مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور صدر جنرل پرویز مشرف کے نمائندوں کے درمیان معاملات طے کرنے کے لیے بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور فریقین نے اس مرتبہ آئندہ چوبیس گھنٹے میں ڈیل کے اعلان کی توقع ظاہر کی ہے۔ وزیرِ اطلاعات طارق عظیم کا کہنا ہے کہ قومی مصالحت کی حکومتی کوششوں کے سلسلے میں فیصلہ ہوا ہے کہ انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے تک اہم شخصیات کے خلاف درج بدعنوانی وغیرہ کے مقدمات ختم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ایک آرڈیننس جاری ہوگا اور حکومت نے آرڈیننس کے متن کا تبادلہ بھی کیا ہے اور بات چیت آخری مرحلے میں ہے۔ ان کے مطابق اس آرڈیننس کے تحت بیشتر وہ مقدمات جو مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں وہ ختم ہوجائیں گے۔ طارق عظیم کا کہنا ہے کہ اس آرڈیننس کا فائدہ صرف پیپلز پارٹی نہیں بلکہ نواز شریف اور دیگر اہم شخصیات کو بھی ہوگا۔ ان کے مطابق متن پر اتفاق ہونے کی صورت میں بدھ کو آرڈیننس جاری کیا جائے گا۔ وزیرِ ریلوے شیخ رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ وسیع امکان ہے کہ نیا آرڈیننس بدھ کو جاری ہوگا کیونکہ قومی اسمبلی کا اجلاس بھی اسی وجہ سے ایک روز دیر سے یعنی چار اکتوبر کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایک سوال پر شیخ رشید نے کہا کہ صدر کے اسمبلی توڑنے کے اختیارات اور تیسری بار وزیراعظم بننے کی پابندی کا فیصلہ صدارتی انتخاب کے بعد ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب معاملات کافی سنجیدہ ہیں اور امکان ہے کہ چوبیس گھنٹے میں مفاہمت ہوجائے گی۔ ان کے مطابق دونوں جانب سے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر بہت سارے نکات پر اتفاق ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی ایک طرف منگل کو حکومت سے بات چیت کر رہی ہے اور دوسری طرف صدارتی انتخاب روکنے کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواست دائر کرچکی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بظاہر صدارتی انتخاب سے محض تین روز قبل عین وقت پر نئے آرمی چیف نامزد کرنے کا اعلان اور مقدمات کی واپسی کے قانون کے اجراء کے اقدامات حکومت کی جانب سے ڈیل کے تقاضے پوری کرنے کی کوششیں ہیں۔ حزب اختلاف کے مستعفی ہوجانے والے اکثر رہنما کہتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی صدر جنرل پرویز مشرف کی ڈوبتی ہوئی سیاسی کشتی کو سہارا دے کر جرنیلی جمہوریت کی جڑیں مضبوط کر رہی ہے جبکہ اس بارے میں پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی حکومت سے جمہوری نظام کی طرف منتقلی کے لیے ایک فوجی حکمران کو راستہ دے رہے ہیں تاکہ ملک میں جمہوری نظام مستحکم ہو سکے۔ |
اسی بارے میں بینظیر: سیاسی آغاز سے ڈیل تک14 September, 2007 | پاکستان بے نظیر کے اعلان پر ملا جلا رد عمل15 September, 2007 | پاکستان بینظیر کی واپسی اٹھارہ اکتوبر کو15 September, 2007 | پاکستان یقین دہانی مایوس کن ہے: بینظیر19 September, 2007 | پاکستان ’بےنظیر بھٹو نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں‘27 September, 2007 | پاکستان بےنظیر، بلٹ پروف گاڑی کی اجازت28 September, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||