تحریکِ عدم اعتماد، رائےشماری8 اکتوبر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد اسمبلی نے بدھ کو وزیرِاعلٰی سرحد کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی تحریک کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اپوزیشن جماعتیں چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات تک صوبائی اسمبلی کو تحلیل ہونے سے بچانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری چھ اکتوبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات سے دو دن بعد یعنی آٹھ اکتوبر کوہوگی۔ سرحد اسمبلی میں پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور مسلم لیگ قائداعظم نےچھ اکتوبر کو ہونے والےصدارتی انتخاب کے موقع پر اے پی ڈی ایم کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرانے کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کے لیے یکم اکتوبر کو وزیرِاعلی سرحد کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی تھی۔ بدھ کو حکمران جماعت اور اے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی ریکوزیشن پر طلب کیاگیا اجلاس شدید نعرے بازی اور شور شرابے کے ساتھ شروع ہوا۔ سپیکر بخت جہاں خان نے جب اجلاس کے ایجنڈے کااعلان کیا تو صوبائی وزیر قانون ملک ظفر نے کھڑے ہوکر سپیکر سے یہ مطالبہ کیا کہ رولز کو معطل کرکے انہیں یہ موقع دیں کہ وہ وزیر اعلی اکرم خان درانی کی جانب سے ایوان سے اعتماد کے ووٹ حاصل کرنےکی قرارداد پیش کردیں۔ حزب اختلاف کے ارکان نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے ایجنڈے کے مطابق اجلاس کو جاری رکھنے پر اصرار کیا۔اس کے بعد دونوں طرف سے شدید نعرے بازی اور شور شرابہ شروع ہوگیا جس کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اے پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والے ارکانِ اسمبلی نے ’گو مشرف گو‘ ، جبکہ پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور مسلم لیگ قائداعظم کے ارکان ’ دو استعفے دو، ملا ملٹری گو‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ایک موقع پر صوبائی وزیر قانون ملک ظفر اعظم اتنےجذباتی ہوگئے کہ انہوں نے ڈیسک پر چڑھ کر تقریر شروع کردی۔
قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے کارروائی دیکھنے کے لیے اجلاس میں خصوصی طور پر شرکت کی اور وہ گیلری میں بیٹھ کرحزب اختلاف اور حزب اقتدار کے درمیان جاری ہنگامے سے محظوظ ہوتے رہے۔ تقریباً پینتالیس منٹ کے ہنگامے کے بعد سپیکر بخت جہان خان نے اپنی طویل خاموشی توڑتے ہوئے اپوزیشن سے کہا کہ وہ وزیر اعلی سرحد کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک ایوان میں پیش کر دیں۔ پیپلز پارٹی شیر پاؤ کے پندرہ، مسلم لیگ قائداعظم کے دس ، چار آزاد ، ایم ایم اے کی ایک خاتون رکن اسمبلی اور جمیعت علماء اسلام سمیع الحق سے تعلق رکھنے والے واحد رکن اسمبلی اکرام اللہ شاہد نے فرداً فرداً اپنی نشتوں پر کھڑے ہو کر آئین کے آرٹیکل ایک سو چھتیس کے تحت وزیراعلی سرحد کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کردی۔ سپیکر بخت جہان خان نے عدم اعتماد کی تحریک کو منظور کرتے ہوئے اجلاس جمعرات تک ملتوی کر دیا۔ بعد میں سپیکر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے مطابق عدم اعتماد کی تحریک پر رائے شماری آٹھ اکتوبر کو ہوگی۔ اجلاس کے بعد صوبہ سرحد کے وزیراعلی اکرم خان درانی نے کہا کہ ان کی اب بھی یہ کوشش ہے کہ چھ اکتوبر تک اسمبلی کو تحلیل کیا جاسکے تاہم ان کے بقول اگر اسمبلی کو توڑا نہیں جاتا تو چھ اکتوبر کو صدارتی انتخابات کے موقع پر ایم ایم اے سمیت اے پی ڈی ایم کے تمام اراکین اسمبلی رائے شماری میں حصہ نہیں لیں گے۔
اس سے قبل قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن نے صحافیوں کو بتایا کہ سرحد اسمبلی کے ارکان استعفے نہیں دیں گے بلکہ اسمبلی کو ہر صورت میں تحلیل کیا جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسمبلی چھ اکتوبر تک برقرار رہتی بھی ہے تو اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہے گی۔ واضح رہے کہ سرحد اسمبلی کے ایک سو چوبیس ارکان میں سے پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور مسلم لیگ قائداعظم کو صرف اکتیس اراکین کی حمایت حاصل ہے تاہم اپوزیشن کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک لانے کا مقصد اے پی ڈی ایم کی اس حکمت عملی کو ناکام بنانا ہے جس کے تحت سرحد اسمبلی کے تحلیل ہونے کی صورت میں ایک وفاقی اکائی کی عدم موجودگی میں چھ اکتوبر کے صدارتی انتخابات متنازعہ بن جائیں گے۔ آئین کے مطابق وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے بعد وہ گورنر سے اسمبلی توڑنے کی سفارش کرنے کے آئینی حق سے اس وقت تک محروم ہوجاتے ہیں جب تک عدم اعتماد کی تحریک پر ایوان میں رائے شماری نہیں کرائی جاتی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبہ سرحد کے وزیراعلٰی کے خلاف بدھ کو اپوزیشن کی عدم اعتماد کی تحریک کی منظوری اور صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کی خصوصی طور پر شرکت کرنے سے ان شکوک و شبہات کو مزید تقویت ملی ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے استعفے دینے کے حوالے سے اے پی ڈی ایم کے قائدین کو ایک ایسی تاریخ مقرر کرنے پرمجبور کیا جس کا بظاہر فائدہ اپوزیشن کی بجائے جنرل پرویز مشرف کو پہنچ گیا ہے۔ | اسی بارے میں استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟03 October, 2007 | پاکستان سرحد استعفوں کا فیصلہ مؤخر01 October, 2007 | پاکستان ’اسمبلی رہےگی، انتخاب کا بائیکاٹ‘02 October, 2007 | پاکستان قومی اور صوبائی اسمبلی کے 164 اراکین نے استعفے دے دیے02 October, 2007 | پاکستان اسمبلی بچاؤ رِٹ، تحریک عدمِ اعتماد 01 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||