BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 21 September, 2007, 17:08 GMT 22:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی مشرف، سویلین مشرف

صدر مشرف
صدر مشرف نے صدر بننے کے بعد سویلین بننے کا وعدہ کیا ہے
پاکستانی فوج کے لیے نیا سربراہ پاکستان کے وزیراعظم کے مشورے سے صدر مقرر کرتا ہے۔ آئین تو یہی کہتا ہے اور عموماً ہوتا بھی یہی آیا ہے۔ لیکن ہوتا یہ بھی ہے کہ کبھی کبھار وزیراعظم فوج کے سربراہِ وقت کو ریٹائر کرنے اور نئے سربراہ کو مقرر کرکے پھنس جاتا ہے (تفصیل اور دل پہ گزری، اسے جاننے کے لیے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے یا تو رابطہ کیجیے یا جنرل پرویز مشرف کی طرح ان کی بھی کسی کتاب کا انتظار کیجیے)۔

اب کی بار سرِدست فوج کا نیا سربراہ مقرر کرنے کا سوال درپیش نہیں ہے کیونکہ وہ سربراہ تو جنرل پرویز مشرف کے روپ میں موجود ہے اور تکنیکی، قانونی اور ’طاقت‘ کے لحاظ سے بھی جنرل مشرف جب تک چاہیں فوج کے سربراہ رہ سکتے ہیں (خواہ ریٹائرمنٹ کی عمر یعنی 63 یا 65 سال گزر جائیں تب بھی) اور حقیقتاً ہوا بھی یہی ہے کیونکہ جنرل پرویز مشرف عام سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کی عمر سے گزر چکے ہیں۔

سوال اب کی بار فوج کے سربراہ کے تقرر کا نہیں بلکہ فوج کے نائب سربراہ کے تقرر کا ہے کیونکہ وائس چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے کی معیاد سات اکتوبر کو ختم ہو رہی ہے اور یہ عہدہ موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے فوج کے سربراہ کو پر کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں جنرل پرویز مشرف کو اپنا جانشین طے کرنا ہے کیونکہ اگر (اس اگر کو تین مرتبہ پڑھیے) واقعتاً، عمداً، اراداتاً اور حقیقتاً جنرل پرویز مشرف نے فوجی وردی اتار دی تو یہی وائس چیف آف آرمی سٹاف ان کا جانشین ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سے قبل کہ جنرل مشرف ایسا کریں، حالیہ تاریخ پر نظر ڈالتے چلیں۔

نواز شریف اور جنرل مشرف
نواز شریف کا خیال تھا کہ وہ جنرل مشرف کو ’قابو‘ کر سکتے ہیں

گزشتہ تین ساڑھے تین عشروں کی بات ہے کہ سابق وزیراعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے جب جنرل ضیاء الحق کو فوج کا سربراہ مقرر کیا تو زیرک اور عقلمند ہونے کے ناطے یہ مصلحت کوشی سامنے رکھی کہ جنرل ضیاء بقیہ جرنیلوں کے مقابلے میں کم طالع آزما، کم سیاستداں، بظاہر وفاداری کا مجسمہ اور قابل اعتماد نظر آتا ہے، لہٰذا بھٹو نے کوئی نصف درجن جرنیلوں کے مقابلے میں ضیاء کو ترجیح دے کر سیڑھی چڑھا دیا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ جنرل ضیاء نے انہیں کہاں چڑھایا۔ اسی طرح جب جنرل جہانگیر کرامت کو فارغ کرنے کے بعد نواز شریف نے جھٹ پٹ جنرل پرویز مشرف کو فوج کا سربراہ مقرر کیا تو کوئی ڈھائی یا پونے تین سینئر جرنیلوں کو انگشت بدنداں اور ہکا بکا چھوڑ کر یہ قدم اٹھایا۔

مؤرخین اور مبصرین کہتے ہیں کہ ایسے میں میاں صاحب کی مصلحت کوشی یہ تھی کہ اس کا ’اگ پِچھ‘ کوئی نہیں۔ بعض نے اس کی تشریح یہ کی کہ جنرل مشرف ’نہ تو پنجابی اور نہ ہی پٹھان‘ اور بعض مبصرین کے بقول میاں صاحب کی سوچ میں اس وقت یہ بھی شامل تھا کہ موصوف (یعنی جنرل پرویز مشرف) کم طالع آزما، کم سیاستداں اور کام سے کام رکھنے والے جنرل ہیں، لہٰذا گڑبڑ کے امکانات کم اور احسان مندی اور شکرگزاری کے امکانات زیادہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ میاں صاحب کی رائے کو جنرل مشرف کے والد مرحوم سید مشرف الدین کی رائے سے بھی تقویت ملتی ہے۔ جنرل صاحب کے والد صاحب کے ذکر کا ایک پس منظر بھی ہے۔

