BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 July, 2007, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف مخالف جذبات جہادیوں کا ہتھیار

پاکستانی فوج لال مسجد کے باہرشدت پسندوں کوگرفتار کر کے لیجا تے ہوئے
صدر مشرف کا کہنا ہے کہ لال مسجد شدت پسندوں سے آذاد کرا لی گئی
اسلام آباد میں لال مسجد پر کارووائی کرنے کا صدر مشرف کا فیصلہ اور ملک سے دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمہ کا ان کا عہد مقامی طالبان کے لیے ایک چیلنج ہے ۔

برقع پہننے والی لال مسجد کی طالبات کو مذہبی جنونی کہہ کر نظرانداز کردینا آسان تھا وہ بھی اس وقت جب کچھ ماہ قبل انہوں نے ایک انٹرویو میں اپنے ایک خواب کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پیغمبر ِاسلام نے انہیں خواب میں تلواریں سونپتے ہو ئے کہا ہے کہ جاؤ جا کر جنرل پرویز مشرف کے خلاف جہاد کرو‘۔

ان طالبات میں سے زیادہ تر کا تعلق افغان سرحدکے ساتھ لگنے والے قبائلی علاقوں کے نزدیک شمال مغربی پاکستان سے ہے ۔

میں طالبان کے پاکستانی کمانڈر سے ملنے اس علاقے کے دورے پر نکلی جب میں جانے کی تیاری کر رہی تھی تو میرے ایک ساتھی نے جوکہ مقامی صحافی ہے اپنے موزے اتار کر میری جانب پھینکتے ہوئے کہا ’تمہیں ان کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور ساتھ ہی اس نے میرے کاندھوں پر ایک چادر بھی ڈال دی۔

 اسلام آباد میں ایک ہفتے تک لال مسجد کے محاصرے کی وجہ سے طالبان طرز کا اسلام ایک بار پھر اخبارات کی سرخیاں بن گیا اور ملک اس واقعہ کے پُر تشدد خاتمے پر حیران رہ گیا
باربرا پلیٹ

فرنٹیر کے جس قصبے کا ہم دورہ کر رہے تھے وہاں موسیقی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور ہر کوئی ان کے فتوے کو مانتا ہے شادیوں میں گانے والے ایک شخص نے بتایا کہ اس پابندی کے بعد کس طرح وہ بے روزگار ہوا اور اسے کن دشواریوں کا سامنا رہا تاہم وہ اتنا خوفزدہ تھا کہ طالبان کے بارے میں بات کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔

گانوں کی کیسٹیں فروخت کرنے والے ایک دکاندار نے اپنی دکان پر حملے کے بعد اب اسلامی کیسٹیں فروخت کرنی شروع کر دیں ہیں جس سے دکاندار کوخاصا مالی نقصان بھی ہوا۔

اس دکاندار نے بتایا کہ وہ چوری چھپے ممنوعہ کیسٹیں بھی فروخت کرتا ہے۔

طویل سفر کے بعد آخر کار طالبان کمانڈر سے ہماری ملاقات ہوئی کمانڈر اور اس کے ساتھی اپنے کاندھوں پر کلاشنکوف لٹکائے گندم کے اس کھیت میں پہنچےجہاں ملنے کا وقت طے ہوا تھا ۔

بات چیت کے دوران کمانڈر نے کہا یہ طالبان کا فرض بنتا ہے کہ وہ جہاں ہو سکے اسلامی قوانین کا نفاذ یقینی بنائیں کیونکہ حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی ہے۔

لال مسجد
لال مسجد بحران کا پر تشدد خاتمہ

کمانڈر کا کہنا تھا ’ہم نے ساٹھ سال تک انتظار کیا کہ پولیس غیر اسلامی رویوں کو روکے لیکن وہ ناکام رہی ہمیں مجبوراً ان کا کام کرنا پڑ رہا ہے‘۔

اسلام آباد میں ایک ہفتے تک لال مسجد کے محاصرے کی وجہ سے طالبان طرز کا اسلام ایک بار پھر اخبارات کی سرخیاں بن گیا اور ملک اس واقعہ کے پُر تشدد خاتمے پر حیران رہ گیا۔

یقیناً لال مسجد میں پڑھنے والے بچوں کا تعلق قدامت پسند گھرانوں سے تھا ایسے لوگ جو مذہبی رہنماؤں پر بے پناہ بھروسہ کرتے ہیں۔ لیکن بات اس سے کہیں زیادہ ہےاس محاصرے کے دوران میں ایک باپ کا ردِ عمل سن کر میں حیران رہ گئی یہ شخص مدرسے میں پڑھنے والی دس اور چودہ سال کی اپنی دو بیٹیوں کے لیے پریشان تھا کیونکہ ان لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ اسکول میں ہی رہ کر اپنی اساتذہ کے ساتھ شہید ہونا پسند کریں گی۔

یہ شخص فوج سے بھی ناراض تھا اس کا کہنا تھا’ ہمارا ملک صرف بڑے لوگوں کو ہی تحفظ فراہم کرتا ہے سکیورٹی ایجنسیاں صرف حکومت اور صدر کو ہی تحفظ فراہم کر رہی ہیں عام لوگوں کو نہیں‘۔

عدم انصاف اور عدم مساوات کے اسی جذبے کو مذہبی رہنما اپنا ہتھیار بناتے ہیں۔

یہی لائن لال مسجد کے نائب مہتمم عبدالرشید غازی کی بھی تھی جو آپریشن کے دوران ہلاک ہوگئے۔ایک انٹرویو کے دوران عبدالرشید غازی نے مجھ سےکہا تھا ’ہمارا نظام اسلامی ہے حکومت جہاں ناکام رہتی ہے ہم وہاں کارروائی کرتے ہیں،پاکستانی حکومت بدعنوان ہے اور حکومت کا نظام ناکام ہو چکا ہے اور لوگ اس سے تنگ آ چکے ہیں‘۔

عبدالرشیدغازی
لال مسجد کے نائب محتمم جو آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے

دوسری جانب صدر مشرف کا کہنا ہے کہ حکومت اس طرح کے چیلنج کو برداشت نہیں کرے گی۔لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ خود جنرل مشرف فوجی بغاوت کے بعد طاقت کا استعمال کر کے اقتدار میں آئے تھے۔

اس وقت انہوں نے بھی کہا تھا وہ ملک کو بچا نا چاہتے ہیں کیونکہ سول حکومت نے ملک کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔

ابتداء میں اعتدال پسند لوگوں نے ان کا خیر مقدم کیا کیونکہ وہ اپنے سیاسی رہنماؤں سے تنگ آ چکے تھے لیکن اب وہ آمرانہ حاکموں سے پریشان ہیں ۔

دوسری جانب قبائلی علاقوں میں جہاں لوگوں کوانصاف کے حصول کا کوئی ذریعہ میسر نہیں ہے وہاں لوگ طالبان کو انصاف دلوانے والوں کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔

ناقدین کا خیال ہے کہ صدر مشرف زیادہ تر اختیارات اپنے پاس جمع کر رہے ہیں اور اعتدال پسند سیاسی جماعتوں کو بے اثر کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایسی صورتِ حال میں ملک میں موجود سیاسی خلاء کومذہبی انتہا پسندوں نے پر کردیاہے۔

اسی بارے میں
ہلاکتوں کی تعداد پرشکوک
12 July, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد