پی پی سے شراکتِ اقتدار ممکن:مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ وہ نواز شریف سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف بھی سیاسی مقدمات واپس لینا چاہتے ہیں اور پیپلز پارٹی کے ساتھ آگے چل کر بھی شراکت اقتدار کا امکان موجود ہے۔ یہ باتیں انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کیں۔ یہ انٹرویو بدھ کی رات مکمل نشر کیا جانا ہے تاہم اس کے چند مختصر حصے پہلے ہی چلا دیے گئے ہیں۔ صدر نے اپنی وردی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اس کا فیصلہ چھ اکتوبر اور پندرہ نومبر کے درمیان کسی وقت صدر منتخب ہونے کے بعد کریں گے۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی واضع تاریخ دینے سے بظاہر اجتناب ہی کیا۔ صدر نے پیپلز پارٹی کے ساتھ مفاہمت کے لیے بات چیت میں امریکی کردار کا بھی اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے پیپلز پارٹی کردار ادا کر سکتی ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے استعفوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ سو سے زائد استعفوں سے ان کے الیکٹورل کالج پر کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ اگر مزید بھی آئے تو انہوں کوئی فرق نہیں پڑے۔ نئے فوجی سربراہ کی تعیناتی کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ان کے خیالات میں ذرہ برابر فرق نہیں۔ لال مسجد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ بعض انتہا پسند اس پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس کی وہ ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو پہلے ہی مسجد کھولنا چاہتے تھے اور پہلے جمعہ خود وہاں نماز ادا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ ’وہ ایک مسجد ہے وہاں دعائیں ہوں بددعائیں نہ ہوں۔’ | اسی بارے میں عام معافی کی تجویز پر سخت ردعمل03 October, 2007 | پاکستان اب استعفے بھی دے سکتے ہیں: بے نظیر03 October, 2007 | پاکستان ’حالات عوامی احتجاج کی جانب ‘03 October, 2007 | پاکستان استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟03 October, 2007 | پاکستان ’مقصد، احتساب افسروں کو بچانا ہے‘03 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||