’حالات عوامی احتجاج کی جانب ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلز پارٹی کی تاحیات چیرپرسن بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مذاکرات ’مکمل طور پر تعطل’ کا شکار ہو گئے ہیں۔ لندن میں پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بےنظیر کا کہنا تھا کہ صدارتی انتخاب میں صرف تین روز رہ جانے کے باوجود مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ بے نظیر کا کہنا تھا کہ بظاہر حالات صدر کے خلاف عوامی احتجاج اور اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ واپس نہیں لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقدمات واپس لینے کی خبر گمراہ کن ہیں۔انہوں نے لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’میرے خلاف ڈس انفارمیشن مہم چلائی جا رہی ہے جس کی نگرانی انٹیلی جینس بیور کر رہا ہے جس کا مقصد اصل مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹانا ہے۔ حالیہ دنوں میں میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔‘ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ’جنرل مشرف سب کو برابر کا موقع دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان آمریت سے جمہوریت کی طرف بڑھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدارتی مذاکرات کار کسی مفاہمت پر پہنچنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ ’ہم نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔‘ پیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کا دو روز اجلاس ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں بے نظیر کی ضمانت کی درخواست02 October, 2007 | پاکستان مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ02 October, 2007 | پاکستان ’مقصد، احتساب افسروں کو بچانا ہے‘03 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||