’مقصد، احتساب افسروں کو بچانا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقدمات کے خاتمے کے لیے قانون کا جو مسودہ ان کی جماعت کے وکلاء کو ملا ہے، وہ پیپلز پارٹی کی خواہشات کے مطابق نہیں ہے۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ تمام سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات کے خلاف ایسے مقدمات جو برسوں سے زیر التویٰ ہیں وہ ختم ہونے چاہیے‘۔ لیکن ان کے مطابق حکومتی مسودے سے انہیں لگتا ہے کہ حکومت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے ان 80 وفاداری بدلنے والے پارلیمینٹیرینز اور احتساب بیورو کے جھوٹے مقدمات بنانے والے افسران کو تحفظ دینا چاہتی ہے۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ تیسری بار وزیراعظم بننے پر جو پابندی عائد ہے اس پر حکومت ان سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ انہوں نے گزشتہ رات گئے جاری کیے جانے والے اپنے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض وزراء جو مقدمات ختم کرنے کے قانون کی بات کرتے ہیں وہ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔ ’عام معافی کے قانون پر بھی سمجھوتہ نہیں ہوسکا جو پیپلز پارٹی نے مسودہ بھیجا تھا وہ حکومت نے منظور نہیں کیا‘۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’نائب آرمی چیف کی تعیناتی پر پیپلز پارٹی کے ماہرین غور کر رہے ہیں کہ کیا یہ پیپلز پارٹی کے اس مطالبے کے مطابق ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جنرل پرویز مشرف فوجی عہدہ چھوڑ دیں‘۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ بعض وزراء کی جانب سے پیپلز پارٹی کے مقدمات ختم کرنے کے بیانات پروپیگنڈے کا حصہ ہیں جسے ان کی جماعت مسترد کرتی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے ساتھ پیپلز پارٹی کی کوئی مفاہمت ہوئی تو اس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ02 October, 2007 | پاکستان ’ڈیل ملکی نہیں ذاتی مفاد میں ہے‘31 August, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی سے رابطہ ہے: شجاعت06 March, 2005 | پاکستان ’بے نظیر سے ڈیل کھٹائی میں ہے‘ 12 September, 2007 | پاکستان ’پیپلز پارٹی سے رابطے ہیں‘ 17 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||