ہوا یوں کہ جب جنرل پرویز مشرف کو پاکستان کی مسلح افواج کا نیا سربراہ مقرر کیا گیا تو میں نے بی بی سی کی طرف سے اس دن جنرل صاحب کے والد سید مشرف الدین سے انٹرویو کیا تھا اور جاننا چاہا تھا کہ ’باپ‘ (مرحوم سید مشرف الدین) اپنے بیٹے (پرویز مشرف) کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ بچے میں صِفات، خصوصیات، خداداد اور غیرخداداد صلاحیتوں اور کمالات کی نوعیت کیا ہے؟ مرحوم سید مشرف الدین کا وہ انٹرویو (خود انہی کی آواز میں) آج بھی بی بی سی کے پاس بحفاظت موجود ہے بلکہ اس کی ایک کاپی تو صہبا مشرف بھی اسلام آباد میں بی بی سی کے دفتر سے آ کر لے گئی تھیں۔

صدر مشرف کی کتاب
صدر مشرف نے اپنی کتاب میں اپنے حالاتِ زندگی پر روشنی ڈالی ہے
اس انٹرویو میں سید مشرف الدین صاحب نے خاصی دیر تک پرویز مشرف کے چھوٹے سے بڑے ہونے، ان کی ذاتی دلچسپیوں، نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی ہے (اب یہ الگ بات ہے کہ باپ کا یہ بیان جنرل مشرف کی حال ہی میں سامنے آئی اپنی کتاب کے بیان سے گاہے بگاہے مختلف ہے)۔ خیر کہنے کی بات یہ ہے کہ باپ کے انٹرویو سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ’لڑکے کو غیرنصابی اور ادھر ادھر کی سرگرمیوں یا تانکا جھانکی میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی‘، کھیلنا، کودنا، پڑھنا، موسیقی اور مہمات وغیرہ میں حصہ لینا ’جوان‘ کا شعار تھا اور بقیہ مبینہ جوانی والی دلچسپیاں وغیرہ بس واجبی سی تھیں۔ تو میاں نواز شریف نے جنرل مشرف کے بارے میں انہیں فوج کا نیا سربراہ مقرر کرتے وقت جو اندازے لگائے وہ زیادہ غلط نہیں تھے کیونکہ عموماً پر پرزے بعد میں نکلتے ہیں اور نکھار اور صحیح رنگ واضح اجالے میں ہی ٹھیک ٹھیک نظر آتا ہے۔

آگے کی بات یہ ہے کہ اب کی بار وائس چیف آف آرمی سٹاف جو جنرل پرویز مشرف کو مقرر کرنا ہے وہ بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ 7 اکتوبر تک یہ نیا وائس چیف آف آرمی سٹاف آ جانا چاہیے۔ اگر (یہ اگر بھی آپ تین مرتبہ کہہ سکتے ہیں) جنرل مشرف وردی واقعی اتارتے ہیں تو ظاہر ہے کہ پھر یہی وائس چیف آف آرمی سٹاف ان کی جگہ لے گا۔ اب تک کے فوج کے سربراہوں نے سیاستدانوں کو ٹھکانے لگانے کے علاوہ ان کی حکومتوں کا تختہ الٹا ہے لیکن اب تک فوج کے سربراہ کو ایسے ’ڈیفائننگ مومنٹ‘ یا حالات و تاریخ ساز مرحلے سے نہیں گزرنا پڑا جیسا کہ اب درپیش ہے کیونکہ اب تک جب بھی فوج کے سربراہ نے کسی نچلے عہدے والے کی تقرری کی، اپنے نائب یا اپنے دائیں بائیں کے جنرل طے کیے تو یہ دماغ میں رکھا کہ ان میں سے کسی کی بھی بساط کبھی بھی لپیٹی جا سکے اور خوامخواہ کوئی زیادہ ’کیں کیں‘ نہ کرنے پائے اور فوج کا سربراہ خود ترپ کا ’اکا‘ ہمیشہ اپنے ہاتھ میں رکھ کر سب سے اوپر ہی رہا ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی بار ہے کہ فوج کا سربراہ اپنا جانشین مقرر کر کے سویلین بننے جا رہا ہے۔ تاہم پھر بھی امید یہی ہے کہ فوج جیسا ’منظم ادارہ‘ منظم ہی رہے گا اور اپنے ساتھ ویسا نہیں کرے گا جیسا وہ سیاستدانوں کے ساتھ کرتا آیا ہے۔

اسی بارے میں
آئی ایس آئی کا سربراہ تبدیل
21 September, 2007 | پاکستان
’لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے‘
21 September, 2007 | پاکستان
صدر اخبارات پر چھائے رہے
21 September, 2007 | پاکستان
صدارتی انتخاب چھ اکتوبر کو
20 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد