدر پرویز مشرف نےکہا کہ اس حوالے سے غلط فہمی پائی جاتی ہے۔ ’چوہدری شجاعت انتہائی اچھے آدمی ہیں، وہ معاملات کو سمجھتے ہیں اور تعاون کرنے والا کردار ادا کرتے ہیں، اختلاف رائے کا مطلب مخالفت نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی عمل کا حصہ ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں سیاسی اور قانونی امور پر مشاورت کے لیے میں چوہدری شجاعت حسین سے تقریباً روزانہ ملتا ہوں اور وہ ہر معاملے میں ہمارے ساتھ ہیں‘۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر آپ کو پیپلز پارٹی اور بینظیر بھٹو یا پاکستان مسلم لیگ اور چوہدری شجاعت حسین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو آپ کا فیصلہ کیا ہوگا، اس پر صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ انہیں ووٹ کس نے دیا اور کون ان کی حمایت کر رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے تو ہمیشہ ان کی مخالفت کی ہے۔ اپنے سات نکاتی ایجنڈے کے بارے میں صدر نے کہاکہ کسی ایک میں بھی سو فیصد کامیابی حاصل نہیں ہو سکی نہ ہی کسی میں مکمل ناکامی ہوئی ہے۔ ’ایک سطح تک ہمیں کافی کامیابی حاصل ہوئی، نا امید عناصر تاہم آدھا خالی گلاس دیکھ رہے ہیں انہیں آدھا بھرا ہوا گلاس دکھائی نہیں دے رہا‘۔ صدر جنرل پرویز مشرف آج رات سرکاری ٹی وی ایک ایک لائیو پروگرام میں شریک ہوکر عوام کے سوالات کا جواب دیں گے۔ |
اسی بارے میں پی پی سے شراکتِ اقتدار ممکن:مشرف03 October, 2007 | پاکستان اقتدار کی بتدریج منتقلی: مشرف03 October, 2007 | پاکستان فوجی مشرف، سویلین مشرف21 September, 2007 | پاکستان ’مشرف پیکج کا اعلان کریں‘22 August, 2007 | پاکستان مشرف مخالف جذبات جہادیوں کا ہتھیار15 July, 2007 | پاکستان ’صدر سمجھتے ہیں ایمرجنسی کا جواز نہیں‘09 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||