BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 October, 2007, 13:32 GMT 18:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عام معافی کی تجویز پر سخت ردعمل

فائل فوٹو
 چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ سے جاری ہونے والے اعلامیے میں عام معافی کی حکومتی تجویز پر ان کے ردعمل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا
حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ نے جنرل مشرف کی جانب سے بے نظیر بھٹو کے ساتھ مصالحت کے سلسلے میں 1988ء سے 1999ء تک سیاستدانوں پر قائم مقدمات میں عام معافی دینے کی تجویز پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہ سے جاری ہونے والے ایک اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کو ان کی جماعت سے وابستہ وفاقی وزیر برائے ٹیکسٹائل انڈسٹریز اور رکن قومی اسمبلی مشتاق چیمہ اور ایک اور رکن قومی اسمبلی رجب علی بلوچ نے چودھری شجاعت حسین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور بدعنوانی کے مقدمات میں سیاستدانوں کو عام معافی دینے کی تجویز کی بھرپور مخالفت کی۔

اعلامیے کے مطابق ’پی پی پی کے ساتھ معاہدے کے خلاف انہوں (ارکان قومی اسمبلی) نے پرزور الفاظ میں کہا کہ ہمارے تحفظات صدر پاکستان تک پہنچادیے جائیں‘۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ حکمران مسلم لیگ کے ارکان قومی اسمبلی نے چوہدری شجاعت سے کہا کہ ’اگر کرپشن کو قانونی تحفظ دیا جائے گا تو ہم عوام میں کس منہ سے اس عمل کی حمایت کریں گے جبکہ گزشتہ پانچ سال سے ہم تواتر کے ساتھ کرپشن کے خلاف کہتے رہے ہیں‘۔

فائل فوٹو
متحدہ قومی موومنٹ نے بھی عام معافی کی حکومتی تجویز پر اختلاف کا اظہار کیا ہے

اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کے ان ارکان نے آئندہ صدارتی انتخابات میں جنرل مشرف کی حمایت کی یقین دہانی کرائی تاہم انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عام معافی کی تجویز پر عمل کیا تو وہ بھی مستقبل میں اپنی سیاسی حکمت عملی پر غور کریں گے۔ ’ہم جنرل پرویز مشرف کو چھ اکتوبر 2007ء کو ووٹ ضرور دیں گے لیکن اس کے بعد جو حکومت چوروں اور لٹیروں کو قانونی تحفظ دے رہی ہے، اس کے بارے میں ہم اپنا لائحہ عمل طے کریں گے‘۔

واضح رہے کہ اس اعلامیے میں عام معافی کی حکومتی تجویز پر چودھری شجاعت حسین کے ردعمل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ نے بھی اس حکومتی تجویز پر اختلاف کا اظہار کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی فیصلے سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

متحدہ کے پارلیمانی لیڈر اور رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی جماعت کی رابطہ کمیٹی کا اجلاس بدھ کی شام ہورہا ہے جس میں اس بارے میں غور کیا جائے گا اور پارٹی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی فیصل سبزواری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کو اس تجویز پر کچھ تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ’اگر سیاستدانوں کو کرپشن کے مقدمات میں عام معافی دی جاتی ہے تو ایم کیو ایم کے ان غریب اور عام کارکنوں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا جائے جن کے خلاف ماضی میں صرف اور صرف سیاسی انتقام کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے‘۔

صدر مشرف چھوٹے مشرف
صدرجنرل پرویز مشرف چھوٹےہو کرکیا بنیں گے؟
بینظیر سے ’ڈیل‘
چودھری برادران کی مشکلات میں اضافہ
اسی بارے میں
مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ
02 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد