اقتدار کی بتدریج منتقلی: مشرف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ سات آٹھ برس کافی ہوتے ہیں اور اب وہ چاہتے ہیں کہ نئی جنریشن، نئے لوگ سامنے آئیں اور سیاسی منتقلی کا عمل آگے کی جانب بڑھے۔ یہ بات انہوں نے ایک نجی چینل ’جیو ٹی وی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ ان کا یہ انٹرویو بدھ کی شب نشر کیا گیا۔ جنرل مشرف نے کہا کہ ایک وقت آتا ہے کہ انسان سینیئر ہوتا ہے اور دوسرے آگے آتے ہیں وہ اس کے حق میں ہیں۔ ’یہ قدرتی عمل ہے۔ ‘ صدر مشرف نے کہا کہ ان کا فوری طور پر اقتدار سے الگ ہونا ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور اقتدار کی متوازن اور بتدریج منتقلی ملک و قوم کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر اچانک تبدیلی لائی گئی تو ملک و قوم کے لیے اس کے منفی نتائج مرتب ہونگے۔‘
ان سے سوال کیا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو نے بین الاقوامی ایٹمی نگرانی کے ادارے آئی اے ای اے کو ڈاکٹر عبدالقدیر تک رسائی دینے اور اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی صورت میں امریکہ کو براہ راست کارروائی کی اجازت دینے کی بات کی ہے تو کیا صدر جنرل پرویز مشرف، بینظیر سے شراکت اقتدار کی صورت میں یہ قبول کرلیں گے؟ صدر مشرف نے کہا ان کی پالیسی واضح ہے اور جب بینظیر آئیں گی اور انہیں حقائق کا علم ہوگا تو ممکن ہے کہ ان کے خیالات تبدیل ہوجائیں۔ جنرل مشرف نے اس بات کا اعتراف کیا کہ القاعدہ پاکستان میں موجود ہے لیکن ان کہنا تھا کہ یہ بات غلط ہے کہ وہ محفوظ جنت میں ہیں کیونکہ محفوظ جنت تو وہ ہوتی ہے کہ جہاں حکومت یاکسی حکومتی ادارے نے انہیں پناہ دی ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تو حکومت ان کے خلاف اور ان کے تعاقب میں ہے، وہ چھپے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ وہ پاکستان میں روپوش ہیں۔ جب ان سے کہا گیا کہ اسامہ بن لادن نے ان کے خلاف جہاد کا کہا ہے تو انہوں نے کہا کہ ان کی تو تربیت ہی جہاد کی ہے۔اس بات کو تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ جہاد بمقابلہ جہاد۔
انہوں نے کہا کہ ٹی وی پرجس کا دل چاہتا ہے آکر کہہ دیتا ہے کہ کہ سولہ کروڑ عوام اس کی طرف ہے، یہ جھوٹ ہے اور حقیقت یہ ہے کہ صرف چار سو لوگ ان کے ساتھ ہیں۔ باقی سارے عوام اطمینان سے گھر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز کو عوام کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔ صدر مشرف نے کہا کہ اب وہ خود ٹی وی پر آیا کریں گے اور عوام کو بتائیں گے کہ حقائق کیا ہیں۔ صدر مشرف نے کہا کہ جب وہ مفاہمت کی بات کرتے ہیں تو اس کا مطلب سب ہیں اور نواز شریف سے بھی مفاہمت ہوسکتی تاہم انہوں نے کہا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون سے بھی مفاہمت کا سلسلہ چلے گا لیکن عام انتخابات کے بعد۔ صدر مشرف نے کہا کہ وہ بینظیر سے ابوظہبی میں ملاقات کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے البتہ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے مختلف سطح پر بات چل رہی ہے اور آگے چل کر اس سے شراکت اقتدار ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی ایک حقیقت ہے اور یہ بات ماننی چاہیے۔ یہ عوام کافیصلہ ہے وہ چاہیں تو انتخابات میں کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ چودھری شجاعت، پیپلز پارٹی سے مفاہمت کی بات چیت کو ویٹو کردیا ہے۔ صدر مشرف نے کہا کہ انہیں اپنے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر کوئی شک نہیں ہے لیکن وہ نئی اسمبلی سے بھی اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ | اسی بارے میں عام معافی کی تجویز پر سخت ردعمل03 October, 2007 | پاکستان استعفے بھی دے سکتے ہیں: بے نظیر03 October, 2007 | پاکستان ’حالات عوامی احتجاج کی جانب ‘03 October, 2007 | پاکستان استعفے جنرل مشرف کو روک سکیں گے؟03 October, 2007 | پاکستان ’مقصد، احتساب افسروں کو بچانا ہے‘03 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